دھڑکنوں کی زبان
محمد جاوید حیات
اسلام نے سادہ زندگی گزارنے پر جتنا زور دیا ہے، کسی دوسرے مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر کسی اور مذہب میں سادگی کا تصور ہے بھی تو وہ ایک الگ ہی انداز کا ہے؛ وہاں لوگ یا تو تارک الدنیا ہو جاتے ہیں یا پھر اپنا ایک الگ مسلک بنا کر خود کو معاشرے سے کاٹ لیتے ہیں۔ ہمارے سامنے بدھ مت کے بھکشو، جوگی، راہب، نَن اور تیاگی وغیرہ کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ اسلام نے اس طرزِ زندگی کو “رہبانیت” قرار دیا اور اس سے سختی سے روکا ہے۔ قرآنِ عظیم الشان میں انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کی خوبصورتی اور بھلائی مانگنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ جس انسان کی زندگی عینِ اسلام کے مطابق گزرے، اس کی دنیا بھی یقیناً خوبصورت ہوتی ہے اور آخرت تو بہرحال خوبصورت ہوگی ہی۔ اسلام میں زندگی کی ضروریات کا ایک واضح تعین موجود ہے، اور سب سے بڑی دولت عافیت، قناعت، صبر اور شکر کو قرار دیا گیا ہے۔
زندگی کی بوقلمونیاں ایک مسلمہ حقیقت ہیں۔ ہر انسان کو دنیا کی تمام آسائشوں اور تمام دولت سے نہیں نوازا جاتا۔ اگر ایسا ہو جائے تو یہ دنیا “دار الاسباب” اور امتحان گاہ نہیں رہے گی، بلکہ جنت بن جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ جس کے پاس اولاد کی نعمت ہے، ممکن ہے اس کے پاس بڑی جائیداد نہ ہو؛ جس کے پاس بڑا عہدہ ہے، ہو سکتا ہے وہ دل کے سکون سے محروم ہو؛ جو شہر میں رہتا ہے، اس کی زندگی گاؤں کے مقابلے میں غیر محفوظ ہو سکتی ہے؛ اور جس کے پاس حسن کی دولت ہے، بعید نہیں کہ وہ مال و زر سے محروم ہو۔
کوئی بھی اپنے حال میں خوش نہیں، کسی کو اپنی ملی ہوئی نعمتیں نظر نہیں آتیں، بلکہ دوسروں کی نعمتوں کی آرزوئیں انسان کو تھکا دیتی ہیں۔ اس مایوسی، ناشکری اور بے صبری کا واحد حل اسلام نے قناعت اور شکر کی صورت میں پیش کیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ اگر میرا بندہ میری عطا کردہ نعمت پر شکر ادا کرے گا تو میں اسے اور زیادہ دوں گا۔
آج ہمارے معاشرے میں بے چینی کی سب سے بڑی وجہ صبر، شکر اور قناعت جیسی عظیم دولت سے محرومی ہے۔ قناعت سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی نعمتوں میں سے جتنا کچھ ملا ہے، وہ اس پر راضی رہے اور رب کا شکر ادا کرے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ انسان اپنی صورت، اپنی سیرت، اپنے دین اور اپنی اولاد کو کبھی نعمت سمجھتا ہی نہیں! وہ دوسروں کی ظاہری شان و شوکت دیکھ کر مرعوب ہو جاتا ہے، حالانکہ وہ شخص جو ظاہری شان و شوکت کا حامل ہے، پردے کے پیچھے کن مصائب سے گزر رہا ہے، اس ناشکرے انسان کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔
آج پورا معاشرہ اضطراب اور بے چینی کا شکار ہے۔ اگر خودکشی کرنے والے کسی فرد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کے پاس رب کی دی ہوئی بے شمار نعمتیں موجود تھیں، جن کا اس نے کبھی ادراک ہی نہیں کیا۔ محض ایک معمولی محرومی یا ناکامی ہوتی ہے جو اسے زندگی سے مایوس کر دیتی ہے۔ اس ذہنی صدمے (ٹروما) کو نہ والدین محسوس کر پاتے ہیں اور نہ اساتذہ، اور یوں پورا معاشرہ اسے محرومی کا شکار بنا دیتا ہے۔
ایک مرتبہ میں بی ایڈ (B.Ed) کی بڑی کلاس میں طلبہ سے ان کا تعارف پوچھ رہا تھا۔ بچے بڑے فخر اور لہک لہک کر اپنے والدین کے عہدوں اور ان کے سماجی اسٹیٹس کے بارے میں بتا رہے تھے۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ ایک بچی سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی۔ میں نے اس کے اندر کے درد کو محسوس کیا اور اسے کھڑے ہونے کو کہا۔
جب وہ کھڑی ہوئی تو میں نے کہا: “بیٹا! کیا تمہارے ابو کماؤ ہیں؟ اگر ہیں، تو بس یہ سوچو کہ وہ حلال کما رہے ہیں یا نہیں۔ تمہارا معیار صرف حلال ہونا چاہیے، اور اگر وہ حلال کما رہے ہیں تو فخر کے ساتھ ان کا تعارف کراؤ۔”
یہ سن کر اس نے فخر سے کہا: “سر! میرے ابو مستری ہیں۔” وہی بچی آگے چل کر محنت کر کے لیکچرار بن گئی۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: “سر! آپ کے اس دن کے حوصلے نے مجھے آج لیکچرار بنا دیا۔”
حقیقت یہ ہے کہ ہم خود قناعت کی دولت سے محروم ہیں، اسی لیے اپنی اولاد کو بھی قناعت نہیں سکھا پاتے۔ ہم دولت کی ہوس میں غرق ہو چکے ہیں۔ ہماری نمود و نمائش، لالچ، حرص اور بدعنوانیاں اسی محرومی سے جنم لیتی ہیں۔ آگے بڑھنے کا ہمارا شوق ایک گھناؤنا کھیل بن جاتا ہے اور ہم خواہشات کے طوفان میں خس و خاشاک کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں۔ دولت کی اس ریل پیل میں ہم اپنے بچوں کو انسانیت کا درس دینا بھول جاتے ہیں؛ وہ تعلیم کی بڑی بڑی ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن انسانیت کے امتحان میں پہلی جماعت بھی پاس نہیں کر پاتے۔
دانا لوگوں کا قول ہے:
”دنیاوی امور میں ہمیشہ اپنے سے کم تر کو دیکھو، اور دینی امور میں اپنے سے برتر کو دیکھو۔”
اگر صبر و شکر اور قناعت کی نعمت ہمیں میسر آ جائے تو ہم اپنی زندگی ہی کو ایک عظیم نعمت سمجھنے لگیں گے۔ پھر غریب اپنی جھونپڑی میں بادشاہی کا لطف اٹھائے گا اور امیر اپنے محل میں سکون سے رہے گا۔ نعمتوں کا بے جا مقابلہ ختم ہو جائے گا، محرومیوں پر افسردگی نہیں ہوگی، حسد، بغض اور کینہ سر نہیں اٹھائیں گے، نفرتیں دفن ہو جائیں گی، اور اونچ نیچ کا فرق مٹ جائے گا۔
انگریز شاعر چارلس میکے (Charles Mackay) نے “دریائے ڈی کا پن چکی والا” (The Miller of the Dee) کے عنوان سے ایک بڑی خوبصورت نظم لکھی ہے۔ دریائے ڈی کے قریب ایک پن چکی والا دن رات خوشی سے گاتا رہتا تھا۔ ایک بار وہاں کا بادشاہ “ہیری” اس کے پاس پہنچتا ہے اور پوچھتا ہے: “تم اتنے خوش اور مطمئن کیوں رہتے ہو؟ تمہاری اس خوشی کا راز کیا ہے؟”
پن چکی والے نے اپنی گرد آلود ٹوپی اتاری، اسے جھاڑا اور بولا: “بادشاہ سلامت! میں دریائے ڈی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس کے پانی سے میری چکی چلتی ہے اور مجھے اس کا ایک پیسہ بھی نہیں دینا پڑتا۔ میں اپنی چکی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس کی مزدوری سے میں اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہوں۔ اور میں اپنے ان دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ اس دنیا میں مجھے اور کوئی غم نہیں ہے۔”
بادشاہ نے رشک سے کہا: “میرے دوست! تمہاری یہ گرد آلود ٹوپی میرے اس شاہی تاج سے کہیں زیادہ قیمتی ہے!”
ہم نے خوش اور مطمئن رہنا سیکھا ہی نہیں ہے۔ ہماری 95 فیصد پریشانیاں خود ہماری اپنی پیدا کردہ ہیں۔ اگر ہمیں صبر، شکر اور قناعت کی حقیقی دولت میسر آ جائے تو ہم تمام تر ذہنی و قلبی پریشانیوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
بس یہی حاصلِ کلام ہے کہ: “اللہ میرے لیے کافی ہے۔”

