چترال یونیورسٹی کی عمارت سید آباد میں ہی تعمیر کی جائے: ناظمین کا مطالبہ

چترال یونیورسٹی کی عمارت سید آباد میں ہی تعمیر کرنے کا مطالبہ

چترال (محکم الدین) ایون میں چھ ویلج کونسلوں کے چیرمین، کونسلرز اور علاقائی عمائدین کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت سابق ممبر جندولہ خان ایون کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوا۔ یہ اجلاس چیرمین ویلج کونسل ایون ون وجیہ الدین اور چیرمین وی سی ایون ٹو محمد رحمن کے مشترکہ دعوت پر طلب کیا گیا تھا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر تین قرار دادیں منظور کی گئیں جن میں سید آباد میں چترال یونیورسٹی کی زرخرید 166 کنال زمین پربلڈنگ کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا اور اس بات پرانتہائی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ ایک طرف ملک اور خیبرپختونخوا حکومت معاشی مسائل سے دوچارہے دوسری طرف سید آباد میں یونیورسٹی کی زمین موجود ہونے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ صوبائی حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اربوں روپے خرچ کرکےسین کے مقام پرزرعی زمینات خریدنےپر بضد ہے جوکہ قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کی سازش معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے مطالبہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کی تعمیر سید آباد میں موجودزمین پر ہی کی جائے۔
اجلاس میں چیرمین وی سی بمبوریت خلیل الرحمن، چیرمین رمبور سلطان خان، چیرمین بریر برس خان، چیرمین گہریت عبد الحکیم، اقلیتی کونسلر اونت بیگ، کونسلر ابو ذر غفاری، استاد محمد آمین، قاری اسرار احمد، صہیب عمرکے علاوہ سابق ناظم عبد المجید قریشی، معروف کاروباری شخصیت حاجی محمد خان، سابق ناظم رحمت الہی، سابق ڈی او قاضی عابد، مولانا عبد لرحمن، سابق سپروائزر جعفر علی، سابق ڈی ایس پی محمد صابر اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں شرکاء نے اس امر کا اظہار کیا کہ یونین کونسل ایون چترال بھر میں واحد آمدنی والا یونین کونسل ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس کے ساتھ ہر حکومت میں سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا گیاہے۔ خصوصا سڑکوں، تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولیات کے حوالے سے اسے آج تک پسماندہ رکھا گیا ہے۔
مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اب حکومتی بے توجہی اور غفلت و امتیازی سلوک برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر ممکن قربانی دےکر درپیش مسائل کے حل کیلئے جدو جہد جاری رکھی جائے گی اور عدالت سے لے کر احتجاج تک کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
اجلاس میں ایون کالاش ویلیز روڈ کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ روڈ کی تعمیر انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ روڈ کی زد میں آنے والے زمینات کے مالکان کو معاوضہ دینے کیلئے فنڈ ناکافی ہے اور جو فنڈ موجود ہے۔ اسے انتظامیہ لوگوں کو ادا نہیں کر رہا اور سڑک پر کام کرنے والی مشینریز بھی دوسری جگہ منتقل کرنے کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں۔ اس لئے مطالبہ کیا گیا کہ زمین مالکان کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے فنڈ مہیا کرکے روڈ کی تعمیر کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے۔
اجلاس میں ایون گرلز کالج کی تعمیر میں مسلسل تاخیر کو انتظامیہ ہائر ایجوکیشن کی غفلت لاپرواہی اور عدم دلچسپی قرار دیا گیا اور اس امر کا اظہار کیا گیا کہ فوری طور پر خرید کردہ سائٹ پر کالج کی تعمیر شروع کی جائے جو گذشتہ 7 سالوں سے رکا ہوا ہے۔ اگر شنید کے مطابق یہ سائٹ نان فزیبل ہے تو متعلقہ انجینئر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور مالک زمین سے اس زمین کا تبادلہ کرکے دوسری فزیبل زمین لے کر کالج کی تعمیر کی راہ ہموار کی جائے تاکہ بچیاں تعلیمی محرومی سے بچ سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *