بروغیل میں میڈیکل کیمپ

بروغل میں پہلا میڈیکل کیمپ

شیر ولی خان اسیر

یہ 1982کے موسم گرما کا آغاز تھا۔ میری پوسٹنگ ہائی اسکول بریپ یارخون میں تھی۔ مرحوم سیف الملوک ڈائریکٹر زراعت چترال تھے اور آغا خان ہیلتھ سروس چترال کے آنریری چیرمین بھی تھے۔ ان کی طرف سے مجھے ایک مشکل ذمے داری سونپی گئی۔
آغا خان ہیلتھ سروس کا ایک ذیلی ادارہ اسکول ہیلتھ کے نام سے موجود تھا جو اسکولوں کے بچوں کا طبی معائنہ کرتا تھا۔ مرحوم سیف الملوک نے مستوج تا بروغل سکول کے طلبہ کے چیک آپ کرنے والی ٹیم کی قیادت اور انتظام میرے ذمے لگایا تھا۔ یہ ٹیم چار ڈاکٹروں (دو مرد اور دو خاتون) اور درجن بھر نرسوں اور ولنٹیئر جوانوں پر مشتمل تھی۔ بریپ سے بروغل تک اس ٹیم کو گھوڑوں پر لے کے جانا تھا۔
مجھے دو ہفتوں کی چھٹی لینی پڑی اور اپنی بیگم کے لیے جو اس وقت آغا خان ہیلتھ سنٹر بریپ کی ہیلتھ وزیٹر تھی اس کے محکمے سے اجازت لے لی۔ اپنا اور اپنے سسر کا گھوڑا ساتھ لیا۔ چند دوسرے حضرات نے گھوڑے دے دیے۔ بار برداری کے لیے دو تین گدھے بھی کرایے پر لیے گئے ۔باقی سب رضاکارانہ کام تھا۔
گاؤں بریپ سے آگے دریائے یارخون کے اوپر کوئی پل نہیں تھا۔مشکل اس وقت پیش آتی رہی جب ہمیں دریائے یارخون گھوڑوں کی پیٹھ پر عبور کرنا ہوتا تھا۔ کراچی کی لڑکیاں جو اس قسم کی مہم سے مکمل نابلد تھیں گھوڑوں پر اکیلی بیٹھنے کا سوچ کر لرزنے لگیں۔ اس لیے ہمیں مجبوراً طاقتور گھوڑوں پر ان لڑکیوں کواپنے پیچھے بٹھا کر باری باری دریا عبور کرانا ہوتا تھا۔ اس دوران انہیں آنکھیں بند رکھنے کی ہدایت دینی پڑتی تھی بلکہ وہ خود خوف کے بارے آنکھیں بند رکھتی تھیں اور انہیں گھوڑے پر توازن کو برقرار رکھنے کے لیے چادر کے ذریعے اپنی پیٹھ کے ساتھ باندھنا پڑتا تھا۔ دو تین دفعہ دریا عبور کرنے کے بعد وہ اکیلی سواری کرنے کے قابل ہوگئیں۔ اس سے بھی بڑا مسلہ ان کو علاقے کے مقامی پلوں سے گزارنا ہوتا تھا جو ایک آدمی کے بوجھ تلے لرزہ براندام ہوتے تھے۔ ان بچیوں کا ہاتھ پکڑ کر ایک آدمی خود پیچھے سرکتے ہوئے پل سے گزرنا ہوتا تھا۔ وہ لڑکیاں اتنی خوفزدہ ہو جاتیں کہ آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے یا دونوں اطراف جھک جاتیں ۔ ایک مقامی تنگ پل جس کے اطراف کوئی جنگلہ نہ ہو اور آپ کے نیچے جھولتا ہو، صحیح سلامت پار ہو جانا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ یہ بہت بڑی خطرناک مہم تھی۔
چترال کے ولنٹئیر جوانوں میں ایک خوش طبع بیٹی مس عائشہ ایل ایچ وی از کراچی، عمران شہید ابن زین العابدین ایم پی اے مرحوم ایک ہنس مکھ، خوش مزاج,خوش اخلاق اور ظریف طبع جوان تھا جس کا مسکراتا چہرہ آج بھی اسی طرح میری یاداشت کا انمٹ حصہ ہے جیسا کہ کل کی بات ہو۔ عمران شہید کا وہ کھلتا کا ہوا چہرہ میری یاداشت کے حسین ترین حصوں میں شامل ہے اور رہے گا۔ ان کے ساتھ پوسٹ ماسٹر فرمان نظار رتھینی بریپ، میرے پیارے شاگرد محمد علی اور امتیاز علی جم لشٹ بریپ ، سید بابر شاہ مرحوم بانگ بالا اور فاتح دیزگ شامل ٹیم تھے۔
اللہ کا کرم ہوا کہ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا یہ ٹیم گاؤں گاؤں کیمپ لگاتی ہوئی وادی بروغل کے آخری گاؤں لشکر گھاس تک گئی۔ ہم نے ایک رات مرزا رافی مرحوم کے ساتھ ان کے گھر بسر کی۔ مرزا رافی کا اصل وطن سریقول تھا۔ سیاسی وجوہات نے ان کے والد اور چچا کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا اور بروغل کے لشکر گھاس میں بس گئے تھے۔ یہ لوگ سریقول کے حاکم رہے تھے اس لیے یہاں بھی ان کی قدر و منزلت تھی۔ مرزا رافی حکومت پاکستان کی طرف سے خفیہ خبر رسانی پر مامور تھے۔
وادیٔ یارخون اور بروغل کے باسیوں نے زندگی میں پہلی دفعہ اپنے علاقے میں طبی معائنے کی سہولت دیکھی اور بھر پور فائیدہ اٹھایا۔ واپسی میری پہلے ہوئی کیونکہ ہماری چھٹی ختم ہوگئی تھی۔ غالبا دو لیڈی ڈاکٹروں کی بھی کراچی واپسی تھی باقی طبی عملے کو ہم نے شوست کی طرف بھیجا تھا جو اس وقت چٹی سار یا انکیپ میں تھے اور اس ٹیم کے ساتھ لیڈی ممبر نہیں تھی۔ ہم یارخون لشٹ سے دریائے یارخون کے دائیں طرف سے واپس چلے جب شوست گاؤں کے سامنے پہنچے تو دیکھا کہ دریا کے اس پار خواتین کا ایک جم غفیر ہاتھ ہلاتے ہوئے ہمیں شوست بلا رہا تھا۔ درمیان میں ایک مقامی ساخت کا ڈھائی تین فٹ چوڑا اور سینکڑوں فٹ لمبا پل تھا اور جس کے اطراف میں کوئی حفاظتی جنگلہ نہ تھا۔ یہ پل “پلیلیان سیر” یعنی چیونٹیوں کا پل کے نام سے مشہور تھا۔ آج کل یہاں ایک جیب ایبل پل بن گیا ہے جو اے کے ڈی این کی مہربانی ہے۔ چیونٹیوں کے پل پر سے دو بندوں کا بیک وقت گزرنا کتنا خوفناک ہو سکتا ہے یہ ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس پر قدم رکھنا گویا موت کے کواں میں قدم رکھنا تھا۔ پل کے اِس طرف ایک دو چار مرد حضرات پہلے سے ہمارا راستہ روکے شوست کی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کی طرف سے درخواست گزار تھے کہ ڈاکٹر ان کے پاس جاکر ان کا معائینہ کریں۔ یہ میرے اور میری ٹیم کے ارکان کے لئے انتہائی مشکل مسلہ بن گیا۔ ایک طرف بیکاری ماوں اور بہنوں کی درخواست تھی تو دوسری طرف کراچی کی خواتین کو اس پل صراط پر سے باحفاظت پار کرنا تھا۔
میں نے اللہ کا نام لے کر پل پر قدم رکھا اور بیٹھ کر پہلے اپنی بیوی کو پیٹھ کی طرف چلتے ہوئے کراس کرایا پھر ایک ڈاکٹر بیٹی کا ہاتھ پکڑے خود پیچھے کی طرف سرکنے لگا اور ڈاکٹر کو آنکھیں بند کرکے آگے بڑھنے کو کہا تاکہ اسے چکر نہ آئے۔ اس قسم کا خطرناک پل یا سڑک عبور کرتے وقت اگر آدمی ڈر جائے تو یہ انتہائی خطرے کا باعث بنتا ہے۔ ان حالات سے میں خود کئے دفعہ گزر چکا ہوں۔ یہ بہت بڑا رسک میں نے لیا تھا۔ مقامی لوگوں پر میں اعتماد نہ کر سکا کیونکہ یہ بیٹیاں جو ہماری خدمت کے لیے کراچی سے بروغل کا طویل ترین سفر کیا تھا۔ مرے ہاتھ میں امانت تھیں ۔ دعاوں، صدقوں کی نیتوں اور مہمانیوں کے سہارے اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے یہ معرکہ سر کیا جسے یاد کرکے میں آج بھی کانپتا ہوں۔
سفر کے بہت سارے نقوش ذہن سے مٹ گئے ہیں البتہ میرے قابل شاگرد محمد علی اور امتیاز اور پوسٹ ماسٹر کو یاد ہوں گے۔اگر چاہیں تو وہ اس کہانی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest