دھڑکنوں کی زبان
محمد جاوید حیات
آج گاؤں میں ہائی سکول کی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا جا رہا تھا اور کھدائی شروع ہونے والی تھی۔ چچا کامران راج مزدور تھے اور بہت خوش تھے؛ ایک تو گاؤں ہی میں مزدوری مل گئی تھی، روز دیہاڑی لگے گی اور روز کام پر جانا ہوگا، دوسرا ان کے تصور کی دنیا میں کچھ خوبصورت خواب انگڑائی لے رہے تھے۔ سکول بنے گا، ایک تعلیمی ادارہ قائم ہوگا… گاؤں کے بچے ادھر پڑھیں گے، گاؤں کا مستقبل سنورے گا اور قوم تعلیم یافتہ ہوگی۔ بچیاں بھی تعلیم سے محروم نہ رہیں گی۔ ان جذبوں کے تحت انہیں حکومت، محکمہ تعلیم اور ٹھیکیدار سب پر ایک ساتھ پیار آ رہا تھا۔
آج وہ خوشی خوشی مزدوری پر گئے۔ ٹھیکیدار پتلون پہنے ایک نوجوان کے ساتھ آیا ہوا تھا۔ وہ جوان اتنا مغرور تھا کہ کسی کے سلام کا جواب تک نہیں دیتا تھا، مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب بے سکونی، نقاہت اور افسردگی تھی۔ چند مزدور اکٹھے تھے، نقشہ سامنے پھیلا ہوا تھا اور دیواروں کی بنیادیں کھودنی تھیں۔ کدال اور بیلچے لائے گئے۔ ٹھیکیدار صاحب ایک مخصوص موڈ بنا کر کھڑے تھے کہ اتنے میں ایک کدال چچا کامران کو تھما دی گئی۔ کم از کم دو فٹ کھدائی کرنی تھی، پھر سریا ڈال کر کنکریٹ سے بنیاد مضبوط کرنی تھی، آخر سکول کی عمارت تھی… قوم کا مستقبل اسی عمارت میں بننا تھا۔ بچے سفید لباس میں ملبوس یہاں آئیں گے، پڑھیں گے اور پڑھ لکھ کر قوم کی خدمت کریں گے۔ کوئی ڈپٹی کمشنر کی چمکتی کرسی پر بیٹھے گا، کوئی ڈاکٹر بنے گا، کوئی انجینئر بنے گا، کوئی ملک کی حفاظت کا بیڑہ اٹھائے گا تو کوئی عوام کی جان و مال کا محافظ بنے گا۔
سورج کی پہلی کرن ابھی زمین پر پڑی ہی تھی کہ ٹھیکیدار نے کڑک دار آواز میں کہا: “شاباش! کام شروع کرو…”
کامران چچا کو ایک دھچکا سا لگا۔ نہ کوئی دعا، نہ التجا، نہ اللہ کی مدد کی طلب اور نہ ہی ‘بسم اللہ’… بس “کام شروع کرو”۔ چچا نے کدال اٹھائی، دل میں ‘بسم اللہ’ پڑھی اور پوری طاقت سے زمین پر ماری۔ ‘بسم اللہ’… اس طاقت کے ساتھ ان کا جذبہ اور خواب بھی شامل تھے—قوم کا مستقبل!
وہ کدال مارتے جا رہے تھے۔ کام کے تین مراحل ہوتے ہیں؛ پہلا مرحلہ ‘وارم اپ’ کا ہے، دوسرے میں تھوڑی سی تھکن ہوتی ہے اور تیسرا مرحلہ پیشانی پر پسینے کا نمودار ہونا ہے۔ یہی اصل کام ہے اور اسی پسینے کا معاوضہ ملتا ہے؛ پہلے دو مراحل کا کوئی معاوضہ نہیں۔ فخرِ موجودات، نبی کریم ﷺ نے اسی پسینے کا ذکر فرمایا تھا کہ مزدور کا معاوضہ اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کیا جائے۔ استاد بھی اگر کلاس روم میں اتنا پڑھائے کہ اس کی پیشانی پر پسینہ آ جائے، تب تو ٹھیک، ورنہ اگر وہ پانچ منٹ گزار کر باہر آ جائے تو اس نے کام نہیں کیا اور اس کا معاوضہ حلال نہیں۔
کامران چچا مسلسل کدال مارے جا رہے تھے۔ جب ان کی پیشانی پر پسینہ نمودار ہوا تو انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ یہ دیکھ کر ان کے حیرت کی انتہا نہ رہی کہ سارے مزدور بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے۔ چچا کامران نے چیخ کر کہا: “کیوں بیٹھے ہو؟ کیا کر رہے ہو؟”
مزدوروں نے مسکرا کر لاپروائی سے کہا: “چچا! ٹھیکیداری ہے، جان مت کھپاؤ، ذرا سستاؤ۔”
چچا نے پوچھا: “ٹھیکیدار کدھر ہے؟”
مزدوروں نے جواب دیا: “جاؤ، وہاں منشی سے پوچھو۔”
منشی ایک گھنے درخت کے سائے میں بیٹھ کر سگریٹ میں چرس (حشیش) بھر رہا تھا۔ چچا کو دیکھ کر بولا: “آ جاؤ چچا! کوئی پرانی بات سناؤ، کوئی کہانی سناؤ۔”
چچا نے پوچھا: “بیٹا! ٹھیکیدار کدھر ہے؟”
“چچا! ٹھیکیدار چلا گیا ہے۔”
“کہاں؟”
“چچا! اس کے اور بھی کام ہیں، کسی دوسری سائیڈ پر گیا ہوگا۔”
“ٹھیکیدار کے ساتھ وہ جو پتلون والا جوان تھا، وہ کون تھا؟”
“وہ سائیڈ انجینئر تھا چچا۔”
“تو انجینئر نے ٹھیکیدار سے یہ نہیں کہا کہ تم ہمیشہ سائیڈ پر رہو، کہیں مت جاؤ اور کام کی نگرانی کرو؟”
“نہیں چچا، نگرانی کے لیے میں جو اس کا منشی ہوں!”
“لیکن تم تو یہاں بیٹھ کر حشیش بھر رہے ہو اور مزدور وہاں بیٹھ کر گپیں ہانک رہے ہیں…”
منشی نے سگریٹ سلگائی، ایک لمبا کش لیا اور زور سے قہقہہ مار کر بولا: “چچا! اپنی دیہاڑی کی فکر کرو۔ بس حاضری لگ گئی، تو سمجھو کام ہو گیا۔”
“بیٹا! یہ سکول ہے، سپنوں کا سکول… یہاں پر قوم کا مستقبل پنپے گا، قوم کی بنیادیں بنیں گی۔ یہاں تعلیم دی جائے گی اور حاصل کی جائے گی۔ یہاں سے جو جوان اٹھیں گے، وہ مضبوط اعصاب، مضبوط ارادوں اور مضبوط ایمان کے مالک ہوں گے۔ اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے، بنیادیں گہری اور دیواریں ثریا تک بلند ہونی چاہئیں…”
منشی نے سگریٹ کا ایک اور لمبا کش لیا: “چاچو! ٹھیکیدار نے کہا ہے کہ اس کی بنیادیں صرف ایک فٹ کھودی جائیں، حالانکہ کاغذات میں تین فٹ لکھی ہیں۔ پھر بنیادیں چٹان نما پتھروں سے بھرنی چاہئیں، مگر کاغذوں میں سریا اور سیمنٹ لکھا ہوا ہے۔ دیواروں میں مسالہ ایک اور دس (1:10) کی نسبت سے لگانا ہے، جبکہ کاغذوں میں ایک اور تین (1:3) کی نسبت درج ہے۔ پھر فرش اور سیڑھیوں کا بھی یہی حال ہوگا…”
چچا لرزہ براندام ہو گئے: “بیٹا! ایسا کیوں؟”
منشی نے چرس کا ایک اور کش لیا: “چاچو! کاغذ پر اس ٹھیکے کی رقم دس کروڑ روپے ہے… لیکن چاچو! یہ ٹھیکیدار کو صرف پانچ کروڑ ملیں گے۔ دس دس فیصد محکموں کے بڑوں میں تقسیم ہوگا، دس فیصد محکمہ مالیات کا افسر لے لے گا۔ ان ناہنجاروں کو کسی سکول، ہسپتال یا سڑک کے معیار سے کوئی واسطہ نہیں، ان کا کام صرف اپنے دس فیصد سے ہے۔ پھر چچا! ٹھیکیدار سے پوچھنے والا کون ہے؟”
“لیکن بیٹا، یہ ہمارا ملک ہے، ہمارا پاکستان ہے… اس کی بنیادوں کی مضبوطی ہم سے وابستہ ہے…”
منشی تلخی سے مسکرایا: “چچا! جس پاکستان کا تم خواب دیکھ رہے ہو، وہ حقیقت کی نہیں، خوابوں کی سرزمین ہے۔ چچا! میں نے بارہویں تک سکول اور کالج میں پڑھا ہے، وہاں اساتذہ بہت جھوٹ بولتے تھے۔ وہ کلاس میں آ کر ایمان، ایقان، امانت، دیانت، محنت اور ایمانداری کی بڑی بڑی باتیں کرتے تھے، پھر تاریخ کے جھوٹے قصے سناتے تھے۔ کہتے تھے قائد اعظم بیمار ہو گئے تھے، ان کو ٹی بی کا مرض لاحق تھا۔ بنگال ہم سے جدا ہو گیا، ہم نے انڈیا سے ساری جنگیں جیتیں۔
لیاقت علی خان قائد اعظم کے دستِ راست تھے… 1950ء سے 1958ء تک اقتدار کی جو رسہ کشی تھی وہ بڑی سنجیدہ تھی اور ایوب خان کو مجبوراﹰ مارشل لا لگانا پڑا۔ یہ سب ہمارے مطالعہ پاکستان کے استاد ہمیں پڑھاتے اور سناتے تھے، پھر کلاس روم سے باہر جا کر دھوپ میں بیٹھ کر قہقہے لگاتے تھے۔ چچا! یہ سکول بنے گا تو یہاں پر بھی اساتذہ جھوٹ ہی بولیں گے۔ ہیڈماسٹر کو اپنی مراعات اور تنخواہ کی فکر ہوگی، اساتذہ کو سالانہ انکریمنٹ کی چنتا ہوگی۔ چچا! اگر تم پڑھے لکھے ہوتے تو میں تمہیں ایک کتاب دیتا جس کا نام ‘حمود الرحمن کمیشن رپورٹ’ ہے۔ تم اسے پڑھتے تو تمہیں کچھ چہروں سے اتنی نفرت ہوتی کہ تم پاکستان کے لیے خواب دیکھنا ہی چھوڑ دیتے۔ چچا! کاش ہم حقیقی پاکستان میں رہتے، جہاں ہر ایک کو تمہاری طرح اس کی بنیادیں مضبوط کرنے کی فکر ہوتی۔”
اتنے میں کسی مزدور نے آواز لگائی: “دس بجے کی کالی چائے (تروق چائے) تیار ہے!”
چچا اور منشی دونوں اپنی جگہ سے اٹھے۔ چچا نے مڑ کر دیکھا تو سکول کی بنیادیں اسی طرح بغیر کھدائی کے ادھوری پڑی تھیں۔


ہمارے ہاں اگر کسی صنعت نے واقعی خودکفالت حاصل کی ہے تو وہ وعظ کی صنعت ہے۔ کپڑا باہر سے آتا ہے، تیل باہر سے آتا ہے، قرض باہر سے آتا ہے، مگر نصیحت خالص دیسی پیداوار ہے۔ ہر شخص اپنے آپ کو قوم کی اخلاقی عدالت کا چیف جسٹس سمجھتا ہے۔ دلیل ختم ہو جائے تو وعظ شروع ہو جاتا ہے، اور جب وعظ بھی کم پڑ جائے تو ایمان خطرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔
یہ مضمون پڑھ کر یوں محسوس ہوا جیسے مصنف نے اسکول تعمیر کرنے کے بجائے ایک موبائل منبر کھڑا کر دیا ہو، جسے جہاں چاہیں اٹھا کر رکھ دیں اور تقریر شروع کر دیں۔ اینٹوں سے زیادہ نصیحتیں، سریے سے زیادہ دعوے، اور سیمنٹ سے زیادہ اخلاقیات استعمال ہوئی ہیں۔ اگر عمارت کبھی گری تو ملبے میں اینٹیں کم اور اقوالِ زریں زیادہ برآمد ہوں گے۔
قصہ “بسم اللہ” سے شروع ہوتا ہے، گویا اس ملک میں تعمیراتی انجینئرنگ کا پہلا اور آخری اصول یہی ہے۔ آدمی حیران ہوتا ہے کہ آخر ہمارے پل، سڑکیں، اسکول اور اسپتال ناقص منصوبہ بندی، کرپشن اور نااہلی سے تباہ ہوتے ہیں یا اس لیے کہ کسی نے ابتدا میں “بسم اللہ” پوری آواز سے نہیں پڑھی؟ اگر قومیں صرف مقدس الفاظ سے بنتیں تو ہم دنیا کو ترقی کا سبق پڑھا رہے ہوتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں “بسم اللہ” ختم ہوتے ہی فائل کھلتی ہے، بل بنتا ہے، کمیشن تقسیم ہوتا ہے اور دیانت داری دفتر کے باہر جوتے اتار کر بیٹھ جاتی ہے۔
پھر ایک نوجوان کی پتلون کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے قومی زوال کا اصل ماسٹر مائنڈ وہی ہو۔ قاری بےچارہ انتظار کرتا رہتا ہے کہ شاید اگلے صفحے پر اس کی جیب سے رشوت کی رقم، جعلی ٹینڈر، آف شور اکاؤنٹ یا کم از کم قوم کا اغوا شدہ مستقبل برآمد ہوگا۔ مگر نہیں۔ اس کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے شلوار قمیض نہیں پہنی۔ معلوم ہوا کردار کا فیصلہ عدالت نہیں، درزی کرتا ہے۔ اگر یہی منطق ہے تو دھوبی اس ملک کے سب سے بڑے مصلح ہونے چاہییں۔
منشی کا داخلہ تو اور بھی کمال ہے۔ بیچارے کو پہلے سگریٹ پکڑایا، پھر اس میں نشہ بھر دیا، پھر ایک قہقہہ لگوایا، اور اگلے ہی لمحے پورے ملک کی کرپشن، مالیاتی بدعنوانی، اخلاقی انحطاط، بیوروکریسی کی ناکامی اور قومی تباہی اسی کے پھیپھڑوں سے برآمد کرا دی۔ ادب میں مبالغہ ضرور ہوتا ہے، مگر یہاں مبالغہ بھی ہاتھ جوڑ کر کہتا ہے: “بھائی، مجھے اتنا بھی استعمال نہ کرو۔”
مصنف کے کردار بولتے کم اور مصنف ان کے منہ سے تقریریں زیادہ دلواتے ہیں۔ ہر دوسرا مکالمہ یوں لگتا ہے جیسے کہانی اچانک جمعے کے خطبے میں تبدیل ہو گئی ہو۔ چچا کامران تعمیراتی مزدور کم، اخلاقیات کے ہول سیل ڈیلر زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ہر سوال کا جواب پہلے سے تیار ہے، ہر مسئلے کی جڑ بھی معلوم ہے، اور ہر بیماری کا نسخہ بھی۔ آدمی کو شبہ ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ تعمیراتی سائٹ نہیں، “مطالعۂ پاکستان اور اخلاقیات” کا عملی امتحان ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنف دوسروں پر لیکچر دینے کا الزام رکھتے ہیں، مگر خود پورا مضمون ایک نہ ختم ہونے والا لیکچر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ استاد حاضری رجسٹر کے ساتھ نصیحت کرتا ہے، اور مصنف ادبی عظمت کے دعوے کے ساتھ۔
پھر وہی پرانا نسخہ: جو اچھا ہے وہ ایک ہی آدمی ہے، اور جو برا ہے وہ باقی پوری کائنات۔ استاد خراب، انجینئر خراب، ٹھیکیدار خراب، منشی خراب، محکمہ خراب، سیاست خراب، نصاب خراب، تاریخ خراب۔ گویا اس ملک میں اگر کوئی آخری نیک انسان زندہ ہے تو وہ صرف چچا کامران ہیں، باقی سب اجتماعی طور پر ابلیس کے مستقل ملازم ہیں۔ ادب جب انسانوں کو انسان نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک کو فرشتہ اور باقی سب کو شیطان بنا دیتا ہے، تو کہانی مر جاتی ہے اور پمفلٹ زندہ رہ جاتا ہے۔
اختتام پر چائے آتی ہے اور مجلس برخاست ہو جاتی ہے۔ قاری بھی اٹھتا ہے، لیکن اس احساس کے ساتھ کہ اس نے افسانہ کم اور اخلاقی عدالتی فیصلہ زیادہ پڑھا ہے۔ سوال اب بھی وہیں کھڑا ہے: کمزور بنیادیں اسکول کی تھیں یا مضمون کی؟ کیونکہ اگر ہر مسئلے کا علاج مذہبی نعرہ، ہر برائی کی علامت پتلون، اور ہر بدعنوانی کی تشریح ایک سگریٹ سے ہو جائے تو اصل مسئلہ ابھی تک زمین کے اندر دفن ہے، اور مصنف پوری محنت سے صرف گھاس کاٹ رہے ہیں۔
مضمون بند کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مصنف ہر صفحے پر قاری کا بازو پکڑ کر فرماتے ہوں: “سبق یاد کر لو، امتحان قریب ہے۔” مگر اچھا ادب استاد نہیں بنتا، آئینہ بنتا ہے۔ آئینہ چہرہ دکھاتا ہے، انگلی نہیں اٹھاتا۔ یہاں انگلی اتنی دیر تک اٹھی رہتی ہے کہ آخرکار کہانی شرمندہ ہو کر خاموش ہو جاتی ہے، اور منبر فاتحانہ انداز میں اپنی جگہ سنبھال لیتا ہے۔