Sher

وخان کوریڈور/بروغل پاس اور دورہ پاس

شیر ولی خان اسیر

آج کل واخان کوریڈور اور چترال تاجکستان روڈ زیر بحث ہے۔ ماضی میں بھی یہ “خیالی منصوبہ” زیر گفتگو رہی ہے۔ چترال زیریں کے قلمکار دورہ پاس کی وکالت کرتے رہے ہیں تو چترال بالا والے بروغل پاس کو زیادہ موزوں روٹ قرار دیتے رہے ہیں۔ این ایچ اے نے دونوں روٹس کا جائزہ لیا ہوا ہے البتہ سرکار کی طرف سے اس بابت کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے ۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ قدیم بین الاقوامی گزرگاہوں کی جدید دور کے مطابق پھر سے بحالی دنیا والوں کی ضرورت بنی ہے۔ اس کا خیال ان تمام ممالک کو ہے جو آپس میں زمینی راستوں کے ذریعے تجارتی ، تعلیمی اور سماجی روابط کو ضروری سمجھتے ہیں البتہ مختلف سیاسی نوعیت کی وجوہات اس بین الاقوامی نوعیت کے منصوبے کو عملی شکل دینے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

ماضی کی زمینی گزرگاہوں کا نیٹ ورک مشرقی، وسطی، جنوبی ایشیائی ممالک اور مشرق وسطیٰ ، افریقہ اور یورپ تک پھیلا ہوا تھا۔ جس کے ذریعے اقوام عالم ایک دوسرے سے مربوط تھے۔ سڑکوں کا یہ نٹ ورک سلک روٹس کہلاتا تھا۔ سلک روٹس کی دو شاخیں چترال سے گزرتی تھیں ایک وادیٔ یارخون اور دوسری دورہ پاس سے گزرتی تھی ۔ دونوں کی اپنی اپنی افادیت تھی اور ہے نقصانات بھی تھے جیسا کہ شمال کی طرف سے آنے والے حملہ آور بھی ان دروں کا زیادہ استعمال کرتے تھے۔اس بابت میں نے دونوں روٹس کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی کوشش کی ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ جائزہ کس حد تک معقول ہے ۔

بروغل پاس: سب سے پہلے آریا قوم نے اس درے کو استعمال کیا جن کی قبل از مسیح کی نشانیاں وادی کے اندر بکھرے پڑے ہیں۔ بعد کے زمانے میں یہ درہ چینی ترکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں سے آنے والے تجارتی اور حج بیت اللہ پر جانے والے کاروانوں اور غیر ملکی حملہ آوروں کی گزر گاہ رہا۔ ترک مسافروں کی قبریں اور زبانی روایات اس بطور گواہ موجود ہیں۔ بروغل پاس ذیل خصوصیات کا حامل ہے۔
چترال شہر سے اس کا فاصلہ 250 کلو میٹر ہے
2۔ اس کی اونچائی 3797 میٹر ہے یعنی شمال مغرب کی طرف کھلنے والے دروں میں سب سے پست درہ ہے۔
3۔ بروغل پاس سے گزرنے کے بعد وخان کوریڈور سے ہوتے ہوئے افغانستان کے شکاشم کا فاصلہ 30 – 50 کلومیٹر کے بیچ ہے۔ یعنی مجوزہ شاہراہ کم و بیش تیس چالیس کلومیٹر افغان سرحد کے اندر سے گزرے گی اور وہ بھی ابادی بہت دور۔
4۔ اس درے کی فیزیکل ساخت ہموار ہے۔ اگر ٹنل بنانا پڑے تو صرف ایک ٹنل کی ضرورت پڑے گی۔
5۔ وادیٔ یارخون میں نسبتاً برف کم پڑتی ہے۔موجودہ حالت میں بھی سال بھر آمدورفت ہوتی رہتی ہے۔فٹ
6۔ اس پر تعمیری لاگت دورہ روٹ کی نسبت کم آئے گی کیونکہ:
ا۔ چترال – مستوج 105 کلومیٹر سی پیک پروجیکٹ میں پہلے سے شامل ہے اور زیر تعمیر ہے۔
ب۔ مستوج سے دربند تک 65 کلومیٹر 25 فٹ چوڑی کچی سڑک موجود ہے۔
ج۔ باقی 80 کلومیٹر جیب ایبل کچی سڑک بھی تیار ہے۔ د۔ اس روٹ میں پہاڑ اور گلیشیرز بہت کم آتے ہیں ۔
7۔ یہ علاقہ پر امن ہے اور سیاحت کے لیے دلکش یے۔
8۔ وادی کی چوڑائی زیادہ ہے۔ سڑک کی تعمیر سے علاقے کی آبادی اور زمینوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
9۔ یہ روٹ وخجیر پاس کے ذریعے چین سے منسلک ہے یعنی چین کے لیے قریب ترین ہے۔

دورہ پاس: یہ درہ قدیم سے چترال اور بدخشان کے درمیان آمدورفت کا ذریعہ تھا۔ یہاں سے حملہ آور ، حاجی اور تجارتی قافلے چترال آتے رہے ہیں۔
1 دورہ پاس سطح سمندر سے 4000 میٹر اونچا ہے۔
2۔ چترال سے دورہ پاس 80 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
3 ۔ جیب ایبل کچی سڑک موجود ہے۔
4۔ مجوزہ شاہراہ دورہ سے شکاشم (تاجکستان سے متصل جگہہ) 150 کلومیٹر افغانستان حدود کے اندر سے گزرے گی۔
5 ۔ سکیورٹی کے حوالے سے افغانی علاقہ غیر محفوظ ہے۔
6۔ اس روٹ پر پہاڑی سلسلے اور گلیشر زیادہ آتے ہیں۔
7 ۔ پہاڑوں کی کٹائی اور ٹنل بنانے پر لاگت زیادہ آئے گی۔
8۔ لوٹکوہ وادی کا زیادہ حصہ تنگ اور سنگلاخ ہے۔ سڑک کی تعمیر سے مقامی آبادی ، جنگلی حیات اور زرعی زمینوں کو بڑا نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
9۔ وادیٔ لوٹ کوہ اور گوبور تریچ میر کے قریب تر مغربی طرف واقع ہیں جہاں برف زیادہ پڑتی ہے اور جو امدورفت کو متاثر کرتی رہتی ہے۔
لہذا چین اور وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے درہ پاس کی نسبت بروغل پاس زیادہ موزوں ہے۔ البتہ شمالی افغانستان کے ساتھ زمینی سڑک دورہ سے گزرنا زیادہ مناسب ہے۔ یہ دونوں قدیم گذرگاہیں شاہراہ ریشم کی پرانی شاخیں ہیں اور دونوں کی دوبارہ بحالی وقت کی آہم ترین ضرورت ہے۔

1 thought on “وخان کوریڈور/بروغل پاس اور دورہ پاس”

  1. واہ رے پہاڑ! تیری قسمت بھی عجیب نکلی- صدیاں گزر گئیں، بادشاہ آئے، بادشاہ گئے، قافلے چلے، گھوڑے تھکے، اونٹوں نے گرد اڑائی، مگر پہاڑ وہیں کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ پہاڑوں کو شاید انسانوں پر ہنسی آتی ہوگی۔ وہ کہتے ہوں گے: “ہم تو ہزاروں سال سے راستہ بننے کا انتظار کر رہے ہیں، مگر یہ عجیب مخلوق ہے کہ پہلے راستے پر بحث کرتی ہے، پھر بحث پر کمیٹی بناتی ہے، پھر کمیٹی پر بحث کرتی ہے۔”

    آج کل چترال، واخان اور تاجکستان کے راستے کا چرچا ہے۔ ایک طرف دورہ پاس کے عاشق ہیں، جو تاریخ کی پرانی کتاب ہاتھ میں لیے کھڑے ہیں: “جناب! ہمارے درے سے قافلے گزرے تھے، ہمارے راستے نے زمانے دیکھے ہیں۔”

    دوسری طرف بروغل والے ہیں، جو نقشہ، پیمانہ اور حساب کتاب لے کر میدان میں اترے ہیں: “حضور! صرف یہ نہ دیکھیں کہ کل کون سا راستہ تھا، یہ بھی دیکھیں کہ کل کے بعد کون سا راستہ ہوگا۔” بس یہی تو مسئلہ ہے۔ ہم اکثر ماضی کی محبت میں مستقبل کو بھول جاتے ہیں۔

    بھائی! پرانا ہونا کوئی عیب نہیں، مگر ہر پرانی چیز کو نئی دنیا کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار سمجھ لینا بھی عقل مندی نہیں۔ گدھا بھی قدیم سواری ہے، مگر آج کوئی اسے موٹر وے پر ٹرک کے مقابلے میں کھڑا نہیں کرتا۔

    دورہ پاس اپنی جگہ محترم ہے۔ اس کے سینے پر تاریخ کے قدموں کے نشان ہیں۔ اس نے قافلے دیکھے، مسافر دیکھے، حاجی دیکھے، تاجر دیکھے۔ مگر جنابِ والا! آج زمانہ صرف کہانیاں نہیں مانگتا، رابطہ مانگتا ہے۔ صرف روایت نہیں مانگتا، رفتار مانگتا ہے۔

    یہاں بروغل پاس آتا ہے، اپنی پگڑی سنبھالتا ہے اور کہتا ہے: “حضور! میری بھی کچھ سن لیجیے۔” “میں کم اونچا ہوں، کم مشکل ہوں، کم خرچ ہوں، چین کے قریب ہوں، اور میرے راستے میں مستقبل کی خوشبو ہے۔”

    اب ذرا حساب کی عینک لگائیے۔ بروغل کی بلندی 3797 میٹر۔ فاصلہ تقریباً 250 کلومیٹر۔ وادی کشادہ۔ برف نسبتاً کم۔ گلیشیئر کم۔ راستہ زیادہ ہموار۔ گویا پہاڑ خود درخواست دے رہا ہے: “مجھے موقع دو، میں تمہیں تجارت دوں گا، سیاحت دوں گا، رابطہ دوں گا۔”

    مگر دوسری طرف دورہ پاس بھی اپنی مونچھوں کو تاؤ دے کر کہتا ہے: “میری تاریخ دیکھو!” ارے بھائی! تاریخ اپنی جگہ آنکھوں کا نور ہے، مگر سڑک صرف تاریخ کے فریم میں لگانے کے لیے نہیں بنتی، سڑک چلنے کے لیے بنتی ہے۔

    جو راستہ کبھی پیدل قافلے کے لیے اچھا تھا، ضروری نہیں کہ آج ٹرک، تجارت اور علاقائی معیشت کا بوجھ بھی اٹھا سکے۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ پہلے سوال ہوتا تھا: “یہاں سے آدمی گزر سکتا ہے؟” آج سوال ہے: “یہاں سے معیشت گزر سکتی ہے؟”

    دورہ پاس کے حامی کہتے ہیں: “ہم چترال کے قریب ہیں۔” نقشہ جواب دیتا ہے: “مگر بلندی، برف، گلیشیئر اور تعمیراتی مشکلات بھی ساتھ ہیں۔” اور جب راستہ سرحدوں کے بیچ سے گزرتا ہے تو صرف پتھر نہیں دیکھے جاتے، حالات بھی دیکھے جاتے ہیں۔ یہ کوئی پہاڑ پر چڑھنے کا مقابلہ نہیں کہ جو درہ زیادہ پرانا نکلے وہ جیت جائے۔ یہ مستقبل بنانے کا معاملہ ہے۔

    بروغل کی بات میں وزن ہے: یہ چین کے قریب تر رابطہ دے سکتا ہے، خنجراب پاس کے ذریعے نئے امکانات کھول سکتا ہے، اور وسط ایشیا تک رسائی کا زیادہ عملی راستہ بن سکتا ہے۔

    مگر ہماری قوم کا ایک پرانا شوق ہے: ہم راستے دیکھ کر بھی کبھی کبھی راستہ بھول جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے: “یہ درہ میرا ہے۔” کوئی کہتا ہے: “یہ راستہ ہمارا ہے۔” پہاڑ حیران ہو کر کہتے ہوں گے: “بھائیو! ہم دونوں کے ہیں، بس کوئی ہمیں چلنے کے قابل تو بنا دے۔”

    حقیقت یہ ہے کہ دورہ اور بروغل دونوں تاریخ کے وارث ہیں، مگر مستقبل ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے: کون سا راستہ کم مشکل، کم خرچ، زیادہ محفوظ اور زیادہ فائدہ مند ہے؟ اور اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں، جغرافیہ، معیشت اور عقل سے نکلے گا۔

    شیر ولی خان اسیر نے نقشے کو زبان دی ہے۔ انہوں نے پہاڑوں سے پوچھا ہے کہ تم کس راستے سے قوموں کو قریب لا سکتے ہو؟ اب باری ہماری ہے۔ پہاڑ کھڑے ہیں۔ واخان انتظار میں ہے۔ چترال آواز دے رہا ہے۔ بس دیکھنا یہ ہے کہ ہم راستہ چنتے ہیں یا پھر راستوں پر بحث کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ دنیا کے قافلے چل پڑے ہیں… اور ہم ابھی تک یہ طے کر رہے ہیں: “اونٹ کس طرف موڑا جائے؟”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest