Staff Correspondent
Bang, July 21, 2026: A long march demanding the construction of the long-awaited Mastuj-Broghil road is continuing towards Booni, where participants have vowed to stage a sit-in outside the office of the Deputy Commissioner Upper Chitral until the government accepts their demand.
The march, organized under the banner of the Tehreek Mastuj-Broghil Road (TMBR), began from Broghil three days ago and has drawn participation from residents across Yarkhun Valley as it moves to Booni, the district headquarters of Upper Chitral, located at a distance of 175 kilometers.
Protesters say the absence of a proper road has deprived the remote areas consisting of about 50 villages of reliable access to healthcare, education, markets and other essential services.
As the march advances towards Booni, it has gained momentum with local residents joining the campaign and expressing solidarity with the movement in different villages.
Local residents arranged meals as the participants of the rally passed through different villages. The rally turned into public gatherings in various areas where speakers vowed to continue their drive for the basic rights of the people of the most remote but strategically vital area.
Organizers say the growing public support reflects the urgency of the long-pending demand for improved road connectivity.
Leaders of the Mastuj-Broghil Road Tehreek said the Mastuj-Broghil road is vital for the socio-economic development of the area and urged the federal and Khyber Pakhtunkhwa governments to immediately allocate funds for its construction.
The participants have pledged to continue their peaceful protest until the government announces practical measures to begin work on the road project.


@SARDAR NAWAZ KHAN
میکی سردار نواز کا انگریزی میں لکھا ہوا خط پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ خوشی ہوئی کہ کینیڈا کی یخ بستہ ہواؤں اور مصروفیات کے باوجود کوئی تو ہے جسے اب بھی چترال یاد ہے۔ مگر خط پڑھ کر وہ چبھن محسوس نہ ہوئی جس کی توقع سردار نواز کے قلم سے تھی۔ یوں محسوس ہوا جیسے یہ ان کی اپنی آواز نہیں، بلکہ رحمت غازی اور افتخار کے کسی جیالے کی صفائی پیش کرنے والی تحریر ہو۔ یہ وہ سردار نواز نہیں جسے میں جانتا ہوں؛ وہ سردار نواز جو سوال اٹھاتا ہے، پردے ہٹاتا ہے اور بات کو سیدھا نشانے پر رکھتا ہے۔ اسی لیے ان کے چند بنیادی نکات سے اختلاف ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔
افتخارالدین کا ذکر آیا تو خیال آیا کہ ہمارے ہاں سیاست میں کامیابی کی تعریف بھی عجیب ہے۔ پانچ سال اسمبلی میں گزار دیجیے، پھر اگر کوئی پوچھ لے کہ ان برسوں میں عوام کے لیے کیا کیا، تو جواب میں خاموشی کو بھی کارکردگی قرار دے دیا جاتا ہے۔ پانچ سال ایم این اے رہے، لیکن اگر ان کی سیاسی کارکردگی کو تلاش کرنے کے لیے باقاعدہ مہم چلانی پڑے تو شاید اخراجات کارکردگی سے زیادہ ہو جائیں۔
ووٹ جنرل پرویز مشرف کے نام پر لیے گئے، مگر سیاسی وفاداری کا قبلہ زیادہ دیر ایک جگہ نہ ٹھہر سکا اور رخ جلد ہی نواز شریف کی طرف مڑ گیا۔ شاید افتخار کو یہ خوش فہمی تھی کہ سیاست بھی باپ دادا کی جائیداد کی طرح نسلوں میں تقسیم ہوتی ہے، اور چترال کی سیاست کا تاج ہمیشہ انہی کے سر رہے گا۔ مگر سیاست بھی عجیب چیز ہے؛ یہاں وراثت کاغذ پر نہیں، عوام کے فیصلے سے چلتی ہے۔ وقت بدل چکا تھا۔
پانچ سال ایم این اے رہنے کے بعد سوال سادہ ہے: افتخار نے کیا کیا؟ لواری ٹنل کا کریڈٹ جنرل پرویز مشرف کے دور کو جاتا ہے۔ باقی اگر فہرست بنائی جائے تو گیس پلانٹ، بوزند روڈ اور دوسرے وعدے بار بار سنائی دیتے ہیں، مگر عوام آج بھی ان کے نتائج تلاش کر رہے ہیں۔ سیاست میں صرف تقریریں اور دعوے کافی نہیں ہوتے۔ پانچ سال بعد عوام حساب مانگتے ہیں، اور حساب میں الفاظ نہیں، کام لکھا جاتا ہے۔
میری رائے میں افتخار کے لیے شاید سیاست کے بجائے کوئی مشاورتی یا بین الاقوامی شعبہ زیادہ موزوں ہو سکتا تھا۔ سیاست صرف نام، عہدے یا خاندانی پس منظر سے نہیں چلتی؛ اس کے لیے سیاسی فہم، عوامی مزاج کی سمجھ اور میدان کی نبض پکڑنے کی صلاحیت بھی چاہیے۔
رحمان غازی کی بات بھی سن لیجیے۔ ایک اچھا بیوروکریٹ ہونا یقیناً قابلِ تعریف بات ہے، مگر یہ سمجھ لینا کہ اچھی فائل سنبھالنے والا لازماً اچھا سیاست دان بھی ہوگا، ایسا ہی ہے جیسے کوئی بہترین سرجن یہ دعویٰ کرے کہ اب وہ طیارہ بھی اڑا لے گا، آخر دونوں کاموں میں ہاتھ ہی تو استعمال ہوتے ہیں۔
بیوروکریسی میں حکم اوپر سے آتا ہے اور عمل نیچے ہوتا ہے۔ سیاست میں حکم نیچے سے آتا ہے اور اوپر والوں کو ماننا پڑتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو اکثر ریٹائرڈ افسروں کی سمجھ میں دیر سے آتا ہے۔ دفتر میں ماتحت “جی سر” کہتے تھے، سیاست میں ووٹر خاموشی سے گھر بیٹھ جاتا ہے، اور یہی خاموشی سب سے بلند جواب ثابت ہوتی ہے۔
میری رائے میں چیف کو ریٹائرمنٹ سے دشمنی نہیں کرنی چاہیے۔ زندگی بھر سرکاری فائلوں سے نبرد آزما رہنے کے بعد اگر فرصت کے چند برس ملے ہیں تو انہیں سیاست کے تجربہ گاہ میں ضائع کرنے کے بجائے دوستوں کے ساتھ چائے، پرانی یادوں اور ایک آدھ سگار کے نام کر دیجیے۔ پشاور میں چند دن، چارون میں کچھ وقت، رشتہ داروں سے ملاقاتیں—یہ سب کسی ناکام انتخابی مہم سے کہیں زیادہ سکون بخش سرمایہ ہیں۔
شاید انہیں یہ خوش فہمی تھی کہ جس طرح بیوروکریسی میں عہدے نوٹیفکیشنوں کی سیاہی سے مل جاتے ہیں، سیاست میں بھی اقتدار کا پروانہ کسی سرکاری فائل سے نکل آئے گا۔ مگر جمہوریت کی ستم ظریفی یہی ہے کہ یہاں عوام کا فیصلہ کسی سیکرٹری کے دستخط یا کسی نوٹیفکیشن کی مہر کا محتاج نہیں ہوتا۔ ووٹر کے انگوٹھے پر صرف عوام کی مرضی چلتی ہے، سرکاری قلم نہیں۔
حاجی غلام محمد کا معاملہ بھی کم دلچسپ نہیں۔ انہوں نے اتنی سیاسی جماعتیں بدلیں کہ اب اگر کوئی ان سے پوچھے کہ اصل نظریہ کیا ہے تو شاید وہ بھی چند لمحے سوچنے پر مجبور ہو جائیں۔ پارٹی بدلنا سیاست کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن بار بار بدلنا آخرکار شخصیت کا تعارف بن جاتا ہے۔ نظریات اگر ہر انتخاب کے ساتھ تبدیل ہونے لگیں تو پھر وہ نظریات نہیں، موسمی ملبوسات رہ جاتے ہیں۔
سیاست میں ٹھیکیداری کا اصول نہیں چلتا کہ آج ایک منصوبے کا ٹھیکہ لیا، کل کسی اور جماعت کا پرچم اٹھا لیا۔ یہاں وفاداریاں فائلوں کے ٹینڈروں کی طرح تبدیل نہیں ہوتیں۔ عوام کبھی کبھی فیصلہ کرنے میں وقت لیتے ہیں، مگر جب فیصلہ کرتے ہیں تو شور نہیں مچاتے؛ خاموشی سے ایسا فیصلہ سناتے ہیں جس کی گونج اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتی ہے۔
آخر میں ان لوگوں کا ذکر ضروری ہے جو علاقے کے مسائل، خصوصاً سڑک اور بنیادی سہولیات کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ ان کی ہر بات سے اتفاق ضروری نہیں، لیکن کم از کم انہوں نے جمود کو چیلنج کیا ہے۔ ممکن ہے سڑک آج نہ بنے، ممکن ہے کل بھی نہ بنے، مگر دباؤ پیدا کرنا بھی سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ ہر تحریک اقتدار تک نہیں پہنچتی، مگر ہر سوال اقتدار کو بے چین ضرور کرتا ہے۔
اور شاید ہماری سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہاں لوگ عوام کی خدمت کے لیے سیاست میں کم، اور سیاست کی خدمت اپنے لیے زیادہ کرتے ہیں۔ جب تک اس ترتیب کو الٹنے کی کوشش نہیں ہوگی، تب تک نئے چہرے آئیں گے، پرانی تقریریں دہرائیں گے، اور عوام ہر پانچ سال بعد یہ سوچتے رہیں گے کہ اس بار شاید فرق ہو۔ فرق البتہ صرف انتخابی پوسٹروں کے رنگ میں آتا ہے، نتائج میں نہیں۔
If the Prince Iftikhar Uddin had remained MNA until now, all of Chitral’s major problems would have been solved. He knew how to solve problems and his vision was for the long term planning and his thinking was always about sustainable and long term development. PTI has been in power in Khyber Pakhtunkhwa for 15 years. Can you point to even one major development project they have delivered. I am not criticizing PTI and i don’t have any political interest. As a chitrali iam sharing my opinion and views. If my views offends anyone or they don’t like it, I apologize and forgive me.
Leadership is not defined by organizing public rallies or processions. Rather, true and visionary leadership is demonstrated by resolving the region’s critical challenges through meaningful dialogue, strategic engagement, and effective influence with the relevant authorities.
There is no doubt that the Broghil Road is of immense strategic and economic importance. It serves as a vital gateway for the development and future prosperity of the entire Chitral region.
Instead of focusing on public gatherings, the people of Mastuj Division should entrust this responsibility to experienced and respected leaders such as Prince Iftikhar, Rakhmat Ghazi, Sardar hussain ,Gholam Mohammad, and other capable representatives from Chitral. Through constructive dialogue and coordinated efforts, they can more effectively advocate for the region’s legitimate needs and help secure practical solutions to public issues.
At this busy time, it is worth considering whether it is necessary to inconvenience the people of Yarkhun. Whether the matter falls under the jurisdiction of the provincial or the federal government, it is ultimately the local population that bears the burden.
Setting political differences aside and working together in the collective interest of the people is the most constructive path forward. Unity, cooperation, and sincere commitment to the public good will always achieve more than division and confrontation.
May Allah Almighty strengthen the unity of the people, guide our leaders with wisdom, and bless our region with lasting peace, progress, and prosperity. Ameen.
ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنا دینا کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں۔ سڑک پر بیٹھ جانا آسان ہے، لیکن اصل امتحان اقتدار میں بیٹھ کر کام کرنا ہے۔ اگر چترال کے عوام واقعی اپنے حقوق کے لیے نکلے ہیں تو پھر صرف وفاقی حکومت کو نشانہ بنانا کافی نہیں۔ سوال اپنے منتخب نمائندوں سے بھی ہونا چاہیے۔
پہلا سوال یہی ہے: ثریا، آپ سے حساب کون مانگے گا؟ عوام نے آپ کو ایم پی اے منتخب کیا تھا تاکہ آپ ان کے مسائل اسمبلی میں اٹھائیں، نہ کہ صرف احتجاجی ہجوم تیار کریں۔ نمائندگی کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو جمع کیا جائے، کھانے کا بندوبست کیا جائے، ٹرانسپورٹ چلائی جائے اور پھر اسے عوامی خدمت کا نام دے دیا جائے۔
بالائی چترال کے حالیہ دورے میں احتجاجی شرکا سے خطاب کے حوالے سے کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے خوراک، ٹرانسپورٹ، رہائش اور دیگر انتظامات کا وعدہ کیا گیا تو یہ وسائل کہاں سے آئیں گے؟ اگر سیاسی سرگرمیوں کے لیے وسائل موجود ہیں تو عوام کو جاننے کا حق ہے کہ ان کا ذریعہ کیا ہے۔
جب ثریا 2024 کے انتخابات میں پہلی مرتبہ میدان میں اتریں تو ان کی مالی حیثیت کیا تھی؟ اور آج چند ہی برس بعد اگر بڑے سیاسی اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے وسائل دستیاب ہیں تو سوال بنتا ہے: یہ پیسہ کہاں سے آیا؟
اگر تقریباً دو ارب روپے کا منصوبہ گھوڑوں کے اصطبل کی تعمیر کے لیے منظور ہوا ہے تو عوام کو یہ پوچھنے کا حق ہے کہ چترال کے موجودہ مسائل کے مقابلے میں ایسے منصوبے کتنے ضروری تھے۔ کیا یہی وہ ترجیحات ہیں جن کے لیے عوام نے اپنے نمائندے منتخب کیے تھے؟
یہ سوال کسی ایک منصوبے تک محدود نہیں، بلکہ اس سوچ کا سوال ہے کہ عوامی پیسہ کہاں اور کس مقصد کے لیے خرچ ہو رہا ہے۔ جب عام آدمی سڑک، صحت، تعلیم اور روزگار کے لیے پریشان ہو تو ہر بڑے منصوبے کی عوامی ضرورت اور افادیت واضح ہونی چاہیے۔
پھر پولیس کے کردار کا معاملہ بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر ایک ایم پی اے احتجاجی شرکا کو مکمل پولیس سیکیورٹی دینے کی بات کرتی ہیں تو سوال بنتا ہے کہ پولیس کس کے لیے ہے؟ عوام کے تحفظ کے لیے یا سیاسی سرگرمیوں کی سہولت کاری کے لیے؟ ریاستی ادارے عوام کے ہوتے ہیں، کسی سیاسی منصوبے کے نہیں۔
ثریا اور پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست صرف مخالفین کے خلاف احتجاج کا نام نہیں۔ سیاست عوام کے سامنے جواب دہ ہونے کا نام ہے۔
چترال کے لوگ کسی کے سیاسی شو کا ایندھن نہیں بن سکتے۔ وہ ووٹر ہیں، تماشائی نہیں۔ اس لیے سوال اب بھی وہی ہیں: احتجاج کے انتظامات کا خرچ کہاں سے آیا؟ سیاسی سرگرمیوں کے لیے وسائل کہاں سے آئے؟ ترقیاتی ترجیحات کس بنیاد پر طے ہوئیں؟ اور عوام کے اصل مسائل کا حساب کب دیا جائے گا؟ کیونکہ اب وقت صرف نعرے سننے کا نہیں، جواب سننے کا ہے۔
وفاقی حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسانے، ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے احتجاجی جلسوں کو سپانسر کرنے، اپنی نااہلی چھپانے اور امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کے معاملے پر ثریا کے خلاف نہ صرف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے، انہیں ڈی سیٹ کرے اور ان کی نشست پر دوبارہ انتخابات کا حکم دے۔ ایک منتخب نمائندہ اگر اپنے عہدے، اختیارات اور عوامی اعتماد کا غلط استعمال کرے تو اسے جواب دہ ہونا چاہیے۔ عوام نے نمائندگی کے لیے ووٹ دیا ہے، سیاسی انتشار اور ذاتی مفادات کے لیے نہیں۔