بے حسی شرط ہے جینے کی

گل عدن

میرے ملک کے عظیم لوگ سنا ہے بہت تکلیف سے گزرے ہیں ۔کیوں یوم آزادی کے نام پر پچھلے تین چار سالوں سے باجا گردی کا آغاز جو  ہوا ہے۔ میرے وطن کے غریب بچے پورے سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں صرف ایک دن “باجا” بجاتے ہیں جس سے اس ملک کی سلامتی امن اور تحفظ کو سخت خطرہ لاحق ہو چکا ہے ۔اور اب اشرافیہ چاہتی ہے کہ کسی طرح باجا بنانے والے، باجا بیچنے والوں اور باجا بجانے والوں کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ آئندہ کسی غریب کا چولہا باجا بیچنے سے نہ جلے۔

کسی غریب کا بچہ سال میں ایک دن باجا بجا کر خوش نہ ہو سکے۔

وہ بچے جن کا گلی گلی ریپ کیا جاتا ہے ۔۔

انکے جسموں کے ٹکرے ٹکڑے کر کے انکو بوری بند لاشوں میں تبدیل کیا جاتا ہے تو ان بچوں کی چیخ و پکار پاکستان کے کسی کونے میں سنائی نہیں دیتی۔انکے ماں باپ کے کلیجے پھٹ رہے ہیں لیکن مہذب قوم کو نہ سنائی دے رہی ہے نہ دکھائی دے رہی ہے۔لیکن یہی بچے ایک دن باجا بجائیں تو ہماری برداشت ختم ہو جاتی ہے ۔ہمارے بزرگ ہسپتال سکول وغیرہ وغیرہ کی مہذب قوم کو سب کی فکر کھا جاتی ہے ۔

وہ تمام مہذب لوگ جنکو سال بھر میں صرف ایک دن کی باجا گردی سے تکلیف پہنچی ہے میں اس ملک کے تمام غریب اور معصوم بچوں کی طرف سے آپ سے معافی مانگتی ہوں اور آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ خدارا ان بچوں کو ایک دن کی بجا گردی ہضم ہونے دیں۔کیونکہ اس ملک کی موجودہ صورت حال ایک طرف ہے لیکن یہ حقیقت ایک طرف کے صرف دس فیصد لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو عیش و عشرت کی زندگی دے رہے ہیں انہیں شاپنگ کے لئے دبئی اور گھمانے کے لئے ڈیزنی ورلڈ لےجارہے ہیں۔

باقی نوے فیصد پاکستانی بچے گھروں کے اندر بھی اور گھر سے باہر بھی بہت مشکل سے بہت تکلیف سے گزر رہے ہیں ۔ وہ غریب لوگ باجا بیچ کر اپنا اور اپنے بچوں کا اپنے بوڑھے ماں باپ کا پیٹ پال رہے ہیں۔انہیں بھی دو وقت کی روٹی اور ڈاکٹر دوائی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی ہر کلاس کے فرد کو ہے ۔۔اور انہی نوے فیصد عوام کے بچے ہیں جو اپنے ہی گلی میں ایک دن باجا بجا کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ انہیں بھی خوش ہونے کا حق ہے۔

میرے قوم کے مہذب لوگوں! تھوڑا سا ظرف وسیع کرلیں اس ملک میں بہت مسائل ہیں بہت زیادہ ۔

ہم ان مسائل سے نہیں گزرتے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ مسئلہ ہے ہی نہیں ۔۔ بجا گردی سے بہت بڑے بڑے 

مسائل  ہیں ۔۔ جن پر ہم لکھ سکتے ہیں آواز اٹھا سکتے ہیں اگر چاہیں تو۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest