Staff Correspondent
MASTUJ: Female students and their parents in Mastuj have staged a protest against what they described as a forced admission decision and demanded that the students’ classes be conducted at Government Higher Secondary School Mastuj rather than being shifted to the Govt Degree College Mastuj.
It may be mentioned that female students have been pursuing education at the GHSS Mastuj, which is for boys. The government recently established the college specifically for girls after hiring a building.
However, the students and their parents are not ready to shift to the new college saying the college located at one end of Mastuj Bazar is far away from their homes.
They said that female students belonging to Chuinj, Parkusap and other villages won’t be able to commute to the college and back home.
The protesting students and their parents gathered outside Government Higher Secondary School Mastuj and called on the authorities to withdraw the decision and allow the students to continue their education at the institution of their choice.
The protest followed a recent notice issued by the principal of the newly-established Government Girls Degree College Mastuj, ordering the admission of 28 female students of the school in the college.
However, parents and students strongly objected to what they described as unnecessary restrictions and pressure to secure admission to a specific institution.
They said every student had the fundamental and legal right to pursue education and choose an educational institution according to personal preference. They maintained that no institution or administration should interfere with students’ educational choices or restrict their freedom.
The protesters demanded that the 28 students be given complete freedom to seek admission to the college or institution of their choice and that the alleged forced administrative decision be withdrawn immediately.
They also called on the authorities to ensure that neither students nor their parents are subjected to administrative or academic pressure.
The parents and students urged the relevant authorities to take immediate notice of the matter and resolve the issue in accordance with the students’ rights and educational interests.
They warned that if their demands were not accepted, the students would be compelled to intensify their protest and could observe a hunger strike.
The protesters said they would continue to raise their concerns through legal, democratic and peaceful means if the issue remained unresolved.


طالبات اور ان کے والدین کے مطالبات بالکل جائز ہیں، لیکن اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے:نئے قائم ہونے والے گرلز ڈگری کالج کی کرائے کی عمارت آخر وہاں کیوں لی گئی جہاں اس کا ہونا ہی نہیں تھا؟ جب گرلز سیکنڈری اسکول پہلے سے موجود ہے اور طالبات وہیں تعلیم حاصل کر رہی ہیں تو انتظامیہ کے لیے کیا اتنا مشکل تھا کہ اسی اسکول کے قریب کوئی عمارت کرائے پر لے لی جاتی؟ اس سے طالبات، والدین اور اساتذہ سب کے لیے آسانی پیدا ہوتی۔
اگر ڈپٹی اسپیکر صاحبہ کو اس انتظامی فیصلے کی باریکیوں کا اندازہ نہیں تھا تو حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ڈپٹی سیکریٹری فنانس، سید ابراہیم شاہ، جیسے تجربہ کار شخص کو کم از کم یہ مشورہ ضرور دینا چاہیے تھا کہ کالج کی عمارت ایسی جگہ ہو جہاں طالبات باآسانی پہنچ سکیں۔
ذرا زمینی حقیقت دیکھیے۔ پرکوسب، چوئنج، چپاری اور حتیٰ کہ کارگین جیسے قریبی علاقوں سے آنے والی بچیوں کو انتظامیہ نئے کالج میں داخلہ لینے پر مجبور کر رہی ہے، جبکہ نئی عمارت مستوج بازار کے آخری کونے میں واقع ہے۔ ایک غریب مزدور، جو پہلے ہی اپنے گھر کا چولہا مشکل سے جلاتا ہے، وہ اپنی بیٹی کو روزانہ اتنی دور کیسے بھیجے گا؟
تعلیم صرف عمارت کا نام نہیں؛ رسائی بھی تعلیم کا بنیادی حصہ ہے۔اگر ادارہ ایسی جگہ قائم ہو جہاں غریب خاندان اپنی بچیوں کو بھیج ہی نہ سکیں تو پھر کاغذوں میں کالج قائم کرنے کا فائدہ کیا؟
اب ذمہ داری والدین، علاقے کے مقامی عمائدین اور منتخب نمائندوں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں اور کرائے کی عمارت کو گرلز سیکنڈری اسکول کے قریب منتقل کرنے کے لیے آواز اٹھائیں۔
اور ہاں، پی ٹی آئی سے وابستہ بعض خواتین کارکنان بھی آج کل بڑے بڑے دعوے کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سیاسی دعووں کے محل ہوا میں تعمیر کرنے کے بجائے زمینی مسائل پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔ عوام کو تقریریں نہیں، اپنی بچیوں کے لیے قابلِ عمل تعلیمی سہولت چاہیے۔
آخر میں ایک بات واضح ہونی چاہیے: علاقے کے لوگوں نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا تھا۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کا اپنا ذاتی ووٹ بینک اتنا مضبوط ہے کہ وہ عوامی حمایت کا اصل پیمانہ بن چکا ہے، تو جمہوریت میں اس کا سب سے صاف امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی موجودہ سیاسی حیثیت چھوڑ کر تازہ مینڈیٹ کے لیے عوام کے پاس جائے۔ پھر عوام خود بتا دیں گے کہ کس کے پاس حقیقی عوامی حمایت ہے اور کس کے پاس صرف دعوے ہیں۔
مستوج اور چنار کے لوگوں نے آخرکار اپنی ترجیحات دنیا کے سامنے رکھ دی ہیں۔ بچیوں کے لیے گرلز ڈگری کالج قائم ہوا تو احتجاج شروع۔ کلاس فور کی چوکیدار کی پوسٹ نکلی تو بھوک ہڑتال تک نوبت پہنچ گئی۔ اب فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ ہماری اجتماعی ترجیح کیا ہے:تعلیم یا چوکیداری؟
مستوج اور چنار والو، یہ تماشا بند کیجیے اور اپنے آپ سے ایک سیدھا سوال کیجیے: آپ نے برسوں تعلیمی پسماندگی کا رونا رویا، بچیوں کے لیے کالج مانگا، سہولیات کی کمی کی شکایت کی، اور جب کالج بن کر سامنے آ گیا تو آپ نے اس کے گرد احتجاج کا حصار کھینچ دیا۔ آخر یہ کیسی ترقی پسندی ہے جس میں کالج آتے ہی انقلابِ احتجاج شروع ہو جاتا ہے؟
چنار اور مستوج کے لوگوں کو اب اس نو قیام شدہ گرلز ڈگری کالج کی کامیابی کے لیے اپنا پورا اور بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ والدین اپنی بچیوں کو تعلیم کے لیے تیار کریں، عمائدین ماحول سازگار بنائیں، اساتذہ اپنی ذمہ داری نبھائیں، سیاسی نمائندے سہولیات کے لیے آواز اٹھائیں اور مقامی معاشرہ اس ادارے کو آباد کرنے میں اپنا حصہ ڈالے۔
کالج صرف اینٹ، سیمنٹ اور سرکاری مہر کا نام نہیں؛ ادارے معاشرہ بناتے ہیں اور معاشرہ اداروں کو کامیاب بناتا ہے۔ اگر کلاسز کے انتظام، سہولیات یا مقام میں مسئلہ ہے تو اسے حل کرائیے۔ لیکن ہر مسئلے کا علاج دھرنا نہیں ہوتا۔کالج کو بہتر بنائیے، اسے متنازع بنا کر مفلوج نہ کیجیے۔
اور اگر واقعی مستوج اور چنار کو یہ کالج نہیں چاہیے تو پھر حکومت کو بھی اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ کالج اپر چترال کے کسی ایسے مقام پر منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں لوگ اس نعمت کو بوجھ سمجھنے کے بجائے خوش آمدید کہیں۔ بریپ، چوئنچ اور حتیٰ کہ کھوتان لشٹ جیسے مقامات اس کے لیے زیرِ غور آ سکتے ہیں۔ آخر تعلیمی ادارہ وہاں ہونا چاہیے جہاں طالبات تعلیم حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہوں، نہ کہ جہاں اس کے خلاف محاذ کھڑا ہو۔
مستوج میں البتہ ترجیحات کا معاملہ خاصا دلچسپ ہے۔ کلاس فور کی ایک پوسٹ نکلتی ہے تو پورا معاشرہ جاگ جاتا ہے۔ سفارشیں حرکت میں آتی ہیں، وفود نکلتے ہیں، فون گھومتے ہیں، دھرنے سجتے ہیں، نعرے بلند ہوتے ہیں اور کبھی بھوک ہڑتال کی دھمکی بھی سامنے آ جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے چوکیدار کی ایک پوسٹ نہیں، مستوج کی معاشی آزادی کا اعلان ہونے والا ہے۔
لیکن تعلیم؟ خاموشی۔ کالج؟ اعتراض۔ بچی؟ دوسری طرف دیکھو۔ چوکیدار؟ پورا علاقہ میدان میں۔ یہ محض ایک احتجاج نہیں؛ یہ ہماری ترجیحات کا ایک کھلا ہوا پوسٹر ہے۔ ہم نے روزگار کو منزل بنا لیا اور تعلیم کو بوجھ۔ ہمیں آج کی تنخواہ نظر آتی ہے، کل کی قابلیت نہیں۔ ہمیں سرکاری نوکری کی کرسی دکھائی دیتی ہے، اس کرسی تک پہنچنے کے لیے درکار تعلیم نہیں۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نوجوان بازاروں میں کیوں گھومتے ہیں، روزگار کے لیے سفارش کیوں ڈھونڈتے ہیں اور ہر نئی سرکاری آسامی کو زندگی کا آخری موقع کیوں سمجھتے ہیں۔ آخر کوئی ان سے یہ بھی پوچھے کہ اگر تمہارے علاقے میں تعلیم کے دروازے ہی بند رہیں گے تو تمہارے بچے نوکریوں کی قطار میں آگے کیسے بڑھیں گے؟
مستوج بازار میں دن بھر بیٹھ کر دنیا کی سیاست پر بحث کرنے سے نہ ڈاکٹر پیدا ہوتا ہے، نہ انجینئر، نہ استاد، نہ محقق۔ اس کے لیے کتاب چاہیے، ادارہ چاہیے، استاد چاہیے اور سب سے بڑھ کر تعلیم کی قدر کرنے والی ذہنیت چاہیے۔
مستوج اور چنار کے صاحبانِ احتجاج کو اب ایک بات سمجھنی ہوگی: اپنی بچیوں کے لیے کالج کا مطالبہ کرنا اور پھر کالج کو آباد کرنے کے بجائے اس کے خلاف ماحول بنانا ایک ہی وقت میں نہیں چل سکتا۔ یا تو کالج چاہیے، یا احتجاج کا بہانہ۔ دونوں کو ایک ساتھ لے کر نہیں چلا جا سکتا۔
اگر کالج چاہیے تو اسے آباد کیجیے۔ طالبات داخل کرائیے۔ اساتذہ مانگیے۔ لیبارٹری مانگیے۔ لائبریری مانگیے۔ ٹرانسپورٹ مانگیے۔ بہتر سہولیات مانگیے۔ حکومت کو مجبور کیجیے کہ ادارہ اعلیٰ معیار کا بنائے۔ لیکن بچیوں کو احتجاج کا ایندھن مت بنائیے۔
اور اگر کالج نہیں چاہیے تو صاف کہیے۔ حکومت اسے وہاں منتقل کرے جہاں بچیاں دروازے پر کھڑی ہوں اور کہیں: صاحب، داخلے کب شروع ہوں گے؟ یہی فرق ہے دو معاشروں میں۔ ایک معاشرہ کالج کے خلاف دھرنا دیتا ہے۔ دوسرا معاشرہ کالج کے باہر داخلے کے لیے قطار لگاتا ہے۔
اب مستوج اور چنار کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کون سا معاشرہ بننا چاہتے ہیں۔ چوکیدار کی ایک پوسٹ کے لیے پورا علاقہ جاگ سکتا ہے تو ایک کالج کے لیے بھی جاگ کر دکھائیے۔ ورنہ تاریخ آپ سے ایک نہایت سادہ سوال کرے گی: جب تمہارے پاس اپنی بیٹی کو پڑھانے کا موقع آیا تھا، تم کالج کے دروازے پر کھڑے ہو کر کیا کر رہے تھے؟ اور اس سوال کا جواب کسی نوٹیفکیشن، کسی دھرنے اور کسی کلاس فور کی پوسٹ میں نہیں ملے گا۔