فضائی حادثے کے بعد

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ؔ

حویلیاں کے قریب فضائی حادثے کو ہفتہ گذر گیا حادثہ کئی اہم سوالات چھوڑ گیا ہے افواہوں کی بہتات ہے حقائق سامنے نہیںآرہے سب سے بڑا حادثہ فضائی حادثے کے بعد ہوا ہے 22گھروں میں مائیں نیم بے ہوشی کے عالم میں ا پنی اولاد کے تابوت کا انتظار کر رہی ہیں 15 گھروں میں معصوم بچے اپنی ماں یا اپنے باپ کے تابوت کی راہ تک کر تھک گئے ہیں تین بڑے سوالات نے جنم لیا ہے پہلا بڑا سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے حادثے پر وفاقی حکومت ، وزیراعظم اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے شہدا کے لوا حقین کے ساتھ ہمد ردی کے لئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کیوں نہیں کیا ؟ پارلیمنٹ میں پی آئی اے کی فوری نجکاری کا بل فوری طور پر کیوں پیش نہیں کیا گیا ؟ پا نا مہ لیکس پر دھرنا دینے والوں نے اس حادثے کے خلاف آواز کیوں نہیں اُٹھا ئی ؟ حکومت کے کسی اعلیٰ عہد یدار نے شہدا ء کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیوں نہیں کیا ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ شہدا ء کے تابوت کو مشکوک بنانے کے لئے ڈی این اے کاشوشہ کیوں چھوڑ ا گیا ؟ کیا پاکستان میں ڈی این اے کی سہولت ہے ؟ کیاآپ کے پاس ڈی این اے کا ڈیٹا بیس ہے؟ کیا آپ کے پاس سٹیٹ آف دی آرٹ لیبارٹری ہے ؟ اگر کچھ بھی نہیں تو پھر شہدا ء کے ورثا کو اذیت میں مبتلا کر نے کاراستہ کیوں اختیار کیا گیا ؟ مرزا غالب نے کہا تھا پھر پُر سش جراحت دل کو چلا ہے عشق سا مانِ صدر ہزار نمک داں کئے ہوئے حادثے کے دوسرے دن اسلام اباد سے چترال کے دور دراز پہاڑی گاؤں میں فون پر پیغام دیا جاتا ہے کہ شہیدکی بہن یاا س کے بھائی یا اولاد میں سے کسی کو دوگھنٹے کے اندر ٹیسٹ کے لئے اسلام اباد بھیجو فون کر نے والے کو پتہ نہیں کہ چترال سے اسلام اباد کاکتنا فاصلہ ہے ؟ اس کے چار دن بعد فون آتا ہے کہ شہید کی ماں کو ٹیسٹ کے لئے اسلام اباد بھیجو اور دیکھو ہم 3 گھنٹے سے زیادہ انتظار نہیں کرینگے اگرچترال سے دو یا تین گھنٹے میں اسلام اباد پہنچنا ممکن ہوتا تو 42 مسافر جہاز میں کیوں سوا ر ہوتے ؟ہوائی سفر کی ضرورت کیا تھی ؟ چترال کے عوام کی یاد داشت بہت تیز ہے ان کو مختلف واقعات کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات یاد ہوتی ہیں طیارہ حادثے کا شکار ہونے کے 7 دن بعد نجی ٹی وی پر خبر آگئی کہ پی آئی اے انتظامیہ نے چترال اور گلگت روٹ کے لئے پاکستان ائیر فورس سے سی 130- جہاز فراہم کر نے کی درخواست کی ہے چترال کے عوام کو یاد ہے کہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت میں وزیراعظم سکرٹریٹ سے حکم ملتا تھا اور 24 گھنٹوں کے اندر سی 130- جہاز دسیتاب ہوجاتا تھا پی آئی اے ا گرچہ اُس وقت ایک کامیاب فضائی کمپنی تھی اندرونِ ملک اس کی بہت اچھی ساکھ تھی بہت بڑا کاروبار تھا اس کے باوجود پی آئی اے کی طرف سے درخواست کی نوبت نہیںآتی تھی مو سم خراب ہوا، راستے بند ہوئے تو وزیراعظم کی طرف سے حکم ملتا تھا اور سی 130- طیارہ مسافروں کو لیکر چترال پہنچتا تھا نمک ، گندم اور بھوسہ بھی اس جہاز میں چترال بھیجا گیا جنرل ضیا ء الحق اور جنرل مشرف کے ادوار میں بھی سی 130- جہاز کے لئے چیف ایگز یگٹیو کی طرف سے حکم ملتا تھا اس وقت کا چیف ایگز یگٹیو عوام کے مسائل سے آگاہ اور باخبر ہوتا تھا اُس کے پاس رپورٹیں جاتی تھیں وہ رپورٹیں پڑھ کر کاروائی کرتا تھا شاید یہ بات بھی تھی کہ فوجی حلقوں میں اس کی بات مانی جاتی تھی پاکستان ائیر فورس میں اس کا حکم مانا جاتا تھا یہ سہولت ہر وزیر اعظم کو حاصل نہیں ہوتی حادثے کے بعد جنم لینے والے سوالات میں سے ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ پی آئی اے حکام نے فرانس سے جہاز خرید نے میں بھی گھپلے کئے کمپنی سے پائلیٹ نہیں مانگے سپیئر پارٹس کو معاہدے میں شامل نہیں کیا ان دو سہولیات کی جگہ کمیشن لے لیا اپنا حصہ و صول کر کے چلتے بنے پہاڑی علاقوں کے ڈرائیوروں کی طرح ایک جہاز کا ایک پرزہ نکال کر دوسرے جہاز میں لگایا دوسرے جہاز کا پرزہ نکال کر تیسرے جہاز میں لگا یا اور کام چلایا پہاڑی علاقوں کے ڈرائیور ضرورت کے وقت اس طرح اپنی گاڑی کو زندہ رکھتے اور کام چلاتے ہیں کمپنی کہتی ہے کہ جہاز میں کوئی عیب نہیں دنیا بھر کی کمپنیاں ان جہازوں کو استعمال کرتی ہیں پی آئی اے کی انتظامی مشینری میں فرق ہے اگر اس کمپنی کی اندرونی حالت کا پتہ ہوتا تو ہم اپنا جہاز اس کمپنی کو کبھی نہ دیتے اب یہ کمزوریاں سامنے آگئی ہیں اور مزید کمزوریاں سامنے آرہی ہیں اب ہم ائیر مارشل نور خان اورفیلڈ مارشل ایوب خان کو واپس نہیں لا سکتے اب ہماری حکومت میں اتنی جان اور سکت نہیں رہی کہ پی آئی اے کے تن مردہ میں دوبارہ جان ڈال سکے کار پوریشن سے کمپنی میں تبدیل کر نے کا تجربہ بھی نا کامی سے دو چار ہوگیا ہے حویلیاں کے حادثے کے بعد پہلا کام یہ ہونا چا ہئے کہ پی آئی اے کے 100 فیصد حصص کسی بین لا قوامی کمپنی کو فروخت کر کے اس عذاب اور اذیت سے جان چھڑائی جائے، کرپشن اور نااہلی کا یہ ناسور ہمیشہ کیلئے کاٹ کر الگ کر دیا جائے ’’ خس کم جہاں پاک ‘‘ کاروباری حلقوں ، عالمی صنتعکاروں اور مسافروں کا اعتماد مجروح ہوچکا ہے یہ اعتماد پی آئی اے کے موجودہ نام اور نیم سرکاری انتظامیہ کے ساتھ کبھی اور کسی صورت میں بحال نہیں ہوگا فضائی حادثہ کے متاثریں کو پی آئی اے ، این ڈی ایم اے ، اور وفاقی حکومت نے جو دُکھ دیا ہے یہ حادثے سے بڑا دُکھ ہے حادثے کے 8 روز بعد شہدا ء کے تا بوت ورثا کو نہیں ملے اب حکومت اور پی آئی اے سے کسی خیر سگالی کو کوئی اُمید نہیں ہمارے ٹی وی چینیلوں نے جنید جمشید کو واحد مسافر قرار دیا اخبارات میں جنید جمشید کے ساتھ اہم بیورکریٹ اُسامہ احمد وڑائچ کانام بھی آیا مرزا گل ، علی اکبر ، احترام الحق ، محمد نواز اور تکبیر خان کی طرح جو 38 مسافر اور عملے کے 6 ارکان شہید ہوئے ان کے ورثا کا حال کسی نے نہیں پوچھا قانون کا تقاضا یہ ہے کہ ہرشہید کے ورثا کو انشورنس کی مکمل رقم ادا کی جائے اور تابوتوں کو 3 دن سے زیادہ عرصہ اپنے پاس رکھنے کا ہر جانہ بھی انشورنس کی رقم کے ساتھ ادا کی جائے حادثے کے بعد پی آئی اے اور وفاقی حکومت کے ذمہ داروں نے جس مجر مانہ غفلت کا مظاہر ہ کیا اس کا ازالہ صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ شہدا کے لواحیقین کو ایک کروڑ روپے انشورنس اور ایک کروڑ روپے کا ہر جانہ فوری طور پر ادا کیا جائے اللہ تعالےٰ کی طرف سے جو ازمائش آگئی اُس پر صبر کیا جاسکتا ہے لیکن حکومت کی طرف سے جو اذیت دی گئی اور جو دکھ دیا گیا اس کا فوری ازالہ ہونا چاہیے ہم نے ما نا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن خاک ہوجائینگے ہم ، تم کو خبر ہونے ت

One Reply to “فضائی حادثے کے بعد”

  1. ہم نےنہ ماضی میں اور نہ حال میں نواز لیگ سے کسی قسم کی ہمدردی دیکھی ہے اور نہ مستقبل میں اس کی امید کجاسکتی ہے، البتہ الیکشنز قریب ہوں تو ہمیں بہکانے کی کوشش ضرور ہوگی۔ ہمیں انسان اور پاکستانی سمجھنے والے بٹھو تھے جنہیں پھانسی چڑائی گئی اور ماضی قریب میں ایک شخص پرویز مشرف کی صورت میں ہمیں انسان اور پاکستانی سمجھا جن کے اوپرغداری کا لیبل لگانے کی کوشش جاری ہے۔ ہمارا وجود باقی کسی بھی صاحب اقتدار کو نظر نہیں ایا۔ اس لیے فیضیؔ صاحب کو بے حس حکمرانوں سے گلہ شکوہ کرنا نہیں چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.