MPA Fatehul Mulk cuts the ribbon to open nurses hostel at DHQ hospital Chitral, July 13, 2026.

Staff Nurses’ Hostel Inaugurated at DHQ Hospital Chitral

Bashir Hussain Azad

Chitral, July 13, 2026: A newly constructed staff nurses’ hostel was formally inaugurated at the District Headquarters (DHQ) Hospital in Lower Chitral on Monday.

The inauguration was performed by Chairman of the District Development Advisory Committee (DDAC) MPA Fatehul Mulk Ali Nasir.

The ceremony was attended by DHQ Hospital Medical Superintendent Dr. Fayyaz Roomi, local political and social leaders, and a large number of community elders.

Speakers at the event described the completion of the hostel as a much-needed development.

They said the residential facility would ensure the round-the-clock availability of nursing staff within the hospital premises, ultimately benefiting patients, particularly those requiring emergency and inpatient care.

They added that nurses play a pivotal role in the healthcare system and are indispensable in ensuring quality patient care.

Addressing the gathering, MPA Ali Nasir said the provincial government’s priority was to modernize district headquarters hospitals and improve healthcare infrastructure across Khyber Pakhtunkhwa.

He said the government’s vision is to reduce the burden on tertiary care hospitals in Peshawar and other major cities by strengthening district-level health facilities so that quality primary and secondary healthcare services are available closer to people’s homes.

The ceremony concluded with special prayers for the continued improvement of DHQ Hospital, the welfare of the nursing staff, and the development and prosperity of the region.

2 thoughts on “Staff Nurses’ Hostel Inaugurated at DHQ Hospital Chitral”

  1. تیری مسکراہٹوں پر قربان جاؤں، مہتر صاحب۔ ایسی مسکراہٹیں کم ہی نصیب ہوتی ہیں جو ایک طرف پورے نظام کی کامیابی کا اعلان کرتی ہیں اور دوسری طرف خاموشی سے بہت سے سوال بھی چھوڑ جاتی ہیں۔ آپ کے چہرے کی چمک دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے چترال کے پہاڑوں کے درمیان کوئی ایسا معجزہ رونما ہو گیا ہو جس کی خبر ابھی صرف چند خوش نصیب لوگوں تک پہنچی ہے۔

    آپ کی مسکراہٹ دیکھ کر دل کو یقین ہونے لگتا ہے کہ شاید لواری ٹنل صرف مسافروں کے لیے نہیں بلکہ ترقی کے تمام خوابوں کے لیے بھی کھل گئی ہے۔ شاید کوئی عظیم الشان منصوبہ اسی سرنگ سے گزر کر چترال پہنچ چکا ہے، جس کے بعد مسائل نے بھی اپنا بوریا بستر باندھ لیا ہے۔

    آپ کے گرد موجود ہجوم بھی اپنی جگہ ایک مکمل داستان ہے۔ سفید کوٹوں میں ملبوس چہرے، تجربہ کار ڈاکٹر، طب کے ماہرین، اور وہ ماحول جسے دیکھ کر پہلی نظر میں محسوس ہوتا ہے کہ شاید کسی بڑے عالمی معیار کے طبی ادارے کی شاخ چترال کے پہاڑوں میں اتر آئی ہے۔ منظر ایسا ہے کہ آدمی چند لمحوں کے لیے بھول جاتا ہے کہ یہ وہی ہسپتال ہے جہاں مریض برسوں سے بنیادی سہولیات کے انتظار میں اپنی امیدیں گنتے رہے ہیں۔

    یہ منظر دیکھ کر تو ایسا گمان ہوتا ہے جیسے کسی نے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر کو چینی انجینئرز کی مدد سے راتوں رات پیک کیا ہو، لواری ٹنل سے گزارا ہو اور چترال کی وادی میں لا کر رکھ دیا ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تصویروں میں سب کچھ مکمل نظر آتا ہے، مگر ہسپتال کے دروازے سے اندر داخل ہونے والا مریض اکثر حقیقت کا سامنا کرتا ہے۔

    ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال چترال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ صاحب بھی اس خوش گمانی کے سفر میں شریک نظر آتے ہیں۔ اپنے دوست فیاض رومی کے ساتھ ایسا منظر تخلیق ہوا جیسے برسوں سے بیمار نظام کو ایک ہی ملاقات، ایک ہی گفتگو اور ایک ہی کوشش میں شفا مل گئی ہو۔ جیسے ہسپتال کی بدبودار وارڈیں، پرانی شکایات، دواؤں کی کمی، انتظامی کمزوریاں اور مریضوں کی بے بسی سب اچانک ماضی کا قصہ بن گئی ہوں۔

    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال صرف افتتاحی تصویروں، مسکراتے چہروں اور مبارک بادوں سے نہیں چلتے۔ ہسپتال ان لوگوں کی آہوں سے پہچانے جاتے ہیں جو رات کے پچھلے پہر اپنے بیمار عزیز کو اٹھا کر وہاں پہنچتے ہیں۔ وہ مائیں جو اپنے بچوں کے لیے دوا ڈھونڈتی ہیں، وہ بوڑھے جو علاج کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، اور وہ غریب لوگ جو بیماری کے ساتھ ساتھ اپنی جیب اور عزت دونوں کا حساب کرتے ہیں۔

    مہتر صاحب، اگر واقعی یہ کامیابی کا سفر شروع ہو چکا ہے تو اگلا قدم تصویروں سے آگے بڑھ کر ان وارڈوں تک جانا چاہیے جہاں خوشبو نہیں بلکہ حقیقت موجود ہے۔ ان کمروں تک جہاں صفائی محض رپورٹوں میں نہیں بلکہ فرش پر نظر آنی چاہیے۔ ان اسٹور رومز تک جہاں دوائیں مریضوں کے لیے رکھی جائیں، نہ کہ کسی اور منزل کے لیے۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈاکٹروں کو وہ ماحول دیا جائے جہاں وہ مریض کو وقت دے سکیں، اور مریض کو وہ اعتماد دیا جائے کہ علاج کے لیے اسے ہسپتال سے باہر کسی ذاتی کلینک کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ سفید کوٹ کی عزت اسی وقت قائم رہتی ہے جب اس کے اندر موجود انسان بیمار انسان کی تکلیف کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔

    کیونکہ آخر میں ہسپتال کسی افسر، کسی سیاست دان یا کسی تقریب کا نام نہیں۔ ہسپتال اس آخری امید کا نام ہے جو ایک مجبور انسان کے دل میں زندہ رہتی ہے۔ اور اس امید کو زندہ رکھنے کے لیے مسکراہٹوں سے زیادہ صفائی، نعروں سے زیادہ دیانت داری، اور تصویروں سے زیادہ خدمت کی ضرورت ہوتی ہے۔

  2. محترم فتح الملک علی ناصر صاحب کا افتتاحی منظر دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے چترال میں ترقی کا سورج ابھی ابھی طلوع ہوا ہے۔ ہاتھ میں قینچی، چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ، سامنے فیتہ، پیچھے کیمرے۔اور چند لمحوں کے لیے ایسا ماحول کہ شاید تاریخ کا کوئی بڑا باب رقم ہونے جا رہا ہے۔

    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ فیتوں سے نہیں بنتی، فیصلوں سے بنتی ہے۔

    چترال کے عوام نے مہتر صاحب کو صرف افتتاحی تقریبات کے لیے منتخب نہیں کیا تھا۔ انہوں نے ایک نمائندہ منتخب کیا تھا، ایک امید منتخب کی تھی، ایک وعدہ منتخب کیا تھا۔ مگر افسوس کہ ابھی تک افتتاحی قینچی کی چمک زیادہ دکھائی دے رہی ہے اور عملی کارکردگی کی روشنی کم۔

    مہترانِ چترال کی روایت بڑی ہے، اس لیے توقعات بھی بڑی ہیں۔ محض نام، خاندان یا تاریخی پس منظر عوامی مسائل کا حل نہیں ہوتا۔ آج کا ووٹر ماضی کے قصے سننے کے بجائے حال کا حساب مانگتا ہے۔ اسے یہ نہیں دیکھنا کہ تختی پر کس کا نام لکھا ہے؛ اسے یہ دیکھنا ہے کہ اس تختی کے پیچھے کتنی بہتری چھپی ہے۔

    اسمبلی میں کھڑے ہو کر چند انگریزی جملے بول دینا، ایک آدھ تقریر میں سیاسی وجود کا اعلان کر دینا، یا سوشل میڈیا پر مصروف رہنا آسان کام ہے۔ اصل سیاست وہاں شروع ہوتی ہے جہاں فائلیں دھول کھاتی ہیں، منصوبے رکتے ہیں، بجٹ کم پڑتے ہیں، اور عوام دروازوں پر سوال لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔

    عوام کو تقریری انگریزی نہیں چاہیے، انہیں عملی تبدیلی چاہیے۔ انہیں الفاظ کے قلعے نہیں، مسائل کے حل چاہیے۔

    آج افتتاحی تصویریں گردش کر رہی ہیں۔ کل یہی تصویریں سیاسی مخالفین کے ہاتھ میں سوال بن سکتی ہیں۔ کیونکہ عوام کی یادداشت موبائل کی گیلری نہیں کہ پرانی تصاویر خود بخود غائب ہو جائیں۔ یہاں ہر وعدہ محفوظ رہتا ہے اور ہر تاخیر کا حساب بھی۔

    اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چترال صاحب! تختی اٹھانا یقیناً ایک خوبصورت تصویر بناتا ہے، مگر ہسپتال تصویر بنانے کی جگہ نہیں، جواب دہی کی جگہ ہے۔ مریض کی تکلیف کسی افتتاحی ربن سے نہیں کٹتی، دوا کی کمی کسی فیتے سے ختم نہیں ہوتی، اور خراب نظام کسی کیمرے کے سامنے مسکراہٹ سے درست نہیں ہوتا۔

    اگر سوشل میڈیا کی مصروفیات، افتتاحی سرگرمیوں اور تصویری لمحات سے فرصت ملے تو کبھی ہسپتال کے ان کونوں میں بھی نظر ڈال لیجیے جہاں کیمرے نہیں جاتے: مریضوں کی قطاریں، سہولیات کی کمی، ادویات کے مسائل، عملے کی مشکلات اور وہ خاموش شکایات جو کسی افتتاحی تقریب میں سنائی نہیں دیتیں۔

    کیونکہ ہسپتال تختیوں سے نہیں، مریضوں کے اطمینان سے پہچانے جاتے ہیں۔

    فیتے آج کٹ جائیں گے، تصویریں آج وائرل ہو جائیں گی، مبارک بادیں آج مل جائیں گی—مگر کل عوام کے ہاتھ میں ایک ہی سوال ہوگا:

    “جو ذمہ داری آپ کے سپرد کی گئی تھی، اس میں بہتری کتنی آئی؟”

    یہی سوال ہر افتتاحی قینچی سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest