faizi

میرٹ کا ماتم

داد بیداد

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

​گزشتہ ماہ سنٹرل سپیریئر سروس کے امتحان کا نتیجہ آیا میرٹ پر سوالات اٹھائے گئے۔

سول اعزازات کا اعلان ہوا تو میرٹ کو پاؤں تلے روندتے ہوئے دیکھا گیا پھر صوبائی سروس کے امتحان کا نتیجہ آیا تو ہر زون میں سیاسی طور پر نمایاں لوگوں کے ایسے بچےکامیاب دکھائے گئے جن کا تعلیمی ریکارڈ اس کے برعکس تھا 40 سال اعلیٰ سطح پر محسوس کیا گیا کہ میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات میں بڑے پیمانے پر گھپلے ہوتے ہیں اس لئے انٹری ٹیسٹ کا سلسلہ شروع کیا گیا کئی سال بعد پتہ لگا کہ اس میں بھی ملاوٹ اور دو نمبری ہے چنانچہ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں حکم امتناعی لی جاتی ہے کبھی ٹیسٹ کی تاریخ آگے پیچھے کی جاتی ہے کبھی ٹیسٹ کا نتیجہ آگے پیچھے کیا جاتا ہے انٹری ٹیسٹ کا وقار اور اعتبار بھی ختم ہو گیا۔

یہ میرٹ کے ماتم کا زمانہ ہے، میرٹ کا نام نہ لو، میرٹ کا نام و نشان نہ ڈھونڈو، کچھ نہیں ملے گا، ہمارے ایوان بالا کو لوگ “ایوانِ بلا” کہتے ہیں کیونکہ یہ بلاؤں کا گھر ہے اس ایوان میں ایک شخص بھی میرٹ پر نہیں آتا​مویشیوں کی منڈی جاتے ہیں وہاں سے اپنی کرسی خرید کر ایوانِ بلا میں داخل ہوتے ہیں کسی کو اس کی کرسی ایک ارب روپے میں پڑتی ہے کوئی بولی لگا کر دو ارب روپے میں اپنی نشست خرید کر آجاتا ہے میرٹ گئی تیل لینے، ہماری دیگر قانون ساز اسمبلیوں میں میرٹ کا نام لینا جرم ہے یہاں بھی میرٹ والے کا داخلہ ممنوع ہے یہ بھی گڑ کا شربت ہے جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہوگا ہماری اعلیٰ عدالتوں میں کبھی میرٹ کا گزر نہیں ہوا

ہمارے ایک دوست سینئر وکیل ہیں کسی بھی مقدمے کے بارے میں ان کا پسندیدہ جملہ ہے “میرٹ پر فیصلہ ہوگا”، ایک مظلوم بہن نے بھائی کے خلاف حق وراثت کا مقدمہ دائر کیا، چار سال گزرے، ماتحت عدالتوں نے اُس کے حق میں فیصلہ دیا جب مقدمہ اعلیٰ عدالتوں میں پہنچا، 45 سال مقدمہ چلتا رہا وکیل صاحب میرٹ، میرٹ بولتے رہے 45 سال بعد بہن کو حق وراثت سے محروم کر کے فیصلہ دیا گیا، اگلے روز پتہ چلا کہ 10 ارب روپے مالیت کی جائیداد میں بہن کا​جو حصہ تھا، وہ بھائی کے پاس بھی نہیں رہا، عدالت میں میرٹ پر فیصلے سے پہلے مک مکا ہو گیا تھا خدا کرے وکیل کو ملے، گواہ کو ملے یا جج کو ملے یہ حصہ باپ کی اکلوتی بیٹی کو نہیں ملنا چاہئے

وکیل صاحب کہتے ہیں میرٹ پر فیصلہ ہوا ہے، شاعر کہتا ہے “اس حال میں دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو” بھلا امتحان کا نتیجہ میرٹ پر کیسے آئیگا، امتحانی بورڈ پر ایک سیاستدان کی حکمرانی ہے وہ کہتا ہے 10 کروڑ روپے میرے اکاؤنٹ میں ڈالو، چیئرمین اگر انکار کرے تو اُس کو گھر بھیجا جاتا ہے،نتیجہ بھی صاحب کی مرضی کا آتاہے

ہمارے شاہ صاحب یہ سب کچھ جاننے کے بعد کہتے ہیں بھئی یہ ​اکیسویں صدی ہے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا زمانہ ہے کیمرے سے لی گئی تصویر رہ گئی تھی جس پر ہم کو کامل بھروسہ تھا کہ غلط نہیں ہوگا کیمرہ جھوٹ نہیں بولے گا مگر یاروں نے پہلے فوٹو شاپ میں جا کر کیمرے کی تصویر کا حلیہ بگاڑنا شروع کیا اب اے آئی( AI) کی مدد سے کیمرے کو جھٹلایا جاتا ہے، کیمرے نے تصویر بنائی اور AI نے اس کا کچومر نکال دیا سو خاطر جمع رکھو میرٹ مر چکا، اس کا ماتم بھی گزر چکا مزید ماتم کرنا صحت کے لئے مضر ہوگا ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest