Faizi 1

دودھ دینے والی بکری

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

اپنی دودھ دینے والی بکری کو تاجر کبھی ذبح نہیں کرتا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے کشمیر کی انتخابی جنگ کے دوران مسلم لیگ سے وفاقی حکومت چھوڑنے کا مطالبہ ہوا تو لیگی حلقوں کی طرف سے جوابی مطالبہ آیا کہ صدارت، دو صوبوں کی حکومت، اور دو صوبوں میں گورنر، مرکز میں چیئرمین سینیٹ کے عہدے چھوڑ دو۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی اور مورخ ہاتھ پر ہاتھ دھرے آکڑوں بیٹھ گیا۔

دودھ دینے والی بکری کی جان عزیز کا مسئلہ درپیش ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

تحریک انصاف والوں نے پارٹی لیڈر کی رہائی کے لئے احتجاج کی کال دیدی اور اس کو فائنل کال کا نام دیا، اپنے لیڈر کی رہائی کی تاریخ بھی طے کی اور ان کے استقبال کے انتظامات پر مشاورت مکمل کی۔ احتجاج کا دن آیا، دور دراز علاقوں کے لوگ شہر میں امڈ آئے، تاریخ کا عظیم الشان جلسہ ہوا، جلسے میں جوش و خروش کے ساتھ تالیوں اور ڈھولکیوں کی گونج میں قرار داد منظور کی گئی۔ قرار داد میں لیڈر کی رہائی کے لئے دو ماہ بعد ایک اور کال دینے کا وعدہ کیا گیا۔ کارکنوں نے پرجوش نعروں کے ساتھ گھر واپسی کی راہ لی۔ یہاں بھی بکری اور دودھ کا بھی وہی حشر ہوا، اور دودھ کا وہی مسئلہ تھا۔

قصہ مشہور ہے، نوکر نے سیٹھ سے کہا، میری تنخواہ بڑھاؤ، ورنہ۔ سیٹھ نے پوچھا، ورنہ کیا کرو گے؟ نوکر بولا، موجودہ تنخواہ پہ گذارہ کروں گا۔

حاسدین کا خیال ہے کہ بکری کی جگہ دودھ دینے والی موٹی تازی بھینس ہے اور اس کو ذبح کرنے کا مسئلہ ہے۔ کوئی منصف مزاج اور ہوشیار تاجر ایسی بھینس کو کسی بھی صورت میں ذبح نہیں کرے گا۔

پچھلے دنوں ایک بڑے سیاستدان کی تقریر میں اپنے ساتھیوں کے خلاف چند باتیں اخبارات کی زینت بن گئیں، مخالفین نے ان باتوں کی خوب تشہیر کی، مروجہ اصطلاح کی رو سے ان کو وائرل کیا، یعنی ہوا کے دوش پہ سوار کیا۔ ساتھیوں نے گلے شکوے کئے تو بڑے سیاستدان نے کہا، میری تقریر کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ چنانچہ اندرونی اختلافات دور ہو گئے، مخالفین اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

یوٹرن لینے والا آج کل معافی نہیں مانگتا بلکہ “توڑ مروڑ” سے کام لے کر پتلی گلی سے نکل جاتا ہے۔ مسئلہ دودھ دینے والی بکری یا بھینس یا گائے کا ہے، جسے کوئی ذی ہوش تاجر بقاہمی ہوش و حواس قربان نہیں کرتا، دودھ بھی دوہتا ہے اور پیتا رہتا ہے۔

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ حکومت میں شراکت دار پارٹیوں نے اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لئے اپنی اپنی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سعادت مند اور فرماں بردار وکلاء کے نام تجویز کئے۔ جب یہ نام آخری دستخط کے لیے ظل الہی کی میز پر رکھے گئے تو انہوں نے اپنی پارٹی سے مزید وکلاء کو جج بنانے کا مطالبہ کیا۔ فائل بھیجنے والوں نے کہا، مِک مکا کرتے وقت جو فارمولا طے ہوا تھا، اس میں ظل الہی کی پارٹی سے یہی نام آئے تھے۔ ظل الہی نے کہا، وہ فارمولا کوئی آسمان سے اترے ہوئے صحیفے کی طرح نہیں، جس کو تبدیل نہ کیا جا سکے۔

چنانچہ اتحادی شراکت داروں کے درمیان اعلیٰ عدلیہ کو سیاسی جماعتوں میں برابر تقسیم کرنے پر جھگڑا پڑ گیا ہے۔ مسئلہ یہاں بھی دودھ دینے والی جانور کا ہے، کیونکہ ہماری سیاست خون دینے والے مجنوں پر حرام ہے، صرف دودھ پینے والے مجنوں کی گنجائش رکھی گئی ہے، اور دودھ پینے والا کوئی مجنون اتنا مجنون نہیں ہوتا کہ دودھ دینے والے جانور کو ذبح کرکے اپنے لئے دودھ کی نہریں خشک کرنے کا خطرہ مول لے۔

مسلمانوں کے قرن اول کا زمانہ کیا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں سیاست لوگوں کی خدمت اور اللہ پاک کی رضا مندی کے لئے کی جاتی تھی۔ نبی پاک خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا ہے:

“بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے۔”

بہترین زمانے کو گزرے ہوئے 1400 سال ہو گئے، آج کا زمانہ بالکل مختلف رفتار پکڑ رہا ہے۔ ہمارے زمانے میں سیاست صرف تجارت کے لئے کی جاتی ہے۔ ایک کروڑ روپے لگاؤ، دس کروڑ روپے کماؤ، تم کامیاب سیاست دان کہلاؤ گے۔ ایک کامیاب سیاست دان اصول، قانون، منشور اور دستور نہیں دیکھتا، صرف “موقع” دیکھتا ہے، اور موقع ملتے ہی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔

ڈاکٹر مبارک علی فرانس کے ایک کامیاب سیاستدان کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ موقع پرستی کا دیوتا کہلاتا ہے۔ اس کا نام ٹیلی رانڈ (Talleyrand) تھا۔ اس نے نپولین کی بغاوت کے زمانے میں بادشاہ کا ساتھ دیا، بغاوت کامیاب ہوئی تو نپولین کا مشیر بن گیا، نپولین کے خلاف بغاوت ہوئی تو باغیوں سے مل گیا۔ لوگوں نے پوچھا، تم کیا کر رہے ہو؟ کیا تمہارا کوئی اصول اور ضمیر نہیں؟ تو اس نے کہا، “یہ سیاست ہے۔”

ہمارا کوئی بڑا سیاستدان چار سال یا دو سال پہلے کے بیان سے مکر جائے تو کہتا ہے، وہ میرا سیاسی بیان تھا۔ اپنے دستخط سے مکر جائے تو کہتا ہے، یہ سیاسی دستخط تھا۔ کسی بھی موقف سے یکدم پیچھے ہٹ جائے تو کہتا ہے، یہ سیاست ہے۔ دراصل یہ دودھ دینے والی بکری کی جان بچانے کی ترکیب ہے، یعنی سیاست اس کے لئے تجارت ہے۔

جیسا کہ ایک بڑے سیاستدان نے اپنی ہی کابینہ کے خلاف بڑی دھواں دار تقریر کی، اپنی حکومت کی ناکامی پر ٹسوے بہائے اور انقلاب کی نوید سنائی۔ دو چار دنوں تک اس کی تقریر وطن کی فضاؤں میں گونجتی رہی، پھر اس کو دودھ دینے والی بکری کا خیال آیا تو اپنی لمبی چوڑی تقریر سے مکرنے کے لئے “توڑ مروڑ” والا نسخہ آزمایا، مگر اُس نے توڑ مروڑ کی جگہ نئی اصطلاح استعمال کی، “میرا یہ مطلب نہیں تھا”، حالانکہ اس کا مطلب وہی تھا۔

آج کل پٹنہ، لکھنو اور دوبئی کے مشاعروں میں مزاح نگار سرویش استھانہ اپنے فن سے سامعین کو محظوظ کرتے ہیں۔ پٹنہ کے ایک مشاعرے میں انہوں نے کہا، “بھگوان کی قسم، میں جھوٹ نہیں بولتا، یہاں بڑے بڑے منتری بیٹھے ہیں، مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے!”

اس پر تالیاں آور قہقہے بلند ہوئے، سامعین نے وزیروں کی طرف دیکھنا شروع کیا تو استھانہ بولے، “آپ نے غلط سمجھا، میرا وہ مطلب نہیں تھا۔”

پھر تالیاں، پھر قہقہے۔

اب استھانہ بولے، “حالانکہ میرا وہی مطلب تھا جو آپ سمجھے۔”

ہمارے ملک کے سیاست دانوں کا بھی یہی حال ہے۔ آج زور دار بیان دو، رات مک مکا کرلو، کل کہو، “میرا وہ مطلب نہیں تھا۔”

اللہ اللہ! خیر سلا۔

2 thoughts on “دودھ دینے والی بکری”

  1. I fully agree with Mr Ahmad. Faizi sahib should have shed light on the big elephant in the room. Sparing the big elephant which is directly responsible for the political, economic mess in the country. Btw Faizi sahib aaj kal Bo zada pro establishment bitisur, which literally hurts. we want our once rebel Faizi sahib back.

  2. ڈاکٹر صاحب نے کیا خوب قصہ چھیڑا ہے۔ بکری بھی آگئی۔ دودھ بھی آگیا۔ تاجر بھی آگیا۔ مگر جس ہاتھ میں رسی ہے، وہ ہاتھ کہیں نظر نہیں آیا۔ مضمون شروع ہوتا ہے بکری سے، چلتا ہے بکری پر، ختم بھی بکری پر ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی پوری سیاست کسی چراگاہ میں پیدا ہوئی، کسی باڑے میں پلی، اور کسی منصف مزاج تاجر کی بالٹی میں دم توڑ گئی۔

    سیاست دانوں کو دودھ دوہنے والا بنا دیا گیا۔ کوئی بکری بچا رہا ہے۔ کوئی بھینس بچا رہا ہے۔ کوئی گائے کے سینگ سہلا رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جناب! یہ ریوڑ چلتا کس کے اشارے پر ہے؟ چرواہا کہاں ہے؟ بانسری کس کے ہاتھ میں ہے؟

    اور جب کبھی کوئی بکری اپنی مرضی سے دوسری طرف جانے لگے تو راستہ کس کی لاٹھی دکھاتی ہے؟ یہ سوال مضمون کے دروازے تک آیا، مگر اندر داخل نہ ہو سکا۔ مصنف نے سیاست کے بازار کا پورا حساب لکھ دیا۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، تحریک انصاف، اتحادی حکومتیں، عہدے، مفاد، یوٹرن، ججوں کی تقرری—سب کے کپڑے اتار دیے۔

    واہ! کیا خوب بازار لگایا! مگر عجیب بازار ہے کہ دکاندار سب موجود ہیں، گاہک سب موجود ہیں، بھاؤ تاؤ بھی جاری ہے، مگر بازار کے اصل مالک کا نام تختی سے مٹا دیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک فن ہے۔ کمزور کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا اور طاقتور کے دروازے پر پہنچ کر دستار درست کر لینا۔

    ڈاکٹر صاحب نے سیاست دانوں کی بزدلی پر خوب قہقہے لگائے۔ “میرا وہ مطلب نہیں تھا” پر خوب تیر چلائے۔ یوٹرن لینے والوں کو خوب آئینہ دکھایا۔ مگر قلم سے ایک سوال رہ گیا: کیا سیاست کا کھیل صرف سیاست دان کھیلتے ہیں؟ کیا اقتدار کی شطرنج میں صرف وہی مہرے ہیں جو ٹی وی پر نظر آتے ہیں؟ کیا بساط خود بخود بچھ جاتی ہے؟

    یہ وہ مقام ہے جہاں مضمون کا طنز رک جاتا ہے، اور قاری کا سوال شروع ہوتا ہے۔ دنیا میں سب سے بڑا جرم جھوٹ نہیں، ادھورا سچ ہوتا ہے۔ پورا سچ زبان کاٹ سکتا ہے، اس لیے لوگ اکثر آدھا سچ بولتے ہیں۔ آدھا سچ محفوظ بھی ہوتا ہے، مقبول بھی، اور قابلِ اشاعت بھی۔

    ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ تاجر دودھ دینے والی بکری کو ذبح نہیں کرتا۔ بالکل درست۔ مگر حضور! ذرا یہ بھی بتائیے کہ بکری کس کے اصطبل میں ہے؟ اس کی قیمت کون لگاتا ہے؟ اور جب ریوڑ کا رخ بدلتا ہے تو صرف بکریاں بدلتی ہیں یا راستے بھی بدلتے ہیں؟

    مضمون میں سیاست دانوں کی تجارت کا ذکر ہے، مگر طاقت کی سیاست کا باب غائب ہے۔ مضمون میں مفاد پرست کردار ہیں، مگر پورا کھیل نہیں۔ مضمون میں دودھ ہے، مگر دودھ کی نگرانی کرنے والا نظام نہیں۔ یہ ایسے ہے جیسے کوئی عدالت کا قصہ لکھے اور صرف وکیلوں کی بحث بیان کرے، مگر فیصلہ دینے والی کرسی کو پردے کے پیچھے رکھ دے۔

    طنز کی اصل روح یہی ہے کہ جہاں سب نظریں ہٹا لیں، وہاں انگلی رکھ دی جائے۔ جہاں سب نام لینے سے گھبرائیں، وہاں سوال اٹھایا جائے۔ ورنہ یہ طنز نہیں، محفوظ مزاح ہے۔ ایسا مزاح جس پر کمزور بھی ہنس لے اور طاقتور بھی ناراض نہ ہو۔

    ڈاکٹر صاحب نے سیاست دانوں کے “میرا وہ مطلب نہیں تھا” پر خوب تبصرہ کیا۔ مگر قاری بھی آخر میں یہی کہنے پر مجبور ہوتا ہے: “جناب! مضمون کا مطلب تو ہم سمجھ گئے، مگر جو نہیں کہا گیا، وہ زیادہ زور سے سنائی دے رہا ہے۔”

    بکری کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ بکری کا ذکر آگیا، دودھ کا حساب بھی ہوگیا، مگر چرواہے کی تلاش باقی ہے۔ وہ چرواہا جو اس ملک کے قیام سے ہی اس کھیل کا حصہ رہا ہے—اتنا طاقتور کہ فیضی صاحب جیسے نڈر قلم کار بھی اس کا نام لینے سے گریز کرتے ہیں۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest