سوےرا مٹھل
پرنس رحیم آغا خان پنجم کا حالیہ دورہ پاکستان ایک ہمہ جہت، تاریخی اور فکری اہمیت کا حامل سفر ثابت ہوا جس نے ریاستی تعلقات، ترقیاتی شراکت داری اور اسماعیلی برادری کی روحانی و سماجی رہنمائی کے مختلف پہلوؤں کو ایک جامع وژن کے تحت اجاگر کیا۔ یہ دورہ اسلام آباد کی اعلیٰ سطحی ریاستی مصروفیات سے لے کر گلگت بلتستان ،چترال اور یاسین جیسے پہاڑی علاقوں میں منعقد ہونے والے روحانی اجتماعات تک ایک مربوط پیغام کے طور پر سامنے آیا، جس میں تعلیم، اتحاد، اخلاقیات، سماجی ہم آہنگی اور جدید دنیا کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگی کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔

اسلام آباد میں پرنس رحیم آغا خان کا استقبال ریاستِ پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت نے کیا، جہاں صدر آصف علی زرداری نے نور خان ایئربیس پر ان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر انہیں پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ پر مشتمل سہ فریقی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جو ان کی عالمی اور قومی اہمیت کا اظہار تھا۔ بعد ازاں ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستان اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے درمیان جاری تعاون اور مستقبل کی شراکت داری پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ریاستی سطح پر دیے گئے عشائیے اور ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق نظر آیا کہ پاکستان میں صحت، تعلیم، دیہی ترقی، ماحولیاتی لچک، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت جیسے اہم شعبوں میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے دیے گئے خصوصی استقبالیے میں بھی اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جہاں انہوں نے کی خدمات کو پاکستان کے ترقیاتی ماڈل کا اہم حصہ قرار دیا۔
اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ترقی کا نیا تصور صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ انسانی وسائل، تعلیم، ہنر اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ اس کا بنیادی ستون ہیں۔دورے کا دوسرا اور زیادہ فکری و روحانی پہلو گلگت بلتستان اور چترال کے اجتماعات تھے، جہاں پر پرنس رحیم آغا خان نے اسماعیلی برادری سے تفصیلی خطابات کیے۔
ان خطابات میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برادری‘‘صراطِ مستقیم’’پر ثابت قدم رہے، اتحاد کو اپنی طاقت بنائے اور امن، برداشت اور باہمی احترام کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام کی بنیاد توحید، ختمِ نبوت اور قرآنِ مجید پر ایمان ہے، اور انہی اصولوں کے ساتھ ایک ذمہ دار اور اخلاقی معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔تعلیم کے حوالے سے ان کے پیغامات مسلسل اور مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم ایک وقتی عمل نہیں بلکہ زندگی بھر جاری رہنے والا سفر ہے۔ خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کو انہوں نے معاشرتی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا جبکہ نوجوانوں کو جدید مہارتیں، ہنر اور انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنے کی تلقین کی تاکہ وہ عالمی سطح پر بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔ ان کے مطابق آنے والی دنیا انہی افراد کی ہوگی جو علم، اخلاق اور عملی مہارت کو یکجا کر کے آگے بڑھیں گے۔25 مئی 2026 کو یاسین طاؤس دیدار گاہ میں ہونے والا روحانی اجتماع اس دورے کا ایک نہایت اہم اور تاریخی لمحہ تھا، جہاں پر پرنس رحیم آغا خان نے جماعت سے خطاب کرتے ہوئے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر رہنمائی فراہم کی۔
انہوں نے خوش اخلاقی اور مثبت سوچ کو انسان کی شخصیت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوش مزاجی نہ صرف فرد کی زندگی بہتر بناتی ہے بلکہ پورے معاشرے پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں سے مکمل اجتناب کی سختی سے تلقین کی، کیونکہ حقیقی ترقی صرف دیانت اور اصول پسندی سے ممکن ہے۔انہوں نے سماجی ہم آہنگی، باہمی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کو ترقی کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ہر فرد کو اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ ایک مضبوط اور مربوط معاشرہ تشکیل پا سکے۔
اسی طرح انہوں نے ذہنی صحت کے مسائل پر بھی توجہ دیتے ہوئے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائیں تاکہ ذہنی دباؤ سے بچا جا سکے، جبکہ بچوں کو والدین کے احترام اور خدمت کی تلقین کی گئی تاکہ خاندانی نظام مضبوط رہے۔اس اجتماع میں انہوں نے جماعت کی گزشتہ دہائیوں کی ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا اور مستقبل میں مزید تعلیم، نظم و ضبط اور اجتماعی محنت پر زور دیا۔ ان کے مطابق ترقی کا تسلسل صرف اجتماعی کوشش اور مستقل محنت سے ہی برقرار رہ سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے دین اسلام، جماعت اور پاکستان کے لیے دعا کی اور حکومت پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے امن، اتحاد اور ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔مجموعی طور پر یہ پورا دورہ ایک ایسے جامع پیغام کی صورت میں سامنے آیا جس میں روحانیت، تعلیم، اخلاقیات، ترقی اور جدید دنیا کے تقاضے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط نظر آتے ہیں۔ یہ دورہ نہ صرف اسماعیلی برادری کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنا بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک ایسے ترقیاتی اور فکری وژن کو اجاگر کرتا ہے جس میں انسانی ترقی، ماحولیاتی توازن اور سماجی ہم آہنگی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

