Mastuj, July 23, 2026: The historic long march from Broghil to Booni organized by Tehreek Mastuj-Broghil Road, which drew thousands of participants, was called off in Mastuj on Thursday afternoon on an assurance that the construction on the long-awaited Mastuj-Broghil Road would begin in a month.
The decision followed talks between the movement’s leaders and Khyber Pakhtunkhwa Assembly Deputy Speaker Suriya Bibi, the PTI MPA elected from the constituency, who arrived in the area to hold talks with the protesters.
Sources told ChitraToday that Suriya Bibi assured the Tehreek leaders on a stamp paper, with PTI Upper Chitral President Sikendarul Mulk as a guarantor, that work on the road would be formally started on Aug 23, 2026.
The total cost to construct the 157km long road has been estimated at Rs75 billion after a feasibility survey conducted by the National Engineering Services Pakistan (NESPAK) in the year 2025.
The deputy speaker said she was prepared to instantly initiate work on the road through a contractor on her own responsibility, even though the formal commencement of the project required the completion of legal and administrative procedures, including approval of funds and the tendering process.
She promised that she would make all-out efforts to complete the required formalities within a month so that construction work could officially begin on the road on August 23, 2026.
As an interim measure, work on 20 kilometres portion of the road to make it blacktop (asphalt) will begin immediately.
Moreover, all recommendations and related records submitted for the Public Sector Development Programme (PSDP) will be handed over to the representatives of the Tehreek.
Following the assurance, the leadership of Tehreek Mastuj-Broghil Road announced the temporary suspension of the long march.
However, the decision drew mixed reactions from the participants. Many expressed disappointment, describing the assurance as “another lollipop” and questioning why the movement was ended on what they viewed as a political commitment.
Several participants said a similar assurance had previously been offered by Suriya Bibi but was rejected by the movement’s leadership at the time. They argued that after mobilizing thousands of people from Broghil to Mastuj, ending the protest on what they considered the same promise had left many supporters dissatisfied.
They added that even launching work on a project does not guarantee timley completion and release of funds as several mega road projects have remained stalled even completion of almost 50pc of work.
They said the people of Yarkhun had come out in a large number and endured the long march for many days and were determined to take the long march to its logical conclusion.
They added that the PTI had won both the NA and PA seats due to the support of the people of Yarkhun but the provincial government despite making promises last year to start work first on 20km long stretch of the Yarkhun road failed to allocate funds for it in the budget.
The protesters were of the view that they had wanted to continue the long march with a hope that the deputy speaker would arrange the visit of Chief Minister Sohail Afridi to Upper Chitral to announce the construction of the road.
However, the Tehreek leaders, mostly PTI supporters, fell prey to party politics and decided to end the long march so abruptly only on the assurance of the deputy speaker when more people were ready to join and support the Tehreek.
Related:
Court Orders Release of Funds for Broghil Road Project
High Court Hearing Highlights Funding Issues for Chitral Roads


the long march sowed the seed of public awarmess on how to achieve their due right. Yarkhun has been a neglected area by political leadership.Now that its dewellors have realized the importance of ” movement is improvement “.
the long march sowed the seat of public awarness on how to achieve their due right..on the whole, it was really commendable initiative and will bear fruit IA.
That could only have been achieved in any case, either to continue the long march for a month or a few more days to Booni. Under the current situation, this is the best outcome of the protest.
The Yarkhun people not only set an example of huge turnout at the long march but also showed their decency and civilized manner of protest. The participants, mostly youth, did not for even a moment chanted an indecent slogan, or showed any hatred based on political affiliations.
Imtiaz Ali
میں اس جلسے کا عینی شاہد ہوں۔ بلکہ یوں کہیے کہ اس تاریخی منظرنامے کا ایک ایسا بے بس ناظر، جسے اپنی آنکھوں پر اُس وقت بھی یقین نہیں آ رہا تھا اور اب بھی نہیں آتا۔
جلسہ حسبِ روایت خطابت کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ محمد وزیر نوجوان مقررین، خصوصاً تازہ تازہ وکالت کی ڈگری ہاتھ میں پکڑے چند نووارد وکلا کو باری باری اسٹیج پر لا کر فنِ خطابت کی ریہرسل کرا رہے تھے۔ ان میں چند سیاسی نابالغ بھی شامل تھے، جن کی تقریر سے زیادہ ان کا جوشِ خطابت قابلِ دید تھا۔ الفاظ کبھی ان کے قابو میں آتے، کبھی وہ الفاظ کے قابو میں چلے جاتے، اور سامعین اس کشمکش سے محظوظ ہو رہے تھے۔
اتنے میں یکایک جلسہ گاہ کے دروازے پر ایسی ہلچل مچی جیسے کسی فلم کے ہیرو کی انٹری ہونے والی ہو۔ سرکاری پروٹوکول، پولیس کی نفری، گاڑیوں کا قافلہ اور درمیان میں ثریا بیگم ، ہمراہ ڈپٹی کمشنر عمران خان، ایسی شان سے جلوہ گر ہوئیں کہ ایک لمحے کو حاضرین کی آنکھوں میں امید کی ننھی کونپل پھوٹ پڑی۔ لوگوں نے ایک دوسرے کو کہنی مار کر سرگوشی کی: “لگتا ہے آج مستوج۔بروغل روڈ کا حکم نامہ بھی ساتھ ہی آیا ہے۔”
کچھ خوش فہم لوگوں نے تو یہاں تک گمان کر لیا کہ ابھی چند لمحوں میں فیتہ کٹے گا، سنگِ بنیاد رکھا جائے گا، بلڈوزر انجن گرم کریں گے اور شام تک سڑک آدھی مکمل بھی ہو جائے گی۔ ہمارے ہاں امید پر دنیا قائم ہے، اور سرکاری پروٹوکول پر امیدیں کچھ زیادہ ہی قائم ہو جاتی ہیں۔
مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
چند ہی لمحوں بعد ایک نان کسٹم پیڈ سوزوکی جیپ کا بونٹ میزِ مذاکرات قرار پایا، اس پر اسٹامپ پیپر رکھا گیا، قلم گردش میں آیا اور ایک ماہ کی مہلت دینے والے معاہدے پر دستخط ثبت ہو گئے۔ بس پھر کیا تھا! مستوج۔بروغل روڈ کے حامیوں نے اس اسٹامپ پیپر کو ایسے لہرا لہرا کر خوشی کا اظہار کیا جیسے کاغذ پر دستخط نہیں بلکہ سڑک پر ڈامر بچھ چکا ہو۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سڑک کاغذ سے نکل کر پہاڑوں پر دوڑنے ہی والی ہے۔
ادھر دستخط مکمل ہوئے، ادھر پروٹوکول نے اپنی ذمہ داری سنبھالی۔ پولیس کی گاڑیاں سائرن بجاتی آگے، سرکاری گاڑیاں پیچھے، اور قافلہ فاتحانہ انداز میں بونی کی سمت روانہ ہو گیا۔ منظر ایسا تھا جیسے کوئی عظیم الشان معرکہ سر کر لیا گیا ہو اور فاتح لشکر دارالحکومت واپس لوٹ رہا ہو۔
قافلہ نگاہوں سے اوجھل ہوا ہی تھا کہ پی ٹی آئی کے جیالے خوشی سے جھوم اٹھے۔ بھنگڑے کی ایسی دلکش اقسام دیکھنے کو ملیں کہ چترال کے روایتی رقاص بھی داد دیے بغیر نہ رہتے۔ دور سے دیکھنے والا یہی سمجھے کہ شاید عمران خان طویل اسیری کے بعد رہا ہو کر سیدھے جلسہ گاہ پہنچ گئے ہیں، یا کم از کم مستوج۔بروغل روڈ پر پہلا ٹرک بجری کا ان لوڈ ہو چکا ہے۔
آج مجھے تسلیم کرنے دیجیے کہ ثریا سیاست دان بن چکی ہیں۔
اس اعتراف میں مجھے کوئی عار نہیں، بلکہ ایک طرح کی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہمارے سیاسی میدان میں ایک اور فنکار کا اضافہ ہو گیا ہے۔ کیونکہ سیاست صرف تقریروں، جلسوں اور وعدوں کا نام نہیں؛ اصل سیاست تو یہ ہے کہ آدمی لالی پاپ اس انداز سے تھمائے کہ سامنے والا کچھ دیر کے لیے یہ بھول جائے کہ ہاتھ میں مٹھائی ہے یا صرف خوبصورت کاغذ۔
ہمارے دوست محمد وزیر خان، جو مستوج بروغل روڈ کی تاریخ کو آگے بڑھانے کے مشن پر کافی عرصے سے سرگرم ہیں، کو ایسی لالی پاپ پیش کی گئی کہ مستوج بازار کا پورا ہجوم ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔
لیکن حیرانی اس بات پر نہیں تھی کہ محمد وزیر خان کامیاب ہو گئے۔ حیرانی تو اس بات پر تھی کہ ثریا نے لالی پاپ ایسی نفاست، ایسی مہارت اور ایسی سیاسی مسکراہٹ کے ساتھ تھمائی کہ کسی کو یہ پوچھنے کی فرصت ہی نہ ملی کہ حضور! اس میں مٹھاس کتنی ہے اور کاغذ کتنا؟
مستوج یارخون روڈ پر کام شروع کروانے کے لیے اسٹامپ پیپر پر ایسے دستخط ہوئے جیسے یہ کوئی عام دستخط نہیں بلکہ پورے تعمیراتی نظام کا فرمان ہو۔ انداز ایسا تھا جیسے پشاور پہنچتے ہی وہ سیدھا چیف منسٹر آفس کے دروازے پر دستک دیں گی، دروازہ خود بخود کھل جائے گا، فائلیں سلام کریں گی، اور حکم نامہ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر مستوج پہنچ جائے گا۔
تب میں نے بھی دل سے مان لیا کہ واقعی ثریا سیاست دان بن چکی ہیں۔
کیونکہ سیاست میں سب سے بڑی کامیابی کام کر دینا نہیں، بلکہ کام ہونے کا ایسا یقین پیدا کر دینا ہے کہ لوگ کچھ عرصے تک سوال پوچھنا بھول جائیں۔
اب 23 اگست آئے گی۔ محمد وزیر خان پھر تازہ دم ہوں گے، چند پرجوش ساتھی جمع ہوں گے، اور ایک نئی کارنر میٹنگ کا اہتمام ہوگا۔ پہلی نشست بانگ میں ظہیرالدین کے گھر، دوسری دوبارگر میں سکیموٹ کے قاضی کے ہاں، اور تیسری یارخون لشٹ میں۔
پھر جب آخری اور فیصلہ کن اجلاس کا وقت قریب آئے گا، جو شاید مستوج کے تاریخی قلعے میں شہزادہ سکندر الملک کی قیادت میں منعقد ہو، تب تک جنوری کی سردیاں اپنی پوری شان سے میدان میں اتر چکی ہوں گی۔
پھر چترال کی یخ بستہ ہوائیں بھی شاید تحریک کے شرکاء سے کہیں گی: “جناب، جذبہ اپنی جگہ، مگر ذرا کمبل بھی دیکھ لیجیے۔”
نہ دھرنا ہوگا، نہ مارچ؛ صرف موسم ہوگا، برف ہوگی، اور ایک نئی تاریخ کا انتظار ہوگا۔
ثریا کو بھی معلوم ہے کہ ایسی تحریکوں کے لیے ایک سال کا وقفہ کوئی معمولی نعمت نہیں۔ موسم کا بہانہ ہمیشہ سے سیاست کا پرانا مگر نہایت وفادار ساتھی رہا ہے۔
سردیاں آئیں گی تو بروغل مستوج روڈ کی سیاسی کابینہ پشاور کا رخ کرے گی۔ وہاں ملاقاتیں ہوں گی، چائے کے کپ اٹھیں گے، کافی کے دور چلیں گے، چند تصاویر بنیں گی، اور پھر سب اگلے مناسب وقت کا انتظار کریں گے۔
پھر اگلے سال جولائی آئے گا۔ محمد وزیر خان اپنے قافلے کے ساتھ نئے جوش، نئی تاریخ اور پرانے مطالبے کے ساتھ پھر سڑکوں پر ہوں گے۔
محمد وزیر خان ، بس اپنا خیال رکھیے گا۔ سیاست کے اس سفر میں پاؤں سڑک کے پتھروں سے نہیں، وعدوں کی نرمی سے زیادہ پھسلتے ہیں۔ لالی پاپ کو مضبوطی سے تھامے رکھیے گا؛ آخر کار تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے قافلے منزل تک نہیں پہنچے، مگر لالی پاپ دینے والوں کے قصے ضرور پہنچ گئے۔