نشہ

اسامہ منور
طاقت بری شے نہیں مگر اس کا نشہ بہت کم لوگوں کو راس آتا ہے کیونکہ طاقت سے پہلے اور بعد کا بدلاؤ انسانی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہے. ساری زندگی  باسی اور خشک روٹی کھانے والے کو جب اچانک ہی دیسی و خالص اشیاء اور دیسی گھی میں تیار کردہ بکرا، گائے، مرغ دستیاب ہو جائیں تو پھر ان سے ہاتھ روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے. لیکن اگر وہ میانہ روی کے ساتھ اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے ان اشیاء کو اپنے استعمال میں لائے گا تو اس سے اس کی صحت بھی برقرار رہے گی اور عزت نفس بھی قابو میں رہے گی.لیکن اگر وہ ان اشیاء کا بےدریغ اور بے وقت استعمال کرے گا تو نا صرف اس کو نظام انہضام متاثر ہو گا بلکہ دیکھنے والوں کی نظر میں وہ جاہل، اجڈ اور لالچی بھی کہلائے گا. اس لئے جن کو طاقت میسر ہے وہ اس کے بہیمانہ استعمال سے حتیٰ الامکان گریز کریں اور جو طاقت کے نشے سے دور ہیں وہ خود کو خوش قسمت سمجھیں کہ وہ دور ہیں.
طاقت جنگ کا پہلا قدم ہے اور جنگ ایک ایسا ناسور ہے جس کا اثر مدتوں تک آنے والی نسلوں کو بھی سہنا پڑتا ہے.جنگ مذہب، رنگ اور نسل نہیں دیکھتی بلکہ یہ صرف طاقت کی تھپکیوں پر اتراتی ہے اور بدمست ہاتھی کی طرح سب کو روند کر چلی جاتی ہے. اس کی زندہ مثال جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم ہیں. ہیرو شیما اور ناگا ساقی کی بربادی اسی طاقت، غرور اور فانی نشے کی مرہونِ منت ہے.فرعون، قارون، ہامان، شداد، ہلاکو، چنگیز، ہٹلر، سکندر، دارا، قیصر، یہ سب طاقت کی عظیم مثالیں سمجھے جاتے تھے مگر اب ان کا نام و نشان تک باقی نہیں. یہی طاقت کی تلخ حقیقت ہے.
طاقت کا استعمال بہتری کے لئے بھی کیا جاسکتا ہے اور اپنی انا، غرور و تکبر کو ایک طرف کر کے ملکی و عالمی مفاد کے لئے بھی طاقت کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے.
طاقت ایک نشہ ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہر نشہ ایک نہ ایک دن اتر جاتا ہے، اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں. اگر طاقت کو اس کی حقیقی جگہ اور وقت کے تقاضوں کے عین مطابق استعمال کیا جائے تو پھر اس سے ہزاروں خاطر خواہ فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں. طاقت سے ظلم و جور کے علاوہ بھی بیسیوں کام لئے جا سکتے ہیں. کسی کے سر پر چھت ڈال کر، کسی کو نوالہ مہیا کر کے، کسی کے جسم کو ڈھانپ کر، کسی کے ہاتھوں میں کتابیں تھما کر اور کسی کی مشکلوں کو آسان کر کے ہم طاقت کو اس کی اصلی شکل میں پیش کر سکتے ہیں.
 یاد رکھیے یہ دنیا عارضی ہے اور یہاں کی ہر چیز بھی عارضی ہے پھر وہ طاقت ہو یا اقتدار، مال و دولت ہو یا حسب نسب.طاقت کا نشہ کیجیۓ مگر دھیان رہے کہ اس نشے میں آپ ایسا کوئی غلط کام نہ کر دیں جس کے لئے آپ کو عمر بھر پچھتانا پڑے اور جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے. نشہ کوئی بھی ہو وہ برا ہے اور ہر وہ چیز جو ہماری عقل پر غلبہ پانے کی کوشش کرے، نشہ ہے.
#معصومیت

Leave a Reply

Your email address will not be published.