Faizi 1

سکول اور مصنوعی ذہانت

​دادِ بیداد


ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​حکومتوں کے فیصلے عوام پر مثبت یا منفی اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ اس لیے صحافیوں اور کالم نگاروں کا فرض بنتا ہے کہ ان فیصلوں کا جائزہ لے لیں۔ اچھی حکومتیں اخبارات اور الیکٹرانک، سوشل و دیگر میڈیا کو اپنی آنکھ اور کان کا درجہ دیکر بہتر فیصلوں میں مدد لیتی ہیں ناکارہ حکومتیں اخبارات اور ذرائع ابلاغ کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہیں جائزوں اور تبصروں کو مسترد کرکے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لئے قبر کھودتی رہتی ہیں۔

نئی خبر آگئی ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے پرائمری سکولوں کی نگرانی کے لئے 1500 سپر مانیٹر بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ساتھ یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لئے ایک با اختیار اتھارٹی قائم کی جائیگی دونوں ایسے کام ہیں جن کی کوئی مثال کسی مہذب اور ترقی یافتہ یا دولت مند ملک میں نہیں ملتی اور یہ ایسے اقدامات ہیں کہ صوبے کے زمینی حقائق اور عوام کی ترجیحات سے ان کا کوئی تعلق نہیں پرائمری سکولوں میں ہر جماعت کا الگ کمرہ نہیں ہے۔ (وائٹ بورڈ نہیں مارکر نہیں) ہر مضمون کا الگ استاد نہیں ہے ہر طالب علم کیلئے ڈیسک اور کرسی نہیں ۔

یہ بنیادی ضروریات ہیں ادھے سے زیادہ سکول آؤٹ سورس کے نام پر ٹھیکیداروں کو فروخت کئے گئے ہیں باقی جو بچے ان کے لئے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر کے ناموں سے نگرانی کرنے والوں کی فوج ظفر موج گاڑی اور بائیک لے کر موجود ہے ان کی نگرانی کے لئے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افیسر کا لمبا چوڑا عملہ باہر سے لاکر بٹھایا گیا ہے اس کے اوپر سکول لیڈر کے نام سے ایک الگ کیڈر متعارف کیا ہے اب اس کے اوپر سپر مانیٹر بھرتی کئے جائینگے۔

کسی بادشاہ کا چہیتا گھوڑا تھا بادشاہ نے ہزاروں سال پہلے اپنے گھوڑے کے لئے 150 اشرفیاں (دینار) مختص کرکے سائیس کو دیے، پھر سائیس پر داروغہ مقرر کیا پھر داروغہ پر محاسب مقرر کیا 150 دینار کو تینوں نے آپس میں تقسیم کیا نگرانوں کی کڑی نگرانی میں گھوڑا بھوک اور پیاس سے مر گیا عجیب بات یہ ہے کہ ہماری حکومت کو تعلیم کا خیال آتا ہے سکول کے اندر جھانکنے کی توفیق نہیں ہوتی ان سکولوں میں 8 مضامین کے لئے دو اساتذہ اور دو کمرے بنائے گئے تھے پھر قرآن ناظرہ کا مضمون آیا استاد کی پوسٹ نہیں آئی پھر مادری زبان کی تعلیم کا نیا مضمون آیا اس کے لئے نیا استاد نہیں آیا، پھر مطالعہ قرآن و سنت کا نیا مضمون آیا اس کے لئے استاد نہیں آیا۔

اب دو اساتذہ، دو کمروں میں گیاره مضامین پڑھارہے ہیں ان کا بوجھ ہلکا کرنے والا کوئی نہیں، ان کو بہتر سہولیات دینے والا کوئی نہیں 70 فیصد سکولوں میں بجلی، بلب اور پنکھے بھی دستیاب نہیں، پینے کا صاف پانی نہیں آتا اوپر سے تماشا دیکھنے کے لئے مانیٹر آتا ہے سکول لیڈر آتا ہے، سپر مانیٹر آتا ہے، فارسی کا مقولہ ہے “بایں عقل و دانش باید گریست” یعنی اس عقل و دانش پر ماتم ہونا چاہئے۔

صوبے میں مصنوعی ذہانت کے لئے اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی ایسا ہی ہے مصنوعی ذہانت کمپیوٹر کی تعلیم کا جدید ترین مضمون ہے ہمارے تعلیمی نظام میں مضمون کے اساتذہ کو ترقی ملتی ہے صرف کمپیوٹر سائنس ایسا کیڈر ہے جس کے اساتذہ کیلئے سروس سٹرکچر نہیں سکیل 16 میں بھرتی ہوکر اسی سکیل میں ریٹائرڈ ہونے کا قانون ہے دفاتر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک ملازمین کی ترقی کا قانون نہیں ہے کلرک اور سٹینو گرافر گریڈ 20 تک جا سکتا ہے کمپیوٹر آپریٹر سکیل 16 سے اوپر ترقی نہیں کر سکتا یہ حکومت کی پالیسی ہے صوبائی عدالت یا سروس ٹربیونل اس پالیسی پر سوال نہیں اٹھا سکتی۔

اس حال میں حکومت مصنوعی ذہانت کے لئے ہوائی گھوڑے دوڑا رہی ہے دفتری امور اور تعلیمی نظام سے باہر ہوا میں اتھارٹی قائم کرکے اس پر اربوں روپے خرچ کرنا چاہتی ہے، اللہ پاک جنت نصیب کرے اردو ادب کے مشہور مزاح نگار شفیق الرحمن گزرے ہیں، انہوں نے 1960 کے عشرے میں اپنے مزاحیہ مضامین کا پہلا مجموعہ شائع کیا تو اس کا نام رکھا “حماقتیں”، 10 سال بعد 1970 کے عشرے میں دوسری کتاب شائع ہوئی تو اس کا نام تھا “مزید حماقتیں”، اگر مرحوم اب تک زندہ ہوتے اور ہمارے صوبے میں ہوتے تو ان کی تازہ ترین کتاب کا نام ہوتا “سپر حماقتیں”۔

ہمارے صوبے کی پارلیمانی اور جمہوری تاریخ کبھی تابناک اور درخشاں نہیں رہی، ہمارے صوبے کا ایک ایسا وزیر تعلیم بھی گزرا ہے جو ان پڑھ تھا، دستخط کی جگہ انگوٹھا لگاتا تھا ہمارے صوبے کی کابینہ میں ماہی پروری کے محکمے کا ایسا وزیر بھی گزرا ہے جس نے قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر کی جگہ دفتر میں اپنی تصویر لگانے کا نادرشاہی فرمان جاری کرتے ہوئے اپنے سیکرٹری سے کہا تمہیں علم ہونا چاہئے آج اس شخص کی کرسی مجھے ملی ہے یہاں میری تصویر لگے گی اب یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ موصوف بھی انگوٹھا چھاپ تھے، دو چار سال بعد تعلیم یافتہ لوگ حکومت میں آ گئے تو تعلیم کے شعبے میں موجودہ حکمرانوں کے کھلواڑ اور مصنوعی ذہانت کے نام پر بننے والی نام نہاد اتھارٹی پر ماتم کرینگے صرف سابقہ حکمرانوں کا احتساب کرنے والا نیب بھی اس وقت حرکت میں آئے گا۔

1 thought on “سکول اور مصنوعی ذہانت”

  1. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب نے ایک ایسے مسئلے پر انگلی رکھی ہے جسے ہماری حکومتیں اکثر قالین کے نیچے چھپا دیتی ہیں، پھر حیران ہوتی ہیں کہ بدبو کہاں سے آ رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے سکولوں کی حالت یہ ہے کہ کئی جگہ بچے علم حاصل کرنے سے پہلے بجلی، پانی، چھت اور کرسی کی تلاش میں لگے ہوتے ہیں۔ کچھ سکولوں میں استاد کم ہیں، کمرے کم ہیں، سہولیات کم ہیں، لیکن نگرانی کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا مطلب اب یہ رہ گیا ہے کہ ایک شخص پڑھائے اور کئی لوگ اس کی نگرانی کریں کہ وہ کیوں پڑھا رہا ہے، کیسے پڑھا رہا ہے، اور رپورٹ کس فارمیٹ میں جمع کر رہا ہے۔

    پندرہ سو نئے سپر مانیٹر بھرتی کرنے کا فیصلہ سن کر سوال یہ نہیں بنتا کہ مانیٹر کون ہوگا، سوال یہ بنتا ہے کہ آخر ہم ایک بچے کے اوپر کتنے نگران مقرر کرنا چاہتے ہیں؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن سکول میں استاد، طالب علم اور کتاب سے زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہو جو دیکھنے آئے ہوں کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے یا نہیں۔ تعلیم کے نظام کی حالت اس مشہور قصے جیسی ہے جس میں بادشاہ کے گھوڑے کے لیے خرچ تو پورا مقرر تھا، مگر راستے میں اتنے نگہبان آ گئے کہ آخر میں گھوڑے تک چارہ پہنچا ہی نہیں۔ ہمارے سکول بھی شاید اسی سفر پر ہیں: بجٹ نکلتا ہے، منصوبہ بنتا ہے، کمیٹی بنتی ہے، نگرانی ہوتی ہے، رپورٹ بنتی ہے، اور آخر میں بچہ وہیں کھڑا رہ جاتا ہے جہاں تھا۔

    پھر اسی ماحول میں مصنوعی ذہانت کے لیے اتھارٹی بنانے کا اعلان آتا ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے گھر کی چھت ٹپک رہی ہو اور مالک مکان اعلان کرے کہ اب ہم بادلوں کی تحقیق کے لیے ایک نیا ادارہ بنائیں گے۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ مستقبل ہے، لیکن مستقبل تک پہنچنے کے لیے حال کو دفن کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ جس نظام میں کمپیوٹر سائنس کے اساتذہ کے لیے ترقی کا واضح راستہ نہیں، وہاں مصنوعی ذہانت کی اتھارٹی بنانا ایسا ہی ہے جیسے سائیکل کے پنکچر کو نظر انداز کرکے اس پر جہاز کا ہارن لگا دیا جائے۔

    مسئلہ ٹیکنالوجی سے دشمنی نہیں، مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ اگر بچے کے پاس بیٹھنے کے لیے کرسی نہیں، استاد کے پاس پڑھانے کے لیے سہولت نہیں، اور سکول میں بنیادی ضرورتیں پوری نہیں، تو نئی اتھارٹیاں صرف فائلوں میں ترقی لائیں گی، کلاس روم میں نہیں۔ حکومتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کو نئے نام، نئے عہدے اور نئے بورڈ نہیں چاہئیں؛ انہیں نتائج چاہئیں۔ بچے کو اچھا استاد چاہیے، والدین کو بہتر سکول چاہیے، اور معاشرے کو ایسا نظام چاہیے جس میں نگرانی کرنے والوں کی تعداد سے زیادہ پڑھانے والوں کی تعداد ہو۔ تاریخ میں حکومتوں کے بڑے دعوے نہیں بچتے، ان کے نتائج بچتے ہیں۔ اگر آج کے حکمران سکول کے دروازے سے اندر جانے کے بجائے صرف نئی عمارتیں، نئی اتھارٹیاں اور نئی اصطلاحات بناتے رہے، تو آنے والی نسلیں شاید مصنوعی ذہانت تو سیکھ جائیں، مگر یہ ضرور پوچھیں گی کہ قدرتی عقل کہاں استعمال ہوئی تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest