Headlines

پرُانا چھترار، نیا چترال

دھڑکنوں کی زبان محمد جاوید حیات میرے ابو کہا کرتے تھےکہ ۱۹۵۷ء کے جولائی کا مہینہ تھا ۔میں پشاور سے چترال آیا ۔شہر میں آنٹی کا گھر تھا ۔وہاں رات گذارا۔ صبح تین بجے ہم پیدل تورکھو کی طر ف روانہ ہوئے۔۔چاند رات تھی ۔ہم چار بندے روانہ ہوئے آنٹی بھی ساتھ تھی۔ برقعہ پہنی

پرُانا چھترار، نیا چترال Read More »