چترال (بشیر حسین آزاد) — چترال کے طول و عرض میں گلیشیئر پھٹنے اور کلاوڈ برسٹ کے باعث درجن سے زائد مقامات پر سیلاب آنے سے کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔ چترال-پشاور مین شاہراہ اور چترال-شندور روڈ سیلابی ریلوں اور پلوں کے ٹوٹنے کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئے ہیں۔
اب تک موصولہ اطلاعات کے مطابق دو افراد لقمۂ اجل بن گئے ہیں، جن میں سے ایک کا تعلق بروز سے ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے دریائے چترال سے ایک لاش برآمد کی ہے جس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
پیر کے روز سہ پہر بروز کے مقام پر کلاوڈ برسٹ کے باعث گمبس گول اور بروز گول میں خوفناک سیلابی ریلے آئے، جو پلوں کو بہا لے گئے اور چترال کا زمینی رابطہ ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گیا۔ ان مقامات پر سیلاب کے باعث فائبر آپٹک لائن بھی ٹوٹ گئی، جس سے چترال کا انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
گمبس گول میں ایک معمر شخص سیلابی ریلے کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ندی کے قریب واقع ایک پٹرول پمپ کو بھی نقصان پہنچا۔ پٹرول پمپ کے احاطے میں کھڑی کئی گاڑیاں بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔
لوئر چترال ہی کی وادی کریم آباد میں سیلاب نے ایک درجن کے قریب پل بہا دیے، جس سے ندی کے آرپار رہنے والے لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
اسی طرح پریئت گول میں بھی اونچے درجے کا سیلاب آیا، تاہم ندی کے گہرائی میں واقع ہونے کے باعث سیلابی ریلے گاؤں میں داخل نہ ہو سکے۔ سیلابی ریلے نے دریائے چترال کے بہاؤ کو بھی کئی گھنٹوں تک روک کر رکھا۔
اپر چترال کے گاؤں ریشن سے لے کر مستوج کے نواحی گاؤں پرکوسپ تک تمام چھوٹے بڑے دیہات کے ندی نالوں میں سیلاب آیا۔ متاثرہ علاقوں میں ریشن، زئیت، کوراغ، چرون، بونی، اوی، پرواک، مستوج خاص اور پرکوسپ شامل ہیں۔
پرواک کے مقام پر موسلادھار بارش کے باعث پہاڑی تودے گرنے سے بونی-مستوج روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہا۔ سڑک تقریباً 16 گھنٹے بند رہنے کے باعث دونوں جانب ڈیڑھ سو سے زائد گاڑیوں میں مسافر پھنسے رہے۔
مسافروں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملبہ ہٹانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے ہیوی مشینری فوری طور پر متحرک کرنے کے بجائے ٹریکٹروں سے کام لینے کی کوشش کی، جس کے باعث ٹریفک کی بحالی میں زیادہ وقت لگا۔
کوراغ کے قریب پہاڑی سے گزرنے والی سڑک کا ایک حصہ دریائے چترال میں آنے والے اونچے درجے کے سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جس سے اپر اور لوئر چترال کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہو گیا اور پیدل آمدورفت بھی ممکن نہیں رہی۔
لوئر چترال کے ڈپٹی کمشنر محمد ہاشم عظیم نے پریس کلب نیوز کو بتایا کہ تمام متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا سروے جاری ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں بھی واقعے کے فوری بعد متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دی گئی تھیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی بروز کے مقام پر سڑکوں کی بحالی اور بروز گول میں پل کی ڈائیورژن کے کام میں مصروف ہے۔
فوکس ہیومنیٹرین پاکستان کی ڈیزاسٹر اسیسمنٹ رسپانس ٹیم (DART) بروز سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ محمد طلحہ محمود فاؤنڈیشن کے ذمہ داران بروز اور دیگر مقامات پر فرسٹ رسپانس کے لیے موجود رہے۔
سیلاب کے بعد چترال کے مقامی سکولوں میں تعطیل رہی، بازار بھی سنسان نظر آئے، جبکہ سرکاری دفاتر میں حاضری بھی نہ ہونے کے برابر رہی۔

