بی آئی ایس پی کیمپ آفس کو اپ گریڈ کیا جائے

Wajih Uddin Wajih Uddin[/caption] اجلاس کی صدارت پیما کے صدر وجیہ الدین نے کی۔ چترال بورڈ کیمپ آفس کی کا رکردگی اور موجودہ سورتحال پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اجلاس میں پیما کے ذمہ داران اور پرنسپلز نے چےئر مین بی آئی ایس پی اور صوبائی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ چترال میں موجودہ بورڈ کیمپ آفس کوایک فل فلیج سب بورڈ کا درجہ دیا جائے تاکہ چترال کے طلبا ء و طالبات اور تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے حل میں آسانی ہو ۔ بی آئی ایس پی کیمپ آفس میں صرف تین ملازم کنڑیکٹ بِس پر ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں اور ان کے پاس کچھ کرنے کا اختیاربھی نہیں ہے جو کہ چترال کے تعلیمی اداروں اورطلبا ء طالبات کے ساتھ سراسر مذاق ہے ۔ اس کے علاوہ چترال سے سالانہ تیس ہزار سے زائد طلبا ء و طالبات پشاور بورڈ میں امتحان دے رہے ہیں جو کہ پشاور بورڈ کو ریونیو دینے والا دوسرا بڑا ضلع ہے ۔ پیما کے ذمہ داران نے چےئرمین پشا ور بورڈ کو چترال کیمپ آفس کے مسائل کے بارے میں اس سے پہلے بھی بار بار اگاہ کرچکے ہیں لیکن ابھی تک اس مسئلے پر توجہ نہیں دی گئی ہے ۔اجلاس کے شرکاء نے آخر میں قرارداد پاس کی۔یہ کہ چترال کیمپ آفس کیلئے مستقل ملازمین کی تعداد کو بڑھایا جائے اور یہ اختیا ر دیا جائے تاکہ وہ عملہ لوگوں کے مسائل چترال سب بورڈ ہی میں حل کرسکیں۔چترال کیمپ آفس کو بورڈ آن لائن سروس سے استفادہ حاصل کرنے کا مکمل طو ر اختیار دیا جائے۔الائیڈ بینک کا ایک بوتھ بورڈ آفس کے اند ر بنایا جائے تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو ۔پشا ور بورڈ کے اندر چترال کیمپ آفس کاایک مستقل طور پر نمائندہ ہوجو کہ چترال سب بورڈ کے تمام کاموں کونمٹا کر فوراً چترال بھیجے ۔]]>

Leave a Reply

Your email address will not be published.