وہ جو تم بھول گئے

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
پاکستان میں انتخابات کا وبائی مرض آنے سے پہلے فلسطین کے مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا جس روز ہم ووٹ ڈالنے گئے اس روز فلسطینیوں کے اوپر دشمن کے جنگی مظالم اور جرائم کو چار ماہ پورے ہوئے تھے وہی فلسطین، وہی غزہ اور وہی مظالم وہ جو تم بھول بیٹھے ہو۔

جی ہاں وہ جو تم بھول بیٹھے ہوتا زہ ترین صورت حال یہ ہے کہ دشمن نے فلسطینیوں کو غزہ کے مختلف محلوں اور دیہات سے در بدر کیا تھا، گھروں کے اجڑ نے کے بعد وہ لوگ جنوبی غزہ کے علا قے میں پناہ گزین ہو ئے تھے فروری کے پہلے دو ہفتوں میں دشمن نے رفعہ پر بمباری کرکے اس پناہ گاہ کو بھی ملیامیٹ کر دیا اب فلسطینیوں کو لاشیں دفنانے اور زخمی اٹھانے کے ساتھ ساتھ مزید کئی مسائل درپیش ہیں مثلا ً کھانے کو ایک وقت کی روٹی بھی نہیں پینے کو ایک بوند پانی بھی نہیں رات دن بمباری سے فضا اور ہوا میں زہر یلے مواد بھرے ہوئے ہیں گونا گوں بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں علاج معالجے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی فلسطینیوں کی نسل کو ختم کیا جارہا ہے۔

اس عمل کو انگریزی میں جینوسائیڈ کہتے ہیں اگر کسی یو رپی یا افریقی ملک میں عیسائی یا یہودی قوم کا جینیو سائیڈ ہوتا تو پوری دنیا میں ہنگامے ہو تے، ٹیلی وژن چینلوں پر اس کے خلاف بڑے تواتر کے ساتھ پرو گرام لائے جا تے اقوام متحدہ کو حرکت میں لایا جاتا، انسا نی حقوق کی تنظی میں حرکت میں آجاتیں جنیو سائیڈ یا نسل کُشی کو روکنے کا اہتمام وا نصرام ہوتا مگر یہاں جن کی نسل کو ختم کیا جا رہا ہے وہ نسلی لحا ظ سے عرب اور مذہبی لحا ظ سے مسلمان ہیں عالمی طاقتوں کے سامنے دونوں بے وقعت ہیں 24سال پہلے کا واقعہ ہے ایشیاء کا چھوٹا جزیرہ مشرقی تیمور انڈو نیشیا کا صوبہ تھا، انڈو نیشیا مسلمان ملک ہے مشرقی تیمور کی اکثریتی ابادی رومن کیتھولک عیسائی ہے انہوں نے کارلوس بیلو اور سنا نہ گسماءو کی قیادت میں انڈو نیشیا کے خلاف گوریلا جنگ چھیڑی، جنگجو سرداروں کو سویڈش اکیڈیمی نے امن کا نو بل انعام دیا مشرقی تیمور کو اقوام متحدہ نے 30اگست 1999کے دن انڈو نیشیاء سے الگ کرکے آزاد ملک کا درجہ دیدیا، جبکہ اس خطے میں کشمیری 1948سے آزادی کی جدو جہد کر رہے ہیں، ریفرنڈم کا مطا لبہ کر رہے ہیں چونکہ مسلمان ہیں اس لئے کشمیریوں کو آزادی کا حق نہیں دیا جا تا کیونکہ وہ مسلمان ہیں اور ہندو ریا ست سے آزادی کا حق مانگ رہے ہیں فلسطین کی 122روزہ جنگ میں 28ہزار مظلوم، معصوم اور نہتے فلسطینی شہید کئے گئے ہیں ان میں سے 15ہزار ایسے بچے ہیں جنکی عمریں 6ماہ اور 10سال کے درمیاں تھیں، یہ بچے اور بچیاں ہسپتالوں اور سکولوں پر ہوائی بمباری میں اپنی جا نوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس ظلم کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا کیونکہ حملہ آور طاقتور ملک ہے اقوام متحدہ کی سلا متی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرتا ہے، انسانی حقوق کی کمیشن میں فلسطین کا نام لینے کی اجازت نہیں دیتا۔

اسرائیلی فوج ایک عالمی طاقت کی پراکسی لڑائی میں استعمال ہور ہی ہے دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے کہ اکیسویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کی صدی ہے ترقی اور خوشحالی کی صدی ہے نئی ایجا دات کی صدی ہے لیکن غزہ کی مسلما ن آبادی اور فلسطینی ما وں بہنوں، بیٹیوں کے لئے اکیسویں صدی ہلا کو خان اور چنگیز خان کی تیرھویں صدی سے مختلف نہیں بلا کو خان اور ان کا باپ چنگیز خان تیر ھویں صدی میں ان انسا نی کھو پڑیوں کے مینار بناتے تھے جو ان کے مقابلے پر لڑنے کے لئے آتے تھے تلوار اٹھا تے تھے، وہ مر دانہ وار جنگ ہوا کرتی تھی جس میں عورتیں اور بچے بچیاں دشمن کی زد میں آنے سے محفوظ ہوا کرتی تھیں فلسطینی ماوں کے لئے اکیسویں صدی خونخوار صدی ہے 10ہزار کلو میٹر مغرب میں امریکی صدارتی انتخابات جیتنے کے لئے غزہ میں فلسطینیوں کا خون بہا یا جا رہا ہے آج کا جو بائیڈن چنگیز خان اور ہلاکو خان سے زیادہ ظالم اور خونخوار ہے جی ہاں وہ جو تم بھول گئے فلسطینیوں کا خون تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest