تحریر: شہزادہ تیمور خسرو
چترال سے دوشنبے تک مجوزہ راستے درج ذیل ہیں۔ دورہ پاس کے ذریعے، جو افغانستان کے واخان کوریڈور سے گزرتا ہے، کل فاصلہ تقریباً 816 کلومیٹر بنتا ہے، جس میں چترال سے دورہ پاس تک تقریباً 82 کلومیٹر، دورہ پاس سے اشکاشم تک 101 کلومیٹر، اشکاشم سے خاروغ تک 110 کلومیٹر اور خاروغ سے دوشنبے تک 523 کلومیٹر شامل ہیں۔
بروغل پاس کے ذریعے، جو واخان کوریڈور سے گزرتا ہے، کل فاصلہ تقریباً 1,000 سے 1,020 کلومیٹر بنتا ہے، جس میں چترال سے بروغل تک تقریباً 350 کلومیٹر، واخان کوریڈور سے ہوتے ہوئے اشکاشم تک تقریباً 120 کلومیٹر، پھر اشکاشم سے خاروغ تک 110 کلومیٹر اور خاروغ سے دوشنبے تک 523 کلومیٹر شامل ہیں۔
اس طرح دورہ پاس کا راستہ بروغل پاس کے راستے کے مقابلے میں تقریباً 180 سے 200 کلومیٹر مختصر ہے۔ تاہم، اس وقت ان دونوں راستوں پر معمول کی بین الاقوامی زمینی آمدورفت ممکن نہیں، کیونکہ ان میں پاکستان سے افغانستان اور پھر افغانستان سے تاجکستان کی سرحد عبور کرنا شامل ہے، جبکہ فی الحال اس راستے پر باقاعدہ بین الاقوامی ٹرانزٹ دستیاب نہیں۔
البتہ افغان حکومت دورہ پاس تک میٹلڈ (پختہ) سڑک تعمیر کر چکی ہے، جس کی وجہ سے یہی راستہ نسبتاً زیادہ قابلِ عمل، موزوں اور حقیقت پسندانہ سمجھا جاتا ہے۔



کبھی کبھی قدرت بھی ایسا طنز کرتی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ایک شخص کو تیس سال تک کرسی، دفتر، فائلیں اور اختیار دیے جاتے ہیں، مگر جیسے ہی یہ سب واپس لیا جاتا ہے، اس کے اندر چھپا ہوا عالمی مفکر، جغرافیہ دان اور پالیسی ساز اچانک بیدار ہو جاتا ہے۔
کل تک تیمور خسرو کی دنیا ایک میز، ایک کرسی، چند فائلوں اور ایک سرکاری ٹیلی فون کی حدود تک محدود تھی۔ آج وہ چترال سے دوشنبے تک ایسے راستے تلاش کر رہے ہیں جیسے پہاڑ ان کے پرانے ماتحت ہوں، درّے ان کے احکامات کے منتظر ہوں اور سرحدیں صرف ان کی منظوری کی محتاج ہوں۔
ریٹائرمنٹ واقعی ایک غیر معمولی طاقت رکھتی ہے۔ یہ وہ معجزاتی مرحلہ ہے جہاں ایک سابق افسر چند ہی دنوں میں ماہرِ جغرافیہ، ماہرِ خارجہ پالیسی، ترقیاتی منصوبہ ساز اور علاقائی حکمتِ عملی کے استاد کے منصب پر فائز ہو جاتا ہے۔ کل تک اگر کوئی سوال کرتا تھا: “تیمور خسرو، یہ کام کب ہوگا؟” تو جواب ملتا تھا: “ضروری کارروائی جاری ہے۔”
یہ “ضروری کارروائی” بھی ہماری انتظامی تاریخ کا ایک عجیب کردار ہے۔ نہ یہ کبھی مکمل ہوتی ہے، نہ کبھی ختم ہوتی ہے۔ یہ بس فائلوں کے اندر محفوظ رہتی ہے، وقت گزارتی ہے اور مناسب موقع کا انتظار کرتی ہے۔ پھر ایک دن جب عہدہ ختم ہو جاتا ہے، اختیار واپس لے لیا جاتا ہے، تو وہی ضروری کارروائی اچانک ایک شاندار وژن بن کر اخبارات میں نمودار ہو جاتی ہے۔ اب تیمور خسرو نقشہ ہاتھ میں لیے بتاتے ہیں: “دورہ پاس بہترین راستہ ہے۔”
قوم بجا طور پر حیران ہے۔ تیمور خسرو، اگر راستہ اتنا واضح تھا تو پھر اتنے سال ہم کس چیز کا انتظار کرتے رہے؟ کیا پہاڑوں نے بھی آپ کے سرکاری عہدے کا احترام کرتے ہوئے خود کو چھپا رکھا تھا؟ کیا درّے بھی فائلوں کی منظوری کے منتظر تھے؟ شاید ایسا ہی ہو، کیونکہ ہمارے ہاں پہاڑ بھی بیوروکریسی کے اصول سمجھتے ہیں۔ انہیں بھی معلوم ہے کہ اصل حرکت تب شروع ہوتی ہے جب فائل کا مالک تبدیل ہو جائے۔
ریٹائرڈ افسران کی ایک خاص خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ماضی کو نہایت مہارت سے دوبارہ ترتیب دیتے ہیں۔ اگر کوئی منصوبہ کامیاب ہو جائے تو فرمایا جاتا ہے: “یہ میری سوچ تھی۔” اگر منصوبہ ناکام رہے تو وضاحت آتی ہے: “سیاسی حالات سازگار نہیں تھے۔” یعنی کامیابی ہمیشہ کسی کے والدین تلاش کر لیتی ہے، مگر ناکامی ہمیشہ یتیم رہتی ہے۔
اور یادداشت تو قابلِ رشک ہوتی ہے۔ انہیں دہائیاں پرانی وہ میٹنگز یاد رہتی ہیں جن میں مبینہ طور پر انہوں نے تاریخ بدل دینے والے مشورے دیے ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر باقی شرکا کو ایسی کسی میٹنگ کا علم تک نہیں ہوتا۔ پھر قوم کو بتایا جاتا ہے کہ مسئلہ صرف راستے کا تھا۔
نہیں جناب، مسئلہ راستے کا نہیں تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ جب آپ کے ہاتھ میں اختیار تھا، تب آپ کے پاس فائلیں تھیں۔ اور جب فائلیں ختم ہوئیں تو ہاتھ میں نقشہ آ گیا۔ مسئلہ پہاڑوں کی دشواری نہیں، فیصلہ سازی کی تاخیر تھی۔
یہ بھی ایک خاص فن ہے۔ کچھ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد سکون اختیار کرتے ہیں، کچھ علم اور تجربہ تحریر میں منتقل کرتے ہیں، اور کچھ اچانک پورے خطے کے نجات دہندہ بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے دو کاموں میں انسان واقعی کچھ چھوڑ کر جاتا ہے، جبکہ تیسرے میں اکثر صرف اپنی تعریف کا ایک نیا باب شامل کرتا ہے۔