ٹینشن ڈرائیور یا بے احتیاط پولیس؟

ٹینشن ڈرائیور یا بے احتیاط پولیس؟

تحریر: ایس شہاب الدین
ہمارے معاشرے کا پولیس اور ڈرائیور پر عمومی رائے یہ ہے کہ دونوں پر اعتبار یا بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اکثر دونوں کو ایک پیرائے سے دیکھتے ہیں۔ درحقیقت پولیس میں سابقہ ادوار کے برعکس اچھے پڑھے لکھے باصلاحیت اور تربیت یافتہ افراد شامل ہیں
پچھلے دنوں مستوج سے چند منٹ کے مسافت پر گزان ڈوک کے مقام پر جو خونی سانحہ رونما ہوا اس کو صرف ایک واقعہ سمجھنے سے کچھ محرکات پر بات کی جائے تاکہ ہم تباہی کے بعد خود کو تسلی دینے، غلطیوں کا ازالہ کرنے سے باز رہتے۔
اس المناک اور درد ناک حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر قاتل ڈرائیور کو ٹینشن ، نفسیاتی مریض اور پاگل بنائے گئے ہیں۔ مزکورہ ڈرائیور میں یہ سب بیماریاں تھیں، تو اسکو ڈرائیونگ لائسنز کس نے جاری کیا؟ پبلک گاڑی کس کے کہنے پر چلاتے رہے، قانوں کے سامنے عوام کے جان ومال کے تحفظ کیا معنی رکھتے ہیں؟ ہم جیسے بے آواز عوام اکثر ان واقعات کے کا شکار ہوتے رہے، اور خاموشی سے وقت ٹل دیے، ٹریفک پولیس اور قانوں کے رکھوالے ہوش میں نہیں آئے تو یہ سلسلہ رکھنے والا نہیں۔
ڈرائیورز حضرات ائے روز ہم لاقانونیت ، سواریوں سے بے احترامی، بے احتیاطی پر تبرا بھیجتے رہتے ہیں، ان کو سوسائٹی کا اہم کردار بنانے میں بہت کام کرنا باقی ہے، اخلاقی تربیت، سواریوں سے سلوک، وقت کی پابندی، گاڑی کی صحت کی بحالی و بہتری اور سب سے اہم ڈرائیورز کی زہنی حالت اور پیشہ ورانہ مہارت کو بہتر بنانے کا میکنزم کیا ہے اور کس کے پاس ہے ۔ دیہات کے عورتوں کو بااختیار اور آزادی کے نام پر اپنے مفاد کی خاطر اکسانے والے این جی اوز ڈرائیوروں کی تربیت پر کام کرنے کا خسارہ اٹھائیں گے؟
الگ جواب طلب موضوع ہے۔
قانون کے محافظوں سے شاید ہی کوئی بڑا اور طاقتور ادارہ ہوسکتا ہےجو ڈرائیورز برادری کو قانوں ہی کے زریعے راہ راست پر لاسکتے ہیں۔ مگر اس کے لئے پولیس کا عوام دوست رویہ، رپورٹ درج کرانے میں آسانیاں اور بروقت کاروائی اس جیسے سنگیں حادثوں سے بچایا جاسکتا ہے۔
وگرنہ ہمیں کل کی طرح لاشوں کے تحفے وقتا فوقتاً ملتے رہیں گے۔
بات یہاں نہیں رکتی، پولیس کے پیشہ ورانہ مہارت و تربیت ایک زہنی مریض کو پکڑتے ہوئے کہاں کھو گئی تھی؟
کس بھی خطرناک واقعے کے دوران یا بعد میں سب سے پہلے انسانی جان بچانے کو مزید تباہی سے بچانے کی تعلیم بھی محکمہ پولیس ہمیں سکھاتی ہے، مگر افسوس دوران ڈیوٹی معمولی بے احتیاطی سے پولیس کا نوجوان اور ایک شہری بے گناہی سے قاتل ڈرائیور کے نشانے سے نہیں بچ سکے ، ایسے مجرموں کو بہت چابک دستی اور زہانت سے قابو کرنے کی ضرورت تھی، مگر روایتی غرور اور پریشر کے زریعے قابو کرنے کی کوشش سے محکمہ پولیس نے اپنا ایک جانثار اور ایک جوان شہری قرباں کیا۔

2 Replies to “ٹینشن ڈرائیور یا بے احتیاط پولیس؟”

  1. Our northern areas especially Chitral would still be in stone age had AKDN wouldn’t be there. Govts have done nothing for Chitral even today. Now thanks to AKDN people in Chitral are highly educated and especially women are making their marks in every field of life.

Leave a Reply

Your email address will not be published.