داد بیداد
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
14 اگست 2026ء کو ملک کا 79 واں یومِ آزادی جوش اور جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس سال یومِ آزادی کی خوشیوں کو دو بالا کرنے کے لیے بازار میں ڈھائی فٹ کا نیا باجا بھی متعارف کرایا گیا جس کی آواز لاری کے ہارن سے مشابہت رکھتی تھی، بچوں اور بچیوں نے ہرگاؤں اور محلے میں باجا بجایا بلکہ باجے کو لے کر گاؤں اور محلے کو سر پر اٹھایا۔
بزرگوں، بیماروں اور ہمارے بڑوں نے اس کا برا منایا مگر ہم نے ان کو سمجھایا کہ بچوں اور بچیوں کا کوئی قصور نہیں، وہ یومِ آزادی کی خوشی میں قوم کے شانہ بہ شانہ شریک ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مارکیٹ کا زمانہ آ گیا ہے اور جوچیز مارکیٹ میں آتی ہے وہ فیشن بن جاتی ہے اور مارکیٹ کسی کے قابو میں نہیں، اپنے آپ میں خود مختار ہے گویا شترِ بے مہار ہے۔
ہر گھر ایک بازار ہے، دکاندار ہر اس چیز کو بیچتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ منافع ہو۔ ہم نے ایک شریف زادے سے مروت اور محبت میں پوچھ لیا تم دکاندار اصلی مال سے زیادہ جعلی مال کیوں رکھتے ہو؟ اس نے کہا جعلی مال میں منافع زیادہ ہوتا ہے لیکن یہ ڈھائی فٹ کا باجا اصلی ہے، ہم نے عرض کیا اس کی آواز لاری اور گدھے کی آواز سے ملتی ہے، اس لیے اس پر نقل کا گمان ہوتا ہے، شریف زادے نے کہا:
”جھنڈیاں بیچنے میں اتنا فائدہ نہیں جتنا فائد ہ باجا بیچنے میں ہے، ہم نے کہا یہ مارکیٹ کا زمانہ ہے آزادی کا جشن اپنے جوبن پر تھا، ہم نے رنگ میں بھنگ ڈالنا مناسب نہ سمجھا۔“
یومِ آزادی کے بعد باجوں کا شور تھم گیا ہے مگر باجے کی وہ کرخت اور کان کو پھاڑنے والی نامناسب آواز اب بھی دل و دماغ پر ہتھوڑے برساتی ہے۔ اس باجے سے نہ گھر محفوظ تھا نہ اسکول، نہ ہسپتال، نہ مسجد، ہر جگہ لاری کا ہارن بجتا رہتا تھا، ہماری مسجد کے استاد نے اس کو دہشت گردی اور پولیس گردی کے وزن پر ”باجا گردی“ کا نام دیا تھا، لوگ گھروں سے باہر نکل کر گلی میں باجا بجانے والے بچوں پر غصہ کرتے تھے مگر بچوں کا کوئی قصور نہیں تھا، باجا بزرگوں نے خرید کر دیا تھا، بعض بزرگوں نے انتظامیہ اور پولیس کو موردِ الزام ٹھہرایا مگر انتظامیہ کیا کرتی؟
آزادی کی خوشی منانے سے کسی کو منع بھی نہیں کر سکتی، کسی کو سزا بھی نہیں دے سکتی، اس آواز میں باجا بجانا جرم ہے لیکن قابلِ دست اندازی پولیس ہرگز نہیں، ایک بزرگ کہہ رہے تھے دکاندار کو جرمانہ کرنا چاہیے، اصل بات یہ ہے کہ دکاندار کو بھی جرمانہ نہیں کیا جا سکتا، باجا بیچنا کوئی جرم نہیں، البتہ جس فیکٹری سے پلاسٹک کے یہ بے ہنگم باجے تیار ہو کر بازار میں آئے، پولیس فیکٹری کو خبردار کر سکتی ہے کہ سیٹھ صاحب باجا ضرور بنائیے، اتنی مہربانی کیجیے کہ اس کا سیلنسر چھوٹا رکھیے 4 انچ یا 6 انچ رکھیے تا کہ باجا بجانے کے کام آئے، بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کو ڈرانے کے کام نہ آئے، ویسے سچ پوچھئے تو 2026ء کا یومِ آزادی ملک کے اندر اور ملک سے باہر بے مثال جوش، جذبے اور شوق و ذوق کے ساتھ منایا گیا، سرکاری اور نجی اسکولوں میں شایانِ شان تقریبات منعقد ہوئیں، دینی مدارس میں علماء نے یومِ آزادی کے حوالے سے خصوصی پروگرامات میں طلباء کو شریک کیا، بیرونِ ملک سفارت خانوں کی روایتی تقریبات کے علاوہ برطانیہ، جرمنی، امریکہ اور دیگر ممالک کی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم طلباء اور طالبات نے یومِ آزادی کو ملی نغموں کے ساتھ منایا، بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر سے بھی نوجوانوں کی تنظیموں نے پاکستان کا یومِ آزادی منایا، یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیراں، اےقائد اعظمؒ تیرا احسان ہے تیرا احسان!

