داد بیداد
عالمی سطح پر دو قسم کے لوگ نظر آتے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو مجبور، بے کس اور بے بس ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا۔ دوسرے وہ ہیں جو مجبور نہیں، بے کس نہیں، بے بس نہیں۔ قانون نے ان کو ہر طرح کا اختیار دیا ہے، اس کے باوجود ان کا بھی بس نہیں چلتا، اور یہ “بے بسی کی انتہا” معلوم ہوتی ہے۔
اخبارات میں خبر لگی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ یہ خطہ امن و سلامتی کے حوالے سے خطرناک موڑ پر آ گیا ہے۔ ہر روز نئی کشیدگی سے نیا خطرہ جنم لے رہا ہے۔ یہ ایسی صورتِ حال ہے جس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک اور جنگ چھڑ گئی تو ایسا انسانی المیہ پیدا ہوگا جو کسی کے قابو میں نہیں آئے گا۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کام کرنے والا بہت بڑا دفتر “نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی” ہر روز خبردار کرتا ہے کہ خطرناک سیلاب آنے والا ہے، جس سے مالی اور جانی نقصانات کا اندیشہ ہے۔ سیلاب آیا تو بڑے پیمانے پر تباہی ہوگی۔
پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ عدلیہ اور بار نے مل کر عوام کو عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا اور ماتحت عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدالتوں تک انصاف ہوتا ہوا نظر نہ آیا تو معاشرہ تباہی سے دوچار ہوگا۔ اس تباہی کے نتیجے میں ایسا انقلاب آئے گا کہ کسی کی پگڑی اور عزت محفوظ نہیں رہے گی۔
تینوں مقتدر حلقوں کی طرف سے آنے والے انتباہ کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے جس کو عربی میں “وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ” کہا جاتا ہے، یعنی ہم نے جو کہا، یہی ہماری ذمہ داری تھی، آگے پتہ نہیں لگتا کہ حالات پر قابو پانا کس کی ذمہ داری ہے۔
خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر یہ بات کہہ سکتا ہے کہ میں نے خدا کا پیغام پہنچایا اور اپنی ذمہ داری پوری کی، مگر دنیا میں کسی اہم کام کے لیے تنخواہ لینے والا ذمہ دار حاکم یا افسر لوگوں کو خبردار کرکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ بے بس اور بااختیار میں فرق ہوتا ہے۔
مسلح افراد کا گروہ کسی سکول، ہسپتال، جنازہ گاہ، مسجد، پولیس سٹیشن یا چھاؤنی پر حملہ کرکے چالیس، پچاس بے گناہ لوگوں کا خون بہائے تو شہر کے کسی محلے میں انجمنِ بہبودِ انسانیت یا تنظیمِ حقوقِ انسانی کا عہدیدار اس حملے کی مذمت کرتا ہے، کیونکہ اس کے بس میں مذمت سے آگے کچھ بھی نہیں۔ وہ مذمت کے سوا کیا کرسکتا ہے؟
مگر خبروں میں آتا ہے کہ صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ یا ان سے بھی بڑے حاکم نے واقعے کی مذمت کی ہے، تو ہمارا خون کھول اٹھتا ہے۔ تمہارے پاس اختیارات ہیں، وسائل ہیں، طاقت ہے، ہتھیاروں سے تم لیس ہو، تم بھی کسی گلی محلے کی تنظیم کی طرح مذمت کرو گے تو مسلح گروہ کو پکڑے گا کون؟ حملہ آوروں کو قانون کے دائرے میں لا کر سزا کون دے گا؟
تمہاری طرف سے مذمت کا بیان ہمیں منظور نہیں۔ تمہاری طرف سے مذمت والا بیان آنا فرائض سے غفلت کی نشانی ہے۔
اگر ہم کتاب اور قانون سے رجوع کریں تو اقوام متحدہ کے چارٹر میں لکھا ہے کہ اس تنظیم کا کام کسی ممکنہ جنگ کو روکنا ہے اور سیکرٹری جنرل اس کا سب سے بااختیار افسر ہے۔ سلامتی کونسل کے پاس جنگ کو روکنے کا اختیار ہے۔
ایک ذمہ دار عالمی تنظیم کے ذمہ دار افسر کا بااختیار فورم پر انتباہ جاری کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس کا فرض ہے کہ جنگ کو روکنے کے لیے احکامات جاری کرے اور عملی قدم اٹھا کر امن قائم کرے۔
ملک میں قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے والے دفتر کے بڑے حاکم کا فرض ہے کہ قدرتی آفات کے نتیجے میں آنے والی ممکنہ تباہی کا راستہ روکے، لوگوں کو ممکنہ تباہی سے بچانے کے لیے اقدامات کرے۔ اگر وہ انتباہ جاری کرکے لمبی تان کر سو جائے تو یہ فرضِ منصبی سے غفلت کے زمرے میں آئے گا۔
ہم ہر روز دیکھتے ہیں، یہ دفتر صرف خبردار کرتا ہے اور خبرداری کا بیان بھی 20 سال پہلے لکھا ہوا ہے، اسی کو دہرایا جاتا ہے۔ نیا بیان کوئی نہیں لکھتا۔ قدرتی آفت آ جائے تو اس دفتر کا وجود کسی صوبے یا ضلع یا تحصیل میں نظر نہیں آتا۔ اس کا دفتر کسی نے نہیں دیکھا، اس کا افسر کسی نے نہیں دیکھا۔
یہی حال عدل و انصاف فراہم کرنے والے ادارے کے حاکمِ اعلیٰ کا ہے۔ اس کے سامنے آج چار مقدمات تھے، چاروں کو گزشتہ 10 سالوں کی طرح اگلی تاریخ تک ملتوی کیا گیا۔ ان کا فیصلہ چالیس سال بعد آئے گا۔ تاہم حاکمِ اعلیٰ نے اپنی تقریر میں عدل کے قیام اور انصاف کی فراہمی پر زور دے کر ناانصافی کے برے انجام سے سب کو خبردار کیا ہے۔
موصوف کی تقریر سے بہتر تھا کہ آج کے چار مقدمات کا فیصلہ سنا کر اپنا فرض ادا کرتا۔
بالکل اسی انداز میں ہم ملک کے صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ یا کسی اور بااختیار حاکم اور حکمران سے یہ توقع ہرگز نہیں رکھتے کہ وہ دہشت گردی کی مذمت میں بیان جاری کریں گے۔ ہم ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ دہشت گردوں کو پکڑ کر تین دنوں کے اندر یا کم از کم سات دنوں کے اندر مجمعِ عام کے سامنے سزائے موت دیں گے اور ہم ان کی لاشوں کو تختۂ دار پر جھولتے دیکھیں گے۔
اگر یہ لوگ بھی بے بسوں کی طرح مذمت کرتے ہیں تو یہ بے بسی کی انتہا ہے۔

