دادِ بیداد
ڈاکٹرعنایت اللہ فیض
نئی ایجادات کے ساتھ آج کی دنیا میں نیا سماجی ڈھانچہ وجود میں آ چکا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اس ڈھانچے کو اپنی ثقافتی اقدار اور تہذیبی اطوار کے ساتھ ہم آہنگ کرکے اس کی خامیوں پر قابو پا لیا ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں نیا سماجی ڈھانچہ روایتی اقدار اور اطوار کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
وطنِ عزیز پاکستان میں ایسی صورتِ حال دیکھنے میں آتی ہے کہ بڑوں کا ادب نہیں رہا، چھوٹوں پر شفقت نہیں رہی، حکومت کی عملداری نظر نہیں آتی، حکمرانوں کی عزت کرنے کا رواج ختم ہو چکا ہے، قانون کا احترام نہیں رہا۔ اس طرح نیا سماجی ڈھانچہ تیار ہوا ہے، جو پرانے سماجی نظام کی جگہ لے رہا ہے۔
اس تبدیلی کا سب سے منفی اثر نئی نسل پر نظر آتا ہے۔ نوجوانوں کا مؤثر طبقہ ملک کے مستقبل سے مایوس ہو رہا ہے اور پہلی فرصت میں جائز یا ناجائز طریقوں سے ملک چھوڑنے پر غور کرتا نظر آ رہا ہے۔ نوجوانوں کی طرف سے مذہبی اقدار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اخبارات میں لاقانونیت کی خبریں تسلسل کے ساتھ آ رہی ہیں، منشیات نے نوجوانوں کی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ جنسی ہراسانی میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، تعلیمی اداروں میں جنسی سکینڈل سامنے آ رہے ہیں، قتل کی وارداتیں اتنی عام ہو گئی ہیں کہ کچہری اور عدالت میں قاتل کے گواہان کو قتل کیا جا رہا ہے۔
اس صورتِ حال میں محبِ وطن بزرگوں کا خیال ہے کہ حکومت چاہے تو حالات پر قانون کی گرفت مضبوط ہو سکتی ہے، نوجوانوں کو مایوسی کے دلدل سے باہر نکالا جا سکتا ہے۔ نئے سماجی ڈھانچے کے اجزائے ترکیبی پر توجہ دی جائے تو حالات پر قابو پانا مشکل نہیں۔ اس کے اجزائے ترکیبی صرف تین چیزیں ہیں۔ پہلی چیز سوشل میڈیا ہے، دوسری چیز مذہبی تعلیم اور عصری تعلیم کی آپس میں دوری اور مخالفت ہے، تیسری چیز انصاف کا فقدان ہے۔
سوشل میڈیا بلاگرز کو چین، جاپان، جنوبی کوریا، ایران اور سعودی عرب نے اپنے سماجی اور تہذیبی اقدار کا پابند کیا ہے۔ ان ممالک کے سفر پر جانے والے سیاح اعلان کرتے ہیں کہ سفر سے واپسی تک وہ سوشل میڈیا سے غیر حاضر رہیں گے؛ یہ سہولت انہیں حاصل نہیں ہوگی۔مذہبی اور عصری تعلیم میں دوری کے مسئلے کو ملائیشیا، انڈونیشیا اور مراکش نے کامیابی کے ساتھ حل کر لیا ہے۔ وہاں تعلیم کے دونوں دھارے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور شیر و شکر ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں علمائے کرام کے ایک حلقے نے دونوں نظاموں کے درمیان حائل خلیج کو پاٹنے کے لیے دینی تعلیم کے اداروں میں انگریزی، کمپیوٹر سائنس اور مینجمنٹ سائنس کے مضامین کو جگہ دی ہے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھے گا تو نوجوانوں کا بڑا طبقہ قومی دھارے میں آ کر قومی تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔عدل و انصاف کا فقدان سب سے مشکل مسئلہ ہے۔ اس میں سیاست، عدالت اور معیشت تینوں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سیاست دان اپنے آپ کو احتساب اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ عدالت میں ایک معمولی مقدمہ چالیس سال تک لٹکا رہتا ہے، مگر فیصلہ نہیں ہوتا۔ معاشی لحاظ سے طاقتور طبقہ عدالتی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالتا ہے، جبکہ نوجوان معاشی طور پر انصاف کے حصول کی جدوجہد میں چالیس سال نہیں لگا سکتا۔جس دن یہ تینوں عناصر مل کر انصاف کی راہ ہموار کر دیں گے، اسی دن نوجوانوں کی مایوسی دور ہو جائے گی۔
سماجی انصاف کی عملی مثال یورپی ملک اٹلی کی ایک عدالت نے دسمبر 2024 میں پیش کی۔ وہاں کئی سو کلومیٹر دور ایک افغانی ترکمان سے اچانک ملاقات ہوئی، جو روم کی عدالت میں اپنا مقدمہ جیت کر آ رہا تھا۔ یہ ایک مقامی صنعت کار کے خلاف 20 ہزار یورو کی ادائیگی کا مقدمہ تھا۔ افغان شہری نے پیر کے دن دعویٰ دائر کیا، بدھ کے روز صنعت کار کو طلب کیا گیا۔ اس نے دو دن کی مہلت مانگی۔ جمعہ کے دن وہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہوا تو 20 ہزار یورو عدالت ہی میں مدعی کو اس کے کنٹریکٹ دستاویز کے مطابق ادا کرنا پڑے۔ اس طرح پاکستانی کرنسی میں تقریباً 55 لاکھ روپے کا مقدمہ صرف چھ دن میں فیصلہ ہوا۔ مدعی کو وکیل لانے کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔ اس کا کل خرچہ بس یا ٹرین میں تین بار پیشی کے لیے آنے جانے کا معمولی کرایہ تھا۔نیا سماجی ڈھانچہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ نوجوانوں کو مایوسی سے نکالنے کے لیے سوشل میڈیا کو کنٹرول کریں، دینی اور عصری تعلیم کے درمیان حائل خلیج کو ختم کریں، اور سماجی انصاف کا ایسا نظام متعارف کرائیں جس میں غریب مزدور وکیل کے بغیر عدالت جا کر صنعت کار، سیاست دان اور جاگیردار سے اپنا حق ایک ہفتے میں حاصل کر سکے۔ ورنہ نیا سماجی ڈھانچہ ہمیں ڈبو دے گا۔


پاکستان میں ہر دور کا اپنا ایک قومی ولن رہا ہے۔ کبھی فلمیں، کبھی کیبل ٹی وی، کبھی ویلنٹائن ڈے، کبھی جینز، اور اب سوشل میڈیا۔ اس ملک میں ایک عجیب روایت ہے: جو چیز عوام کے ہاتھ میں ہو، وہ قومی تباہی کی جڑ قرار پاتی ہے، اور جو چیز اقتدار کے ہاتھ میں ہو، وہ “قومی مفاد” کہلاتی ہے۔
عنایت اللہ فیض صاحب کا حالیہ مضمون بھی اسی پرانی روایت کا تسلسل ہے۔ مضمون کا مرکزی مقدمہ یہ ہے کہ نیا سماجی ڈھانچہ ہماری تہذیب، اخلاقیات اور نوجوانوں کو برباد کر رہا ہے، اور اس تباہی کے تین بڑے اسباب ہیں: سوشل میڈیا، دینی و عصری تعلیم میں خلیج، اور انصاف کا فقدان۔
یہاں پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ اگر انصاف کا فقدان واقعی بنیادی مسئلہ ہے، تو پھر پورے مضمون کا زیادہ تر حصہ سوشل میڈیا کے خلاف فردِ جرم لکھنے میں کیوں صرف کیا گیا؟ کیا پاکستان میں کرپشن سوشل میڈیا کے آنے کے بعد شروع ہوئی؟ کیا جاگیرداری فیس بک نے ایجاد کی؟
کیا پولیس گردی ٹک ٹاک کی دین ہے؟
کیا عدالتی تاخیر انسٹاگرام ریلز کی وجہ سے پیدا ہوئی؟
اگر جواب نفی میں ہے- اور یقیناً ہے – تو پھر اصل مجرم کو چھوڑ کر موبائل فون کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ایک فکری سہولت تو ہو سکتی ہے، سماجی تجزیہ نہیں۔ مصنف لکھتے ہیں کہ “بڑوں کا ادب ختم ہو گیا۔” لیکن سوال یہ ہے کہ احترام کس بنیاد پر مانگا جا رہا ہے؟ عمر کی بنیاد پر، عہدے کی بنیاد پر یا کردار کی بنیاد پر؟ کیا وہ سیاست دان احترام کا مستحق ہے جو اقتدار کو خاندانی وراثت سمجھتا ہے؟ کیا وہ افسر احترام کا مستحق ہے جس کے دفتر میں قانون سے زیادہ سفارش چلتی ہے؟ کیا وہ طاقتور احترام کا مستحق ہے جو اپنے لیے الگ قانون اور عوام کے لیے الگ انصاف چاہتا ہے؟
احترام ایک سماجی معاہدہ ہے، سرکاری نوٹیفکیشن نہیں۔ یہ کردار سے پیدا ہوتا ہے، کرسی سے نہیں۔ پھر مصنف کا حل دیکھیے: سوشل میڈیا کو کنٹرول کیا جائے۔ پاکستان میں اس جملے کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ جب بھی کوئی طاقتور طبقہ عوام کے سوالات سے پریشان ہوتا ہے، سب سے پہلے یہی تجویز سامنے آتی ہے۔ کیونکہ مسئلہ نفرت انگیزی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اب نفرت انگیزی ریکارڈ ہو جاتی ہے۔ مسئلہ کرپشن نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ثبوت وائرل ہو جاتے ہیں۔ مسئلہ ظلم نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اب مظلوم کے پاس بھی کیمرہ موجود ہے۔
سوشل میڈیا نے پاکستان کے مسائل پیدا نہیں کیے؛ اس نے صرف ان مسائل کو عوام کی نظروں سے اوجھل رہنے نہیں دیا۔ مضمون میں چین، جاپان، جنوبی کوریا، ایران اور سعودی عرب کو ایک ہی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے، گویا ان سب کے سیاسی، آئینی اور سماجی نظام ایک جیسے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان ممالک کے انٹرنیٹ، آزادیِ اظہار، عدالتی ڈھانچوں اور ریاستی فلسفوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مختلف النوع معاشروں کو ایک ہی دلیل میں سمو دینا تجزیہ نہیں، اختصارِ مخل ہے۔
مصنف نوجوانوں کے مذہبی سوالات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سوال پوچھنا کب سے سماجی بیماری بن گیا؟ تعلیم کا مقصد سوال پیدا کرنا ہے، سوال دبانا نہیں۔ اگر کسی مذہبی، فکری یا سماجی تصور میں وزن ہے تو وہ سوالات کا سامنا کرے گا، ان سے فرار اختیار نہیں کرے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مضمون کے آخر میں خود مصنف اعتراف کرتے ہیں کہ سیاست، عدلیہ اور معیشت نوجوانوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یہی تو اصل مسئلہ ہے۔ پاکستان کا نوجوان اس لیے مایوس نہیں کہ اس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے۔ وہ اس لیے مایوس ہے کہ اس کے سامنے ایک ایسا نظام کھڑا ہے جہاں قابلیت سے زیادہ تعلقات، محنت سے زیادہ سفارش، قانون سے زیادہ طاقت اور میرٹ سے زیادہ خاندانی شناخت کی قیمت ہے۔
یہاں ڈگری لینے والا نوکری ڈھونڈتا ہے، جبکہ سفارش رکھنے والا عہدہ ڈھونڈتا ہے۔
یہاں غریب عدالت میں انصاف خرید نہیں سکتا، اور امیر انصاف کو سالہا سال مؤخر کروا سکتا ہے۔ یہاں نوجوان کو حب الوطنی کے لیکچر تو ملتے ہیں، مگر روزگار، تحفظ اور مساوی مواقع نہیں ملتے۔
پاکستان کو سوشل میڈیا سے نہیں، اس ذہنی سستی سے خطرہ ہے جو ہر بحران کا آسان ترین مجرم ڈھونڈ لیتی ہے۔ جب معیشت بیٹھ جائے تو اخلاقیات یاد آ جاتی ہیں۔ جب انصاف مر جائے تو تہذیب خطرے میں آ جاتی ہے۔ جب نوجوان ہجرت کریں تو موبائل فون کٹہرے میں آ جاتا ہے۔ لیکن جنہوں نے معیشت کو آئی سی یو میں پہنچایا، اداروں کو کمزور کیا، قانون کو طبقاتی بنایا، اور میرٹ کو سفارش کے نیچے دفن کیا، ان کا ذکر ہمیشہ سرگوشی میں ہوتا ہے۔ شاید اس لیے کہ پاکستان میں سچ بولنے سے زیادہ محفوظ کام، نوجوانوں کو نصیحت کرنا ہے۔ اور جب قوموں کے دانشور اقتدار سے سوال کرنے کے بجائے نوجوانوں کی انگلیوں میں پکڑے موبائل سے لڑنے لگیں، تو سمجھ لیجیے مسئلہ معاشرہ نہیں، بیانیہ ہے۔ بیانیہ اس لیے خطرے میں ہے کہ اب اس کا سامنا حقیقت سے ہو گیا ہے۔