نواے سُرود
شہزادی کوثر
لوگوں کے پاس کتنا وقت اور صلاحیت ہوتی ہے کہ دوسروں کے معاملات کو پوری تفصیل کے ساتھ سنتےاورسمجھتےہیں تا کہ دوسرے تک پہنچا سکیں ۔ پڑوس میں کیا ہوا؟ فلاں کے بچے کس وقت گھر آتے ہیں، کس کی بیٹی کہاں جاتی ہے ؟ فلاں کے تعلقات اس کی شریک حیات کے ساتھ کس نوعیت کے ہیں اور کس نہج تک پہنچ چکےہیں؟ ساس بہو میں کون کس پر حاوی ہے؟ کس نے اپنے ساتھی کو قابو میں رکھا ہوا ہے؟ ایسی ہزاروں فضول باتیں جو روزانہ موضوع بحث بنتی ہیں۔ ان باتوں سے کون سا بڑا مقصد حاصل ہوتا ہے یا معاشرے کا کیا بھلا ہوتا ہے اس سے سب واقف ہیں کہ غیبت جیسی خرابی خوب پروان چڑھتی ہے ایسے میں اگر کویٗ ہم خیال مل جاٗےٗ تو لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ انسان کی نظر خرابیوں اور برایٗوں پر ہی جا کر کیوں ٹکتی ہے؟ کیا وہ صرف برا دیکھنا چاہتا ہے یا برایٗ میں کشش ہی اتنی ہوتی ہے کہ ہر نظر کو اپنی جانب کھینچتی ہے یا پھر یہ فرد کے اندر کا نقص ہے جو اسے دوسرے کے کاموں میں نظر آ جاتی ہے۔ اس کے لیے خود کو ٹٹولنے کی ضرورت ہے ۔
ہر فرد غلط نہیں ہوتا ۔اگر تمام لوگ ہی غلط لگ رہے ہیں تو یہ دراصل خود کا قصور ہے جو وہ دوسروں پہ ڈال کر من کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے حالات ان میں سے کس خاصیت کو جلا بخشتے ہیں یہ اس انسان کی صحبت پر منحصر ہے کہ اس کی نشست وبرخاست کن لوگوں میں رہی ہے اور اسے کس قسم کے لوگوں سے واسطہ رہا ہے؟ اس لیے خود ساختہ مفتی بن کے دوسروں پر فتویٰ لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ بقول شخصے، ہمارے اندر ایک مولوی چھپا ہے جو اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب ہم کسی کو برا کرتے ہوےٗ دیکھتے ہیں۔۔۔ یہ جملہ ہمارے رویوں پر شدید طنز اورمعاشرے کی تلخ حقیقت کا بے لاگ تجزیہ ہے۔
اجتماعی رویہ بن گیا ہے کہ کوتاہی دوسرے میں ہو تو گناہ تصور ہوتا ہے خود میں ہو تو بشری کمزوری کہہ دیتے ہیں۔ گایا جانتے بوجھتے ہوےٗ اپنے گریبان کی شہتیر سے اپناتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ انسان کو اپنی غلطی کا ندازہ نہیں ہوتا اور دوسرا اس کی نشاندہی کرے تو ناراض ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک نکتہ ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ کسی کی کوتاہیوں کی نشاندہی یا اصلاح ایسے انداز میں نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے الفاظ زہر میں بجھے ہوےٗ تیر بن جاٰٗؑیٗں بلکہ ایسا طریقہ ہوکہ ہمارے الفاظ اس کا دل نہ چیریں۔
انسان وقت اور حالات کے ہاتھوں کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے، اس میں اچھے بُرے کا تعین اس کا ماحول اور صحبت طے کرتی ہے۔ جس طرح کے لوگوں سے میل جول زیادہ ہوتا ہے تو سوچ بھی آہستہ آہستہ ان جیسی ہو جاتی ہے، جہاں سوچ میں خلل پیدا ہو جایٗے تو لفظوں میں فتور کا آنا یقینی بنتا ہے رہی سہی کسر لہجہ پورا کرتا ہے زہر آلود خنجر کا کام۔۔۔۔۔۔ جس سے کسی کا کلیجہ چھلنی ہو اس کی کسی کو فکر نہیں رہتی۔ بس جو منہ میں آءے کہہ دینے کی عادت اور اپنے نقطہ نظر کے مطابق بات کو سچ سمجھنے کی روش سے کتنوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ یہ بھی کسی کو نظر نہیں آتا۔
بعض دفعہ جو دکھتا ہے وہ ویسے نہیں ہوتا یا جو اصل ہے وہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا اس لیے کوءی حتمی راےٗ قاٗیٗم کرنے یا اس کا اظہار کرنے سے پہلے کیٗ بار سوچنا انتہایٗ ضروری ہے ورنہ یہ مراشرے میں بگاڑ اور تعلقات خراب ہونے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
دوسروں پر غیر ضروری تحقیق کرنے سے کیا یہ اچھا نہیں کہ انسان خود پہ کام کرے ،اپنی کمی خامیوں کو کھوجنے اپنے آپ کے سامنے ان کا اعترف کرے انھیں دور کرنے کی کوشش کرے۔ یہ اجتماعی سبق سب کے لیے اہم ہے اس کا عملی تجربہ ہونا چاہیے تا کہ کم از کم اتنا تو حوصلہ پیدا ہو کہ ہم خود میں جھانک سکیں اگر اس کی کی طرف پہلا قدم اٹھایا تو غلطیوں اور کوتاہیوں کی ایک طویل فہرست ہمارے ہاتھ لگ جائے گی۔

