Chitral fort, Shahi Qila Chitral.

Ex-Princely States’ Ruling Families Get Rs40.9m from Govt

Zulfiqar Ahmad
ISLAMABAD: Former ruling families of princely states that acceded to Pakistan continue to receive Rs40.94 million a year from the public purse in maintenance allowances, according to figures presented before a Senate committee on Wednesday.

The largest annual payments go to the former ruling houses of Bahawalpur and Junagadh, which receive Rs12 million each. The former ruling families of Khairpur and Manavadar receive Rs8.4 million each.

Officials told the Senate Standing Committee on Kashmir Affairs, Gilgit-Baltistan and States and Frontier Regions (SAFRON), chaired by Senator Asad Qasim, that a total of Rs40,935,600 was currently being distributed annually among former rulers, their successors and dependants.

The list of beneficiaries also includes members of the former ruling families of Dir, Makran, Kalat and Chitral, as well as the Sheikh Sahib of Mangrol.

The amounts vary considerably. While the former ruling houses of Bahawalpur and Junagadh receive Rs12 million each annually, some beneficiaries receive as little as Rs9,000, while others receive Rs75,600 a year.

The payments are split between two government institutions, with the Ministry of Kashmir Affairs, Gilgit-Baltistan and SAFRON disbursing Rs20.46 million and the Finance Division another Rs20.4756 million.

The payments are linked to financial and administrative arrangements made with former rulers and their families at the time of the accession of princely states to Pakistan in 1947 and in subsequent years.

Although the former rulers later lost their political authority and ceased to exercise direct control over their former states, the allowances have continued in some cases for decades.

The briefing did not indicate when the payments were due to end, whether they had recently been reviewed, or whether the government had considered revising or withdrawing them.

The committee took no decision on the continued allowances, despite the disclosure of the substantial annual payments from the public purse, with some members questioning the continuation of what they described, with irony, as a “privilege”.

–ChitralToday

Related:

Mehtar Aman-ul-Mulk and the rise of Chitral

1 thought on “Ex-Princely States’ Ruling Families Get Rs40.9m from Govt”

  1. ہم نے پاکستان بنایا تھا تاکہ ایک نئی ریاست وجود میں آئے۔ایک ایسی ریاست جس میں شہری کی حیثیت اس کے باپ کے عہدے، دادا کے تخت یا خاندان کے نام سے طے نہ ہو۔

    لیکن شاید ہم نے کچھ چیزیں بدلنے میں جلدی کی اور کچھ چیزیں بدلنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔تاج اتار دیے گئے۔
    ریاستیں ختم کر دی گئیں۔حکمرانوں کے اختیارات واپس لے لیے گئے۔مگر ان کے خرچ کو محفوظ رکھا گیا۔

    آج بھی حکومت پاکستان سابق ریاستوں کے حکمرانوں، ان کے جانشینوں اور زیرِ کفالت افراد کو سالانہ چار کروڑ نو لاکھ پینتیس ہزار چھ سو روپے ادا کرتی ہے۔

    بہاولپور کے امیر کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ روپے سالانہ ہیں۔جوناگڑھ کے نواب کے لیے بھی ایک کروڑ بیس لاکھ روپے۔خیرپور کے میر اور مناوادر کے خان کو چوراسی لاکھ روپے فی کس ملتے ہیں۔دیر، مکران، قلات، چترال اور منگرول کے سابق حکمران خاندانوں کے دیگر افراد بھی اس فہرست میں موجود ہیں۔

    کسی کے لیے سالانہ نو ہزار روپے۔کسی کے لیے پچھتر ہزار چھ سو روپے۔

    رقم کا کچھ حصہ وزارتِ کشمیر امور، گلگت بلتستان و سیفران دیتی ہے اور باقی فنانس ڈویژن۔یعنی خزانہ بھی اس قدیم روایت کی خدمت میں دو محاذوں پر مصروف ہے۔

    ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ سب 1947 میں کیے گئے مالی اور انتظامی انتظامات کی وجہ سے ہے۔ یہ دلیل سننے میں بڑی معقول لگتی ہے۔آخر معاہدے معاہدے ہوتے ہیں۔لیکن ریاستیں بھی تو معاہدوں سے بدلتی ہیں۔اقتدار بھی تو معاہدوں سے منتقل ہوتا ہے۔اور کبھی کبھی قومیں بھی پرانے معاہدوں سے نکل کر نئی زندگی شروع کرتی ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اگر ایک حکمران کا اقتدار ختم ہو سکتا ہے تو اس کے مالی استحقاق کی عمر کیوں ختم نہیں ہوتی؟اگر ریاست ختم ہو سکتی ہے تو ریاستی وظیفہ کیوں نہیں؟اگر رعایا شہری بن سکتی ہے تو حکمران کا وارث شہری بن کر کیوں نہیں رہ سکتا؟

    یہاں مسئلہ چار کروڑ روپے کا نہیں۔مسئلہ اصول کا ہے۔چار کروڑ روپے پاکستان کے کل بجٹ کے مقابلے میں شاید معمولی رقم ہوں۔لیکن کسی قوم کا اخلاقی زوال ہمیشہ بڑے اعداد سے شروع نہیں ہوتا۔کبھی کبھی وہ چند کروڑ سے شروع ہوتا ہے جنہیں ہم یہ کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں کہ رقم تو بہت کم ہے۔

    اصل سوال یہ ہے کہ یہ رقم کس تصور کی نمائندگی کرتی ہے۔کیا پاکستان میں پیدائش اب بھی ایک سرکاری استحقاق ہے؟کیا کسی خاندان کے ماضی میں حکمران ہونے کی وجہ سے اس کے موجودہ افراد کو عوامی خزانے پر مستقل حق حاصل ہو جاتا ہے؟

    اگر ایسا ہے تو پھر جمہوریت نے بادشاہت سے صرف تاج لیا ہے، اس کا بنیادی اصول نہیں۔غریب آدمی سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے۔اسے ٹیکس دینا ہے۔بجلی مہنگی ہے، برداشت کرو۔پٹرول مہنگا ہے، برداشت کرو۔مہنگائی ہے، برداشت کرو۔قرض ہے، برداشت کرو۔ملک کے لیے قربانی دو۔یہ سب نصیحتیں درست بھی ہو سکتی ہیں۔

    مگر ان نصیحتوں کی اخلاقی قوت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب قربانی کا مطالبہ سب سے کیا جائے۔ریاست اگر اپنے عام شہری سے کفایت شعاری مانگتی ہے تو اسے اپنے غیر معمولی استحقاقات کا بھی حساب دینا چاہیے۔ورنہ شہری کے لیے یہ سوال بالکل جائز ہے:میں اس ملک کا شہری ہوں یا اس کے خزانے کا کفیل؟اور جس خاندان کی ریاست کبھی میری ریاست سے الگ تھی، اس کے وارث میرے پیسوں کے مستقل مستحق کیوں ہیں؟

    سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے یہ اعداد آئے۔سوال بھی اٹھا۔لیکن فیصلہ نہیں ہوا۔شاید یہی ہماری اصل مشکل ہے۔ہم پرانے نظاموں کو ختم کرنے کے بجائے ان کے گرد جمہوری پردہ ڈال دیتے ہیں۔بادشاہت ختم کر دیتے ہیں، مگر بادشاہ کے وارث کو پنشن دیتے رہتے ہیں۔

    جاگیرداری کے خلاف تقریریں کرتے ہیں، مگر جاگیردار کے استحقاق کو احترام سے دیکھتے ہیں۔مساوات کی بات کرتے ہیں، مگر وراثت میں ملنے والے مراعات کو ’’تاریخی انتظام‘‘ کہہ دیتے ہیں۔قومیں صرف نئے قوانین سے جدید نہیں ہوتیں۔انہیں اپنے پرانے ذہنی بت بھی توڑنے پڑتے ہیں۔ورنہ پرانے محل خالی ہو جاتے ہیں، مگر ان کے سائے سرکاری فائلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

    اور شاید یہی اس خبر کا سب سے تلخ پہلو ہے۔بادشاہت 1947 میں ختم ہوئی تھی۔لیکن ہم نے اس کے ساتھ مکمل انصاف آج تک نہیں کیا۔ہم نے تاج واپس لے لیا۔حقِ خرچ نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest