فخرالدین اخونزادہ
ہماری دوستی سن 1985 کے آواخر میں اُس وقت پروان چڑھنا شروع ہوئی جب ہم گورنمنٹ ہائی اسکول دروش میں چھٹی جماعت میں داخل ہوئے۔ ہم دروش ٹاؤن کے گرد و نواح کے مختلف دیہات کے پرائمری اسکولوں سے اُٹھ کر یہاں آئے تھے۔ اُس دور میں پوری تحصیل دروش میں صرف ایک ہی ہائی اسکول تھا، اور اس تحصیل کے بیشتر پرائمری اسکولوں کے طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسی علمی چراغ سے روشنی حاصل کرنے آتے تھے۔
سن انیس سو پچاسی کے آخری مہینوں میں ہم بھی اپنے اپنے چھوٹے دیہاتی اسکولوں سے نکل کر اس بڑے تعلیمی گھرانے میں داخل ہوئے۔
پانچ برس کی رفاقت، شرارت اور محنت کے بعد سن انیس سو نواسی میں ہم اسی ادارے سے فارغ التحصیل ہوئے۔ وقت کے دھارے نے ہمارے بیشتر ساتھیوں کو مختلف سمتوں میں بکھیر دیا۔ میرے ساتھ صرف نصف درجن کے قریب ہم جماعتوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کا رخ کیا؛ باقی کہاں گئے، زندگی نے انہیں کس راہ پر ڈال دیا—اس کا کوئی سراغ اب تک نہ مل سکا تھا۔ تاہم، وہ دن، وہ چہرے، وہ ہنسی اور وہ شور آج بھی
کبھی کبھار ذہن کی کسی کھڑکی سے جھانک لیتے ہیں۔ دوستوں کی معصوم صورتیں، کلاس میں ہماری شوخیاں، اور اساتذہ کی شفقت بھری آوازیں—سب کچھ جیسے وقت کی دھول میں چھپ کر بھی دل کے کسی گوشے میں زندہ ہے۔کچھ عرصہ پہلے میرے ایک ہم جماعت، شان خان، نے مجھے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا۔ جب میں اس گروپ میں داخل ہوا تو زیادہ تر پیغامات آڈیو کی صورت میں آ رہے تھے—اور ان آوازوں میں ایک عجیب سی مانوسیت تھی، جیسے برسوں پرانی گونجیں اچانک کانوں میں زندہ ہو گئی ہوں۔ گروپ میں شان بار بار اعلان کر رہا تھا کہ اپنے پرانے کلاس فیلوز کو تلاش کریں اور انہیں اس حلقے میں شامل کریں۔
یوں تلاشِ ہم جماعتوں کی یہ مہم اگلے ایک ماہ میں پچاس کے قریب لوگوں تک جا پہنچی۔ افغانستان سے لے کر امریکہ تک، اور کراچی سے لے کر اپر چترال تک بکھرے ہوئے ہمارے ہم جماعت ایک ایک کر کے اس گروپ میں جمع ہونے لگے۔ پچاس برس کی عمر کو پہنچے یہ رفیقِ درس ایک بار پھر واٹس ایپ کے ایک چھوٹے سے حلقے میں اپنی پرانی کلاس میں واپس آ بیٹھے—جیسے وقت نے پلٹ کر ہمیں وہیں لا کھڑا کیا ہو جہاں سے ہم کبھی جدا ہوئے تھے۔
اگلا مرحلہ ان سب کو ایک جگہ اکٹھا کرنا تھا، اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ہر شخص اس ملاقات کے لیے بےچین تھا۔ اس ذمہ داری کا بیڑا ہمارا ہم جماعت عنایت اللہ بیگ نے اٹھایا۔ اس نے بڑے خلوص سے اپنے گھر میں ایک شاندار ضیافت کا اہتمام کیا اور تمام کلاس فیلوز کو مدعو کیا۔ اس دعوت میں ہمارے بیشتر ہم جماعت شریک ہوئے۔ یہ چند گھنٹے عنایت اللہ کے گھر میں یوں گزرے جیسے وقت نے اپنی رفتار روک دی ہو—ہنسی، یادیں، پرانی باتیں، اور وہی بچپن کی خوشبو۔البتہ بیرونِ شہر ہونے کی وجہ سے مجھ سمیت کئی ساتھی اس محفل میں شریک نہ ہو سکے۔
اسی موقع پر یہ فیصلہ بھی ہوا کہ آنے والی بھٹک میں نہ صرف ہم جماعت بلکہ ہمارے محترم اساتذہ کو بھی مدعو کیا جائے، تاکہ یہ محفل محض ملاقات نہ رہے بلکہ ایک مکمل، بھرپور اور یادگار تعلیمی جشن بن جائے۔اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، اور اس کمیٹی نے ایک ماہ کی انتھک محنت کے بعد اس پروگرام کو عملی شکل دے دی۔
چھ جون وہ دن تھا جب ہم صبح سویرے اپنے پرانے اسکول پہنچے۔ فضا میں ایک عجیب سی تازگی اور دلوں میں برسوں پرانی دھڑکنیں جاگ رہی تھیں۔ ہم نے اپنے اساتذہ کو خوشی اور احترام کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ پروگرام کا آغاز اسکول کی گھنٹی اور قومی ترانے سے ہوا۔ ہمارے ایک ہم جماعت، رشید احمد، نے اسکواڈ کی قیادت کرتے ہوئے پرچم اور اساتذہ کو سلامی پیش کی۔اس کے بعد ہم سب سیدھے اسکول کے بڑے ہال کی طرف روانہ ہوئے، جہاں اس یادگار دن کی اصل محفل ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ اسٹیج کی نظامت ہمارے کلاس فیلو نور حسین جان نے نہایت خوب صورتی سے سرانجام دی۔
ہم میں سے کئی ساتھی اسٹیج پر آئے اور اپنی پرانی یادوں کے دریچے کھولتے ہوئے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ہمارے گروپ کے سربراہ شان خان(اب شان خان وردک) اور جنرل سیکرٹری فدالرحمن نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اساتذہ کو چترالی پکوڑ پیش کیے۔اس بھٹک کی صدارت ہمارے اُس زمانے کے پرنسپل امین الرحمن چغتائی نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی اس اسکول کے ابتدائی دنوں کے طالب علم اور سابق ڈسٹرکٹ کونسل چیئرمین خورشید علی خان تھے۔
ہمارے اساتذہ میں شمش الدین (اپر چترال)، ضیاالدین (چترال ٹاؤن)، اور قاضی شریف احمد (بروز) خصوصی طور پر اس پروگرام کے لیے تشریف لائے۔ دیگر اساتذہ میں قاری جمال عبدالناصر، سردار حسین، کمال الدین، رحمن ولی شاہ، مولانا محمد یوسف، محمد سلیم کامل، محمد سلیم، محمد طاہر اور مولانا محمد ابراہیم شامل تھے۔ جو اساتذہ عمر رسیدگی یا انتقال کے باعث شریک نہ ہو سکے، ان کی نمائندگی ان کے بیٹوں نے کی۔آخر میں ہم سب ایک کلاس میں جمع ہوئے اور قاری جمال ناصر سے پندرہ منٹ کی ایک مختصر مگر روح پرور کلاس لی، جس نے ہماری یادوں کو مزید تازہ کر دیا۔
وہ دن، وہ چہرے، وہ آوازیں اور وہ یادیں—سب کچھ ایک بار پھر زندہ ہو گیا۔ جیسے وقت نے اپنی رفتار روک کر ہمیں دوبارہ وہیں لا کھڑا کیا ہو جہاں سے ہماری کہانی شروع ہوئی تھی۔

