عبدالولی خان خاموش
25 مئی 1955ء کو چترال کے خوبصورت گاؤں کوشت میں محمد بیگے قبیلے کے شیر دونی خان لال کے ہاں پیدا ہونے والا عبد الولی خود خاموش رہتا ہے
25 مئی 1955ء کو چترال کے خوبصورت گاؤں کوشت میں محمد بیگے قبیلے کے شیر دونی خان لال کے ہاں پیدا ہونے والا عبد الولی خود خاموش رہتا ہے
مولانا حبیب اللہ یفتالی نے خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال کی وادی لاسپور کے آخری گاؤں سور لاسپور میں لگا شیرے قبیلے کے صوفی تاج الدین کے ہاں 1950 میں آنکھ کھولی۔
دھڑکنوں کی زبان محمد جاوید حیاتمیرے ابو غضب کے قصہ گو تھے۔ قصہ کیا سناتے، اپنے اوپر گزرے واقعات کبھی افسردہ ہو کے، کبھی آب دیدہ ہو کے اور کبھی بڑے جذبے اور شادمانی سے سناتے۔ ان کی باتیں ہمیں اکثر قصے لگتیں، اس لیے کہ ہمارے ارد گرد ایسے کوئی زندہ کردار نہ تھے
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے اٹلی، سپین اور قطر کا سفر کیا تو ایک ساتھ دو الگ الگ سفرنامے دو زبانوں میں لکھے۔ اردو سفر نامے کا نام “وسعت صحرا” تھا
چترال کا مقدمہ کسی کتاب میں نہیں، کسی عدالت میں بھی نہیں۔ یہ مقدمہ دلوں سے زبان تک آتا ہے، زبان سے قلم تک آنے کی تمنا رکھتا ہے۔ کسی دانشور کا قول ہے، جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے سے پہلے جابر سلطان سے اجازت لینی چاہیے۔