British tombstones in Chitral, Siraj Ul Mulk

Prince Launches Search for Missing British Gravestones

Siraj ul-Mulk, whose grandfather was defended by colonial troops in the 1895 Siege of Chitral, has asked staff to scour mountain villages.

In 1895, British troops fought and died to defend the mountain realm of Chitral, now in Pakistan, and to protect its young ruler from thousands of rebellious tribesmen.

After the conflict, a Christian cemetery was built for colonial officials who died in service, and potentially for the war dead, including an officer whose rescue led to the awarding of a Victoria Cross.

It is not clear exactly who was buried at the site because the gravestones have vanished, and a search has begun to find and restore these memorials to the British dead.

Siraj ul-Mulk, a prince of Chitral’s remaining tribal royalty and grandson of the ruler defended by colonial troops more than 100 years ago, has launched an attempt to trace the headstones. The former pilot and polo player has asked his staff to scour mountain villages for any clues.

Read full article at source

3 thoughts on “Prince Launches Search for Missing British Gravestones”

  1. There is a positive side to this that we should think about too. Finding these things is another good initiative by Capt. Siraj ul Mulk to help promote tourism in the area. News about a British era military cemetery getting out will attract a lot of interest and could easily become another great spot for foreign visitors. What is wrong with that?
    After all, we all like to visit and offer fatiha at the graves of our loved ones. We would want those gravestones preserved for our own families, but when it comes to others, some people only want to see the dark side. There is more to this than meets the eye. Yes, maybe Hindukush Heights will benefit from it, but what is wrong with that? Is it not better that some local people in Chitral benefit from this effort than nobody at all?
    If you knew Capt. Siraj ul Mulk well, you would know he is not about maintaining the status quo and does not even use the Shahzada title with his name.
    British people take a lot of pride in their family history. I once had a colleague working for a British university who wanted to visit Landikotal just because his grandfather fought in the second Afghan War and he wanted to see the war memorial. We can attract many visitors like that to Chitral if these gravestones are found and restored.

  2. گوروں کے کتبے ڈھونڈتا ہوا ایک شہزادہ – شہزادہ سراج الملک

    واہ رے تاریخ! جن گوروں نے توپ لے کر چترال میں قدم رکھا تھا، آج ان کے کتبے ڈھونڈنے کے لیے ایک چترالی شہزادہ پہاڑ پہاڑ پھر رہا ہے۔

    یعنی سلطنت انگریز کی تھی، بندوق انگریز کی تھی، جنگ انگریز کی تھی، مرا بھی انگریز، مگر قبر کی رکھوالی بھی ہماری! کیا خوب آزادی ملی ہے۔

    1895 میں سفید فام سرکار اپنے مفادات، اپنے جغرافیائی کھیل اور اپنے پسندیدہ مقامی حکمران کی حفاظت کے لیے چترال آئی۔ گولیاں چلیں، لاشیں گریں، وکٹوریہ کراس تقسیم ہوا، اور پھر فاتحین نے اپنے مردوں کے لیے قبرستان بنا لیا۔ ایک صدی گزری۔سلطنت گئی۔پرچم اتر گیا۔ گورے واپس لندن چلے گئے۔ مگر اب ہمارے شہزادے کو سکون نہیں کہ گوروں کے کتبے کہاں گئے؟

    شہزادہ صاحب نے ملازمین لگا دیے ہیں:
    “جاؤ، پہاڑوں میں تلاش کرو۔ کسی گاؤں میں اگر کسی کے گھر کی دیوار میں برطانوی سلطنت کا ٹکڑا لگا ہو تو برآمد کرو!” کیا جذبۂ خدمت ہے!

    کاش یہی جوش کبھی ان لوگوں کی قبروں کے لیے بھی دکھایا جاتا جنہیں اسی دور کی جنگوں نے نگل لیا تھا۔ کاش کبھی یہ بھی تلاش ہوتا کہ 1895 کے ان مقامی لوگوں کے نام کہاں ہیں جو “rebellious tribesmen” کے دو لفظوں میں تاریخ کے حاشیے پر پھینک دیے گئے۔مگر نہیں۔گورے کا کتبہ غائب ہے، سو قومی بحران ہے۔مقامی آدمی کا نام غائب ہے، سو شاید ریکارڈ ہی خراب تھا۔

    یہ بھی نوآبادیاتی ذہن کی ایک عجیب قسم ہے: گورا مر جائے تو ورثہ، مقامی مر جائے تو واقعہ –
    اور شہزادے کی پریشانی بھی قابلِ دید ہے۔ جن کے دادا کو بچانے کے لیے برطانوی فوج آئی تھی، آج انہی کے پوتے برطانوی فوجیوں کی قبریں ڈھونڈ رہے ہیں۔

    تاریخ نے شاید سوچا ہوگا:”چلو، سلطنت تو ختم ہوگئی؛ اب اس کی یادداشت کا ٹھیکہ بھی مقامی اشرافیہ کو دے دیتے ہیں۔”

    کہانی میں ایک چوکیدار بھی ہے۔ روایت کہتی ہے کہ وظیفہ بند ہوا تو صاحب نے احتجاجاً کتبے اٹھا لیے۔ کیا شاندار منظر ہوگا! برطانوی راج ختم ہوا، مگر اس کا آخری چھوٹا سا ملازم بھی بغاوت پر اتر آیا: “پیسے بند؟ تو کتبے بھی بند!”

    خاندان کہتا ہے کہ کتبے کبھی گھر نہیں آئے۔دوسری قیاس آرائی یہ ہے کہ کسی نے سنگِ مرمر نکال کر گھر سجا لیا۔اور کیوں نہ سجاتا؟سلطنت تو گورے لے گئے،
    سنگِ مرمر مقامی آدمی لے گیا۔ یہی تو برصغیر کی سب سے دلچسپ تقسیم ہے۔

    گورا یہاں آیا تو زمین لے گیا، اختیار لے گیا، وسائل لے گیا، نظام لے گیا۔صدی بعد مقامی آدمی نے بدلے میں ایک قبر کا پتھر لے لیا۔ اور اب ہم اسے بھی واپس کرنے کے لیے بے چین ہیں!

    ذرا تصور کیجیے اگر یہ کتبے مل جائیں۔شہزادہ صاحب انہیں بڑی عقیدت سے واپس قبرستان پہنچائیں گے۔ پتھر صاف ہوگا۔نام پڑھا جائے گا۔ پھول رکھے جائیں گے۔اور شاید کوئی تقریر بھی ہوگی کہ ہمیں اپنے ماضی کو محفوظ رکھنا چاہیے۔

    بالکل درست۔مگر تقریر کے بعد ایک سوال بھی ہونا چاہیے: ہم کس ماضی کو محفوظ کر رہے ہیں؟اس ماضی کو جس میں گورا بندوق لے کر آیا اور “سلطنت” کہلایا؟ یا اس ماضی کو جس میں مقامی آدمی اپنی زمین، اپنی سیاست اور اپنی تاریخ کے بیچ ایک تماشائی بنا دیا گیا؟

    گوروں کے کتبے ضرور ڈھونڈیے، شہزادہ صاحب۔ مگر ساتھ میں وہ تاریخ بھی ڈھونڈیے جس میں گورا صرف “بہادر افسر” نہیں تھا بلکہ ایک نوآبادیاتی طاقت کا نمائندہ بھی تھا۔ وہ قبریں بھی ڈھونڈیے جن پر کبھی کتبہ لگا ہی نہیں۔وہ نام بھی ڈھونڈیے جو کسی وکٹوریہ کراس کے قابل نہیں سمجھے گئے۔

    اور اگر اتنی تلاش کے بعد بھی صرف گوروں کے پتھر ہی ملیں تو انہیں بڑی عزت سے رکھ دیجیے۔ آخربرطانوی راج کی سب سے محفوظ یادگار شاید یہی ہے کہ اس کے جانے کے سو سال بعد بھی اس کے کتبے ڈھونڈنے کے لیے ہمارے شہزادے پہاڑوں میں گھوم رہے ہیں۔ گورا چلا گیا۔راج چلا گیا۔کتبے چلے گئے۔بس نوآبادیاتی عقیدت ابھی تک کہیں نہ کہیں زندہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest