javed2

جرائم کی روک تھام کیسے ہو؟

دھڑکنوں کی زبان

تحریر: محمد جاوید حیات

“انسان غلطی کا پتلا ہے”—یہ ایک ایسا بہانہ ہے جسے ماننا بھی پڑتا ہے اور اس حقیقت کے آگے سرِ تسلیم خم بھی کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جرائم ایسے ناسور ہیں جو انسانی زندگی کو عذاب بنا دیتے ہیں، معاشرے کو جنگل میں تبدیل کر دیتے ہیں اور انسان کے “اشرف المخلوقات” ہونے کے تفاخر کو مٹا دیتے ہیں۔ قرآنِ عظیم الشان نے ایسے (مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے) انسانوں کو حیوانوں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔

اسلام میں جزا و سزا کی واضح حدیں، انصاف کے روشن تقاضے اور قانون کی بالادستی کے معتبر اصول موجود ہیں۔ ان پر عمل پیرا ہو کر امتِ مسلمہ نے اپنے ابتدائی دور میں دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی صرف ایک حدیثِ مبارکہ انصاف کے تقاضوں کی تشریح کے لیے کافی ہے کہ: “اگر (بالفرض) میری بیٹی فاطمہ رض بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔”

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جرم جتنا سنگین ہو، سزا بھی اتنی ہی سخت ہونی چاہیے، کیونکہ اسی سے جرم کی روک تھام ممکن ہے۔ اگر جزا و سزا کے معاملے میں ذرا سا بھی جھول آ جائے تو جرم کو تقویت اور مجرم کو حوصلہ ملتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بے چینی اور جرائم کی افراط کی بنیادی وجہ ہی انصاف کی عدم دستیابی اور مجرموں کی حوصلہ افزائی ہے۔

اسلام میں جزا و سزا کا نظام بالکل واضح ہے۔ اسلام کو “دہشت گردی کا مذہب” کہنے والے آج خود اس کے وضع کردہ قوانین کی افادیت کے آگے مجبور ہو چکے ہیں۔ سزائے موت کو “ظلم” قرار دینے والے ممالک آج خود سنگین مجرموں کو سزائے موت دے رہے ہیں، اور چوری کی شرعی سزا کو سخت کہنے والے خود چوروں کو مفلوج کرنے والے قوانین پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ہمارے ہاں انصاف کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور مستزاد یہ کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔ عدالتوں اور پولیس کی کارروائیوں کا شور تو مچایا جاتا ہے، لیکن نہ سزا سامنے آتی ہے نہ جزا۔ یہ عوام کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہے۔ کسی ضلع میں نئے ڈی پی او کا تبادلہ ہوتا ہے تو پہلا دعویٰ یہی کیا جاتا ہے کہ “ضلع کو منشیات کی لعنت سے پاک کیا جائے گا”۔ اگر کسی مجرم کو میڈیا کے سامنے لایا بھی جائے تو اس کا چہرہ چھپا دیا جاتا ہے، حالانکہ اسے کھلے عام سزائے تازیانہ دینی چاہیے۔

پولیس مجرم کا چالان کرتی ہے، وہ عدالت سے ضمانت کراتا ہے اور دوبارہ اپنے مکروہ دھندے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اس المیے کے چند بنیادی اسباب ہیں:

پشت پناہی: مجرم اکیلا نہیں ہوتا، اس کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں اور اسے بااثر افراد کا سہارا حاصل ہوتا ہے۔

عناصر کی شمولیت: خود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کچھ افراد انفرادی سطح پر ان دھندوں میں ملوث ہوتے ہیں۔

قانون کی موشگافیاں: قانون کی روح (اسپرٹ) مفقود ہو چکی ہے اور انصاف کی امید دھندلا جاتی ہے، جس کی وجہ سے مجرم خود کو محفوظ تصور کرتا ہے۔

منشیات کا اسمگلر بڑی ڈھٹائی سے کہتا ہے کہ “میں کئی بار جیل جا چکا ہوں”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیل جانا اور باہر نکلنا ایک معمولی مشق اور روزمرہ کی کارگزاری بن چکا ہے، یعنی مجرم کو کھلے عام چھوٹ ملی ہوئی ہے۔

کئی وکلاء کو فخر سے یہ کہتے سنا گیا ہے کہ “ہم نے قتل (دفعہ 302) کے اتنے کیسز جیتے ہیں”، اور کئی پولیس افسران کو کسی پر احسان جتاتے دیکھا گیا ہے کہ “ہم نے تجھے منشیات کے خطرناک کیس اور سزائے موت سے بچایا ہے”۔ اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پولیس اپنی کارکردگی کا بلاوجہ پروپیگنڈا کیوں کرتی ہے؟ مجرم کو سرعام سزا دے کر اس جرم کا قلع قمع کیوں نہیں کیا جاتا، تاکہ پھر کسی کو ایسا جرم کرنے کی جرأت ہی نہ ہو؟

اسلام کے ابتدائی دور کو چھوڑیں، کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں جب ایک بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا اور مجرم پکڑا گیا، تو جنرل ضیاء نے اسے سرعام پھانسی دینے کا حکم دیا۔ اس کے بعد ان کے پورے دور میں زیادتی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ اسی طرح چین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کرپشن کی سزا موت ہے، اسی لیے وہاں کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوا۔

جبکہ ہمارے ہاں سرعام نوکریاں بیچی جا رہی ہیں، بھتے مانگے جا رہے ہیں اور کمیشن وصول کی جا رہی ہے۔ اگر صورتِ حال یہی ہے تو یہ شہرِ ناپرسان ہے، جہاں سب شاملِ باجہ ہیں۔ پھر عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے یہ پروپیگنڈا کیوں؟ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور عدالتوں کے بس میں کسی کو سزا دینا ہی نہیں، تو پھر ان اداروں کا وجود کس لیے ہے؟ انہیں اپنی کارکردگی کے اشتہار بازی کی کیا ضرورت ہے؟

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

جرائم کی روک تھام ان ڈرامہ بازیوں سے ممکن نہیں۔ جب تک جزا و سزا کا شفاف اور بلاامتیاز نظام قائم نہیں ہوگا، حالات نہیں بدلیں گے۔ جس ملک میں ایس ایچ او اپنے دفتر میں بیٹھ کر سگریٹ پیتا ہو، استاد کلاس روم میں بچوں کے سامنے نسوار لگاتا ہو اور عدالت کا جج کسی پارٹی میں جامِ مئے ہاتھ میں لیے تھرک رہا ہو، وہ آخر کس طرح کسی جرم کو روکیں گے یا مجرم کو راہِ راست پر لائیں گے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest