Chitral polo 1 750x400 1

KP to Spend Rs2bn on 12 Polo Grounds in Chitral

Islamabad, July 15, 2026: The Khyber Pakhtunkhwa government has approved a Rs2 billion project for the development and maintenance of 12 polo grounds in Upper and Lower Chitral, including the Shandur Polo Ground, to promote tourism and preserve the region’s cultural heritage.

According to an official document, the project aims to strengthen polo as one of Chitral’s most significant cultural traditions while boosting sports tourism and creating income opportunities for local communities.

The annual Shandur Polo Festival generates millions of rupees for local communities through transport, accommodation, food services, temporary stalls and other tourism-related businesses.

The document notes that Chitral’s traditional polo differs from club polo as it is faster, more physical and deeply rooted in local culture and community festivals.

Besides the Shandur Polo Festival, the province plans to promote other cultural and tourism events, including the Pre-Shandur Polo Tournament, Qaqhlasht Festival, Broghil Festival, Khot Festival, Chilim Joshi Festival, Uchal Summer Festival and Choimus Winter Festival.

The polo grounds project is the largest tourism-related scheme proposed for Chitral.

Other initiatives include the establishment of a tourist facilitation and rest area at Booni, development of picnic spots at Garam Chashma and Sorlaspur, and camping pod villages at Bumburait, Sorlaspur and Yarkhun Lasht to improve visitor facilities.

The document also outlines road infrastructure projects, including the construction of a 17.1-kilometre road at an estimated cost of Rs1.783 bn. The Ayun-Bumburait and Zainey Pass roads have been recommended for inclusion in future Annual Development Programme (ADP) schemes.

In addition, the provincial government has launched a Rs300 million “Mezban” (Host) Tourism Programme in Upper and Lower Chitral, Upper Dir, Lower Dir and Mansehra to support home-stay facilities through interest-free loans ranging from Rs1 million to Rs3 million.–APP

Polo Ground Project Triggers Public Outcry in Chitral

2 thoughts on “KP to Spend Rs2bn on 12 Polo Grounds in Chitral”

  1. برادرم احمد کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ذرا اس منظر کا تصور کیجیے۔ کیا سماں ہوگا جب مہتر فتح الملک علی ناصر، ثریا بی بی اور چند سرکاری بابو سیاہ چشمے لگائے اگلی صف میں بیٹھے ہوں گے، اور ان کے سامنے ایک عام چترالی ڈھول کی تھاپ پر ناچ رہا ہوگا، کرتب دکھا رہا ہوگا اور اسی کو اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھ رہا ہوگا۔

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہی وہ مقام ہے جہاں ہم اپنی تہذیب، ثقافت اور اجتماعی وقار کو لا کھڑا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ایک قوم کی نمائندگی اب محض تماشے، کرتب بازی اور وقتی داد و تحسین تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟

    ایک ایسا شخص جس کی حیثیت نہ گھوڑا رکھنے کی ہو، نہ پولو کے میدان میں اترنے کی، اور نہ کسی سنجیدہ کارنامے سے اپنی شناخت بنانے کی، اگر وہ صرف مداریوں جیسے کرتب دکھا کر اور ڈھول کی تھاپ پر ناچ کر جنگ بازار چترال کے دامن میں واقع چترال پولو گراؤنڈ کا مرکزِ نگاہ بن جائے، تو یہ اس کی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ترجیحات کی کہانی سناتا ہے۔

    وہ یقیناً ناچے گا، اور شاید بار بار ناچے گا، کیونکہ اسے یقین دلا دیا گیا ہے کہ شہرت کا سب سے آسان راستہ یہی ہے۔ جب معاشرہ صلاحیت کے بجائے تماشے پر داد دینے لگے تو لوگ ہنر نہیں، تماشا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں قصور صرف ناچنے والے کا نہیں ہوتا بلکہ ان ہاتھوں کا بھی ہوتا ہے جو ہر بار تالیاں بجا کر اسے یہ یقین دلاتے ہیں کہ یہی اس کی اصل شناخت اور اسی میں اس کی کامیابی ہے۔

    اس تمام منظر سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ مہتر فتح الملک اور ثریا بی بی اسی منصوبے کو اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ گویا چترال کے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں، اسپتالوں میں دوائیں وافر ہیں، اسکول اساتذہ سے بھر چکے ہیں، نوجوانوں کو روزگار مل گیا ہے، سڑکیں اور پل محفوظ ہو گئے ہیں، پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ماضی کا قصہ بن چکا ہے، اور اب ریاست کے پاس صرف ایک ہی قومی فریضہ باقی رہ گیا تھا کہ پولو گراؤنڈز پر دو ارب روپے خرچ کیے جائیں۔

    افسوس یہ ہے کہ جن لوگوں کو عوام نے اپنی محرومیوں کی آواز بننے کے لیے اسمبلی بھیجا تھا، وہ آج اینٹ، سیمنٹ اور گھاس کے افتتاح پر داد وصول کر رہے ہیں۔ اگر سیاست کا معیار یہ رہ جائے کہ عوام کی جیب خالی ہو مگر گراؤنڈ کی گیلری نئی ہو، نوجوان بے روزگار ہوں مگر وی آئی پی باکس شاندار ہو، اسپتال ویران ہوں مگر افتتاحی تختی چمک رہی ہو، تو پھر مسئلہ کسی ایک منصوبے کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔

    مہتر فتح الملک اور ثریا بی بی کو شاید کوئی یہ یاد دلائے کہ عوام نے انہیں پولو گراؤنڈ کا منیجر منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اپنے حقوق کا نگہبان بنایا تھا۔ عوام کو ایسے نمائندے درکار تھے جو اسلام آباد اور پشاور کے ایوانوں میں چترال کی محرومیوں کا مقدمہ لڑتے، نہ کہ ایسے نمائندے جو دو ارب روپے کے نمائشی منصوبے کو اپنی سب سے بڑی سیاسی کامیابی ثابت کرنے میں مصروف رہیں۔

    کیونکہ تاریخ میں وہ سیاست دان یاد نہیں رکھے جاتے جنہوں نے میدان سنوارے تھے، بلکہ وہ یاد رکھے جاتے ہیں جنہوں نے لوگوں کی زندگیاں سنواری تھیں۔

    آخر میں بس اتنا ہی۔ شاید ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ سیاست کسی اناڑی کھلاڑی کا میدان نہیں۔ یہ محض خاندانی پس منظر، لقب یا انتخاب جیت لینے کا نام نہیں، بلکہ بصیرت، درست ترجیحات اور عوامی مسائل کے حقیقی ادراک کا امتحان ہے۔

    اگر آج چترال کے عوام یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں اور نمائشی منصوبے کامیابیوں کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں، تو اس پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین اس تمام صورتِ حال کو اس سیاسی طرزِ عمل کا تسلسل قرار دیتے ہیں جس میں قیادت سے زیادہ وفاداری اور اہلیت سے زیادہ مصلحت کو اہمیت دی جاتی ہے۔

    مہتر فتح الملک اور ثریا بی بی سے بھی یہی سوال ہے: اگر آپ کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی دو ارب روپے کے پولو گراؤنڈز ہیں، جبکہ عوام آج بھی صحت، تعلیم، روزگار، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کے لیے ترس رہے ہیں، تو پھر عوام آپ کی کارکردگی کا فیصلہ کس بنیاد پر کریں؟

    اگر ترجیحات یہی رہیں تو اندیشہ یہی ہے کہ آئندہ مدت میں آپ کے حصے میں شاید عوامی مسائل کا حل نہیں، بلکہ صرف سیاہ چشمہ لگا کر وی آئی پی انکلوژر میں بیٹھ کر پولو میچ اور ڈھول کی تھاپ پر ہونے والا رقص دیکھنا ہی رہ جائے۔ کیونکہ سیاست محض تماشائی بننے کا نام نہیں؛ سیاست عوام کی خدمت، درست فیصلوں اور مشکل ترجیحات کا امتحان ہے، اور اس امتحان کا فیصلہ آخرکار عوام ہی کرتے ہیں۔

  2. ناچو چترالیو، خوب ناچو!

    کمال ہے صاحب، حکمرانی بھی ایک عجیب فن ہے۔ کہیں اسپتالوں کے سنگِ بنیاد کے خواب دکھائے جاتے ہیں، کہیں صحت کے انقلاب کی خوشخبریاں سنائی جاتی ہیں، اور جب چترال کی قسمت کی کتاب کھولی جاتی ہے تو سب سے پہلے ایک شاندار تحفہ سامنے آتا ہے: دو ارب روپے کے اصطبل۔

    واہ سہیل آفریدی صاحب، واہ! ترجیحات کا ایسا نادر نمونہ شاید ہی کسی حکومتی لغت میں ملے۔ ایک طرف بڑے شہروں کے لیے جدید اسپتالوں کے خواب ہیں، دوسری طرف چترال کے لیے گھوڑوں کے آرام دہ مستقبل کی منصوبہ بندی۔ لگتا ہے منصوبہ بندی کی میز پر کسی نے آہستہ سے سوال کیا ہوگا، “جناب، یہ سہولت آخر کس کے لیے ہے؟”

    جواب شاید پہلے ہی تیار تھا:
    “چترالیوں کے لیے نہیں۔ چترالی تو بس افتتاحی تختیوں کے نیچے کھڑے ہو کر مسکرانے اور تالیاں بجانے کے لیے ہوتے ہیں۔”

    داد دینی پڑتی ہے اس حکمتِ عملی کو جس نے ترقی کا ایک نیا معیار متعارف کرا دیا ہے۔ انسانوں کے مسائل اپنی جگہ، مگر گھوڑوں کی آسائش میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ آخر تاریخ میں نام بھی تو کسی شاندار منصوبے سے لکھوانا ہے۔ اگر اسپتال کم ہوں، اگر سڑکیں ٹوٹ جائیں، اگر پل برسوں تک مرمت کے منتظر رہیں، تو یہ سب مسائل اپنی جگہ؛ مگر اصطبل شاندار ہونا چاہیے، کیونکہ ترقی کی تصویر میں کچھ خوبصورت فریم بھی تو درکار ہوتے ہیں۔

    ثریا بی بی کے گھر کے سامنے پل ٹوٹا ہو، کسی بستی کا راستہ ختم ہو چکا ہو، یا کسی مریض کو علاج کے لیے پہاڑوں سے نیچے اترنے میں گھنٹوں لگ جائیں، عوامی مسائل اپنی جگہ کھڑے ہیں۔ مگر منصوبوں کی قطار میں گھوڑوں کے لیے جگہ پہلے محفوظ ہو جاتی ہے۔ شاید اس لیے کہ گھوڑے نہ ووٹ دیتے ہیں، نہ سوال پوچھتے ہیں، نہ درخواستیں لکھتے ہیں، نہ حکمرانوں کو ان کے وعدے یاد دلاتے ہیں۔

    اور مہتر فاتح الملک کے لیے بھی یہ منظر کم دلچسپ نہیں ہوگا۔ اسٹیج تیار ہے، چراغاں ہے، نیچے رقص ہے، سامنے تماشائی ہیں، اور حکمران مسکراتے ہوئے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ منظر کہیں نہ کہیں ان پرانی درباری روایتوں کی یاد دلاتا ہے جہاں رعایا کی ثقافت بھی کبھی کبھی حکمرانوں کی تفریح کا حصہ بن جاتی تھی۔

    فرق صرف اتنا ہے کہ پرانے زمانے کے درباروں میں بادشاہ اپنی شان دکھاتے تھے، اور آج کے دور میں ترقی کے نام پر شان کے نئے نشان بنائے جاتے ہیں۔ کبھی محل، کبھی دروازے، کبھی یادگاریں، اور اب اصطبل۔

    سو ناچو چترالیو، خوب ناچو!

    کبھی کسی کے جشن کی رونق بنو، کبھی کسی کے منصوبے کی تصویر۔ کبھی کسی اسٹیج کے نیچے کھڑے ہو کر تالیاں بجاؤ، کبھی کسی تختی کے سامنے مسکرا دو۔ شاید یہی کردار تمہارے لیے لکھ دیا گیا ہے۔

    اور اگر کبھی تم نے پوچھ لیا کہ ہمارا اسپتال کہاں ہے؟ ہماری سڑک کہاں ہے؟ ہمارا پل کہاں ہے؟ ہماری ضرورت کہاں ہے؟

    تو جواب شاید پھر وہی ہوگا:

    “خاموش رہو، ترقی راستے میں ہے۔ پہلے اصطبل مکمل ہونے دو۔”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest