Faizi 1

باتوں کی خوشبو

داد بیداد

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دارالعلوم اسلامیہ شاہی مسجد چترال میں حفاظ کی دستار بندی کے سلسلے میں تقریبِ سعید منعقد ہوئی۔ دارالعلوم کے صدرِ مدرس مولانا خلیق الزمان، سابق رکنِ اسمبلی اور امیر جمعیت علماء اسلام لوئر چترال مولانا عبدالرحمن اور شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور مولانا فیاض الدین نے خطاب کیا۔

دارالعلوم اسلامیہ کی بنیاد 1941ء میں رکھی گئی۔ حفظ و قرأت اور تجوید کی کلاسیں 1989ء میں پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ مجاز قاری شبیر احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی زیرِ نگرانی شروع ہوئیں۔ استاذ القرّاء مولانا عبدالرحمن قریشی تقریب کے صدرنشین تھے۔

اس موقع پر مولانا فیاض الدین نے دھیمے لہجے اور سادہ اسلوب میں جو بیان کیا، وہ ’’از دل خیزد، بر دل ریزد‘‘ کی عمدہ مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے موقع کی مناسبت سے سورۂ طٰہٰ کی آیات 124 سے 126 تک کی تلاوت سے بات کا آغاز کیا۔

آدم علیہ السلام کو زمین پر خلافت دینے کے بعد حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری اولاد میں جو کوئی میرے ذکر سے روگردانی کرے گا، اس کے لیے زمین کو تنگ کر دیا جائے گا اور قیامت کے دن اسے اندھا کرکے اٹھایا جائے گا۔ وہ کہے گا: بارِ الٰہا! میں دنیا میں دیکھنے والا تھا، آج مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا گیا؟ حق تعالیٰ کی طرف سے جواب آئے گا: میری آیتیں تمہیں دی گئی تھیں، تم نے انہیں بھلا دیا، آج ہمارے دربار میں تم بھی بھلا دیے گئے۔

انہوں نے حفاظِ کرام کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اور آخرت کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت تمہیں ملی ہے۔ مخبرِ صادق، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنِ مجید حفظ کرنے کی فضیلت کے باب میں ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کے روز حافظِ قرآن کے ماں باپ کو تاج پہنایا جائے گا اور دس گنہگاروں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔

مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں سوال کیا: تاج کس کے سر پر رکھا جاتا ہے؟ پھر خود جواب دیا: بادشاہ کے سر پر رکھا جاتا ہے۔ حفاظ کے ماں باپ کو قیامت کے روز بادشاہ اور ملکہ کا پروٹوکول دیا جا رہا ہے اور یہ معمولی سعادت نہیں ہے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ پروٹوکول اور یہ سعادت غیر مشروط نہیں۔ حدیثِ شریف کے الفاظ ہیں: جس نے قرآن سیکھا، اس پر عمل کیا، اس کے حلال کو حلال جانا اور اس کے حرام کو حرام جانا، وہی قیامت کے دن اجر و ثواب اور پروٹوکول کا حقدار ہوگا۔

علماء نے اس شرط کے چار درجے بیان کیے ہیں: پہلا درجہ قرآن پڑھنا، دوسرا درجہ اس کے معنی جاننا، تیسرا درجہ اس پر عمل کرنا اور چوتھا درجہ قرآن کے نظامِ حیات کو مکمل قانون، دستورِ عمل اور آئین کی صورت میں ملک کے اندر نافذ کرنے کی جدوجہد کرنا ہے۔

شیخ الہند مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کو پانچ سال کی قیدِ تنہائی کے بعد رہا کیا گیا تو انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں دو باتوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قیدِ تنہائی میں مجھ پر دو باتیں منکشف ہوئیں؛ پہلی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ پستی کی پہلی وجہ قرآنی تعلیمات سے دوری اور بے اعتنائی ہے، دوسری وجہ آپس میں انتشار، عدمِ اتفاق اور فرقہ واریت ہے۔

انہوں نے برصغیر میں قرآنی تعلیمات کی ترویج کے حوالے سے علمائے کرام کی مساعیِ جمیلہ کا ذکر کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ دہلوی، متوفیٰ 1762ء، کے ترجمۂ قرآن کا خاص طور پر نام لیا۔ برصغیر میں یہ پہلا ترجمہ تھا جس کے جواز اور عدمِ جواز پر طویل بحث ہوئی، لیکن یہ ترجمہ قرآن فہمی کا ذریعہ بنا۔ شیخ الہند نے خود قرآنِ کریم کے درس کا آغاز کیا، جس نے عام مسلمانوں کو قرآن سمجھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی مساجد، مدارس اور مراکز میں درسِ قرآن کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عصری علوم بھی قرآنی علوم کی طرح وقت کی ضرورت ہیں۔ ایک مسلمان ڈاکٹر، انجینئر یا کسی اور شعبے کا ماہر اپنے شعبے میں اسلامی تمدن کی بہتر خدمت کر سکتا ہے اور اپنے شعبے کو غیر مسلم ماہرین کی اجارہ داری سے پاک کر سکتا ہے۔

اس سے قبل مولانا فیاض الدین مدظلہ نے ٹاؤن ہال چترال میں اپنے نانا مولانا محمد مستجاب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی سوانحِ حیات ’’انوارِ مستجاب‘‘، مصنفہ پروفیسر اسرار الدین، کی تقریبِ رسمِ اجراء سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی معاشرے میں ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ روحانی اور باطنی علوم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ عام لوگ تصوف کو ترکِ دنیا کا نام دیتے ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تصوف اللہ پاک کی عبادت، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور مخلوق کی بے لوث خدمت کے ارکانِ ثلاثہ کا مجموعہ ہے، جس پر خانقاہی نظام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ہمیں جاہل گدی نشینوں کے طرزِ عمل کو نمونہ سمجھنے کی جگہ عظیم صوفیاء کی تعلیمات کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے۔

مولانا فیاض الدین کی باتوں میں اتنی مٹھاس ہے کہ ہر بات سامعین کے دلوں میں اترتی ہے، اور ان کا اسلوب ایسا دلچسپ ہے کہ سامعین کو اپنی گفتگو میں شامل رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ احمد فراز کا یہ شعر ان کے طرزِ خطاب کا بھرپور احاطہ کرتا ہے:

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest