دورہ پاس: چترال سے دوشنبے تک سب سے مختصر، قابلِ عمل راہداری


تحریر: شہزادہ تیمور خسرو
چترال سے دوشنبے تک مجوزہ راستے درج ذیل ہیں۔ دورہ پاس کے ذریعے، جو افغانستان کے واخان کوریڈور سے گزرتا ہے، کل فاصلہ تقریباً 816 کلومیٹر بنتا ہے، جس میں چترال سے دورہ پاس تک تقریباً 82 کلومیٹر، دورہ پاس سے اشکاشم تک 101 کلومیٹر، اشکاشم سے خاروغ تک 110 کلومیٹر اور خاروغ سے دوشنبے تک 523 کلومیٹر شامل ہیں۔
بروغل پاس کے ذریعے، جو واخان کوریڈور سے گزرتا ہے، کل فاصلہ تقریباً 1,000 سے 1,020 کلومیٹر بنتا ہے، جس میں چترال سے بروغل تک تقریباً 350 کلومیٹر، واخان کوریڈور سے ہوتے ہوئے اشکاشم تک تقریباً 120 کلومیٹر، پھر اشکاشم سے خاروغ تک 110 کلومیٹر اور خاروغ سے دوشنبے تک 523 کلومیٹر شامل ہیں۔
اس طرح دورہ پاس کا راستہ بروغل پاس کے راستے کے مقابلے میں تقریباً 180 سے 200 کلومیٹر مختصر ہے۔ تاہم، اس وقت ان دونوں راستوں پر معمول کی بین الاقوامی زمینی آمدورفت ممکن نہیں، کیونکہ ان میں پاکستان سے افغانستان اور پھر افغانستان سے تاجکستان کی سرحد عبور کرنا شامل ہے، جبکہ فی الحال اس راستے پر باقاعدہ بین الاقوامی ٹرانزٹ دستیاب نہیں۔
البتہ افغان حکومت دورہ پاس تک میٹلڈ (پختہ) سڑک تعمیر کر چکی ہے، جس کی وجہ سے یہی راستہ نسبتاً زیادہ قابلِ عمل، موزوں اور حقیقت پسندانہ سمجھا جاتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest