نئے مشیرِ تعلیم سے امیدیں

چترال کے ۸۰۰ اسکولوں میں ایک ہزار سے زائد تدریسی آسامیوں کا خلا، مشکل اسٹیشنوں پر اساتذہ تبادلے کے منتظر

خیرالدین شادانی

ڈاکٹر سید عامر عبداللہ کی بطور مشیرِ تعلیم تعیناتی سے امید پیدا ہوئی ہے کہ خیبرپختونخوا کے تعلیمی مسائل پر فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر ہوں گے۔ خصوصاً چترال جیسے دشوار گزار علاقوں کو ایسی پالیسی درکار ہے جو اسکولوں میں اساتذہ کی کمی بھی دور کرے اور برسوں سے گھر سے دور خدمات انجام دینے والے استاد کو منصفانہ تبادلے کا راستہ بھی دے۔ نئی قیادت کے لیے یہی دو مسائل فوری توجہ کے مستحق ہیں۔

مسئلہ واضح ہے: ایک طرف اسکولوں میں تدریسی آسامیاں خالی ہیں، دوسری طرف دور دراز تعینات استاد گھر کے قریب آنے کے لیے خالی آسامی یا باہمی تبادلے کا منتظر ہے۔ بچے نامکمل عملے کے ساتھ پڑھ رہے ہیں اور موجود اساتذہ اضافی ذمہ داریاں اٹھا رہے ہیں۔ دونوں مشکلات افرادی قوت کی ناقص منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

محکمہ تعلیم کی سالانہ اسکول شماریاتی رپورٹ ۲۰۲۴–۲۵ کے مطابق خیبرپختونخوا کے ۳۴،۷۸۴ سرکاری اسکولوں میں ۲،۲۸،۸۱۰ منظور شدہ تدریسی آسامیوں کے مقابلے میں ۱،۸۴،۹۹۶ اساتذہ کام کر رہے تھے۔ یوں منظور شدہ اور موجود تدریسی عملے کے درمیان ۴۳،۸۱۴ آسامیوں کا فرق تھا۔ یہ غیر تدریسی ملازمین نہیں، پڑھانے والے عملے کا خلا ہے۔
اسی رپورٹ میں لوئر چترال کے ۴۴۱ اور اپر چترال کے ۳۵۹، مجموعی طور پر ۸۰۰ سرکاری اسکول درج ہیں۔ ان میں ۶۲۵ پرائمری، ۷۸ مڈل، ۸۰ ہائی اور ۱۷ ہائر سیکنڈری اسکول شامل ہیں۔ دونوں اضلاع میں ۴،۸۴۱ منظور شدہ تدریسی آسامیوں کے مقابلے میں ۳،۷۹۵ اساتذہ کام کر رہے تھے۔ لوئر چترال میں ۵۴۳ اور اپر چترال میں ۵۰۳، یعنی مجموعی طور پر ۱،۰۴۶ آسامیوں کا خلا تھا۔ یہ ۲۰۲۴–۲۵ کے اعداد ہیں؛ بعد کی بھرتیوں اور ریٹائرمنٹ کے بعد موجودہ تعداد محکمہ کو سامنے لانی چاہیے۔

چترال کی تقریباً ۲۲ فیصد منظور شدہ تدریسی آسامیوں کا خالی ہونا معمولی انتظامی کمی نہیں۔ اس کے پیچھے بچوں کا تعلیمی وقت، نامکمل نصاب اور موجود عملے پر اضافی بوجھ ہے۔ ضلعی اوسط بھی ہر اسکول کی حالت نہیں بتاتی۔ کسی ادارے میں عملہ مکمل ہو سکتا ہے جبکہ دوسرے میں بنیادی مضامین پڑھانے والا استاد دستیاب نہ ہو۔ اس لیے اسکول وار اور مضمون وار تفصیل ضروری ہے۔
تبادلوں کا نظام اس مشکل کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ای ٹرانسفر پلس پالیسی ۲۰۲۶ میں عمومی تبادلہ خالی آسامی کے خلاف ہوتا ہے، جبکہ یکساں کیڈر اور اسکیل کے اہل اساتذہ باہمی تبادلہ کر سکتے ہیں۔ موجودہ تعیناتی پر دو سال پورے کرنا عمومی تبادلے کی اہلیت ہے، منتقلی کی ضمانت نہیں۔ مخصوص طبی، ازدواجی اور دیگر بنیادوں پر درخواستوں کی گنجائش بھی موجود ہے۔

لیکن جس استاد کو نہ مطلوبہ مقام پر آسامی ملے اور نہ باہمی تبادلے کے لیے ساتھی، وہ کب تک انتظار کرے؟ اگر مشکل اسٹیشن پر خدمت کے بعد منتقلی کا قابلِ عمل راستہ نہ ہو تو چند ملازمین مسلسل دشوار حالات برداشت کرتے رہیں گے۔ درخواست آن لائن جمع ہونے سے اس انتظار کی مدت کم نہیں ہوتی۔
چترال میں تعیناتی کی دشواری صرف فاصلے کا نام نہیں۔ برف باری، راستوں کی بندش، ٹرانسپورٹ، رہائش اور علاج تک رسائی بھی اس کا حصہ ہیں۔ ان حالات کو نظرانداز کرکے تمام اسٹیشنوں پر ایک ہی پیمانہ لگانا عملی انصاف نہیں۔ دوسری طرف استاد کو منتقل کرکے اسکول خالی چھوڑ دینا بھی قابلِ قبول نہیں۔ دور دراز بچوں کو تعلیم اور وہاں تعینات استاد کو منصفانہ سروس حالات فراہم کرنا، دونوں محکمے کی ذمہ داریاں ہیں۔

ڈاکٹر عامر عبداللہ کو اس مسئلے پر واضح انتظامی اقدام کرنا ہوگا۔ پہلے اسکول وار منظور شدہ، پُر اور خالی تدریسی آسامیوں کا تازہ ریکارڈ جاری کیا جائے۔ پھر شدید کمی والے اداروں کے لیے بھرتیوں اور تعیناتیوں کا مقررہ شیڈول سامنے آئے۔ صرف مجموعی تعداد پوری کرنا کافی نہیں؛ ریاضی، سائنس اور دوسرے مضامین کے اساتذہ کی دستیابی الگ جانچنا ہوگی۔

اس کے ساتھ مشکل اسٹیشنوں کی باقاعدہ درجہ بندی اور مقررہ مدت کے بعد ترجیحی روٹیشن کا نظام بنایا جائے۔ تبادلہ اور متبادل استاد کی تعیناتی ساتھ ہوں۔ جہاں فوری منتقلی ممکن نہ ہو، وہاں درخواست گزار کو تحریری وجہ، انتظار کی ترتیب اور اگلے جائزے کی تاریخ دی جائے۔ اساتذہ کو غیر معینہ انتظار میں رکھنے کی گنجائش ختم ہونی چاہیے۔

نئے مشیرِ تعلیم سے امید اپنی جگہ، مگر بچوں کا تعلیمی وقت مزید انتظار کا متحمل نہیں۔ استاد سے حاضری اور کارکردگی کا حساب لینے والے محکمے کو اب اپنی خالی آسامیوں اور تعیناتیوں میں تاخیر کا حساب بھی دینا ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest