DHQ hospital Lower Chitral

ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں چند روز

شیر ولی خان اسیر

جب ہسپتال کے گیٹ کے اندر داخل ہوا تو رات کا وقت تھا اور میں ایمرجنسی کی حالت میں تھا اس لیے توجہ صرف اور صرف اپنی بیگم صاحبہ کی صحت کی طرف تھی جس کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ 31 مارچ کی رات کے آخری پہر پشاور سے اپنے گھر لعل آباد یارخون پہنچا۔ صبح اٹھا تو بیگم صاحبہ کو خطرناک بیماری میں مبتلاء پایا۔

یکم اپریل کو ہومیو پیتھک ڈاکٹر نگاہ مراد کو بلوایا۔ اس نے اپنے علم طب کے مطابق علاج شروع کیا۔ آغاخان ہیلتھ سنٹر بانگ کی نرس بیٹیوں نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق علاج جاری رکھا۔ رات گزر گئی تو مریضہ کو لے کر چترال روانہ ہوا۔ آغاخان ہیلتھ سنٹر بریپ میں ایک ڈیڑھ گھنٹے کے لیے اسے آرام دیا اور نرسز نے دوایاں دیں اور انجکشن لگائے۔ پھر چار بجے دن بونی میڈیکل سنٹر پہنچایا تو حاضر سروس ڈاکٹروں نے مریضہ کا معائینہ کیا اور ٹیسٹ کروائے تو پتہ چلا کہ مریضہ کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ مذکورہ ہیلتھ سنٹر میں ڈیالاسز کی سہولت نہیں تھی تو انہوں نے ضروری انجکشن لگوا کر ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال بھیج دیا۔

یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس دوران میری بیٹی ڈاکٹر زبیدہ سرنگ اسیر بھی کنیڈا سے ان لائن مشاورت میں شامل رہی۔ میں نے ایم ایس جی ایچ کیو ہسپتال چترال ڈاکٹر فیاض رومی کو فون کرکے حالات سے آگاہ کیا تو انہوں نے ڈیالاسز کی سہولت کی موجودگی کی خوشخبری سنا کر ہمیں حوصلہ دیا۔ جب چترال ہسپتال کے ایمرجنسی یونٹ پہنچے تو ایم ایس کو بنفس خود ایمرجنسی میں موجود پایا۔ ان کے ساتھ میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر شاہ حسین ڈیوٹی پر موجود تھے۔ ڈاکٹروں نے مریضہ کے معائنے کے بعد تسلیاں دیں اور مریضہ کا علاج شروع کر دیا گیا۔  اگلی صبح تک اس کی حالت کافی سدھر گئی۔ اس کے گردوں نے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ مریضہ کی حالت بہتر ہونے کے بعد جب مجھے ذہنی سکون ملا تو مجھے ہسپتال کا ماحول دیکھنے کا موقع بھی ملا۔
پہلی تبدیلی جو میں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں دیکھی وہ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی موجودگی تھی۔ ڈاکٹروں کا مریض دوست رویہ اور علاج کا بہترین طریقہ کار اور بروقت حاضر باشی دیکھ کر دل خوش ہوا۔ ہمارے چترال کے نوجوان ڈاکٹرز اعلیٰ ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری تندہی کے ساتھ دکھی انسانیت کی اطمینان بخش خدمت کر رہے ہیں۔
اس ہسپتال میں دوسری تبدیلی اس کا صحت افزاء ماحول ہے۔ عمارت کی دلکشی ، باغیچوں اور لان کی خوبصورتی اور پودوں اور پھولوں کی ہریالی دل موہ لینے والی ہے۔ ایسا قابل ستائش ماحول پیدا کرنا ہسپتال کی انتظامیہ کی قابلیت کا مظہر ہے۔ بتایا گیا کہ ہسپتال کے سابق ایم ایس ڈاکٹر حیدر الملک نے اس کی تعمیر و مرمت اور آرائش زیبائش کا کام کر وایا تھا جسے موجودہ ایم ایس نے مزید نکھارا ہے۔

ایک ہسپتال اور درسگاہ کی پہلی ضرورت اس کا قابل قبول ماحول ہوتا ہے۔ ہسپتال میں مریضوں کو اور تعلیمی درسگاہ میں بچوں کو ذہنی اور قلبی مسرت حاصل ہو جائے تو یہ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات ڈالتی ہے۔ مریض کی صحت یابی اور طالب العلم کی علمی اور جسمانی نشو نما کے لیے جاذب نظر جگہہوں اور  ہنس مکھ چہروں کا وجود بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان دونوں خوبیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں موجود پاکر مجھے صحیح معنوں میں دلی خوشی حاصل ہوئی۔ میری نظروں میں اس ادارے کی پرانی تصویر تھی جو کسی طور خوش گوار نہیں تھی۔ اس وقت یہ ایک خوبصورت عمارت اور باغات پر مشتمل دلکش مقام بن گیا ہے۔ وارڈوں سے لے کر ہسپتال کے تمام حصوں کی صفائی ستھرائی قابل تعریف ہے۔  کہیں بھی کوئی بدنما  شئے، کوئی کچرا نظر نہیں آیا اور نہ ہی کہیں حس شامہ کو ناگوار لگنے والی بو سونگھنے کا تجربہ ہوا جو عام طور پر سرکاری ہسپتالوں کا خاصہ ہوتا ہے۔ ایم ایس سے لے کر پیرامیڈیکل اسٹاف اور ملازمین کی پیشانیوں کے اوپر کوئی سلوٹ دیکھنے کو نہیں ملی۔ سارے چہرے ہنس مکھ اور جاذب نظر تھے۔
ہسپتال کا خوشگوار ماحول اور عملے کی بہترین خدمات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر فیاض علی رومی اور ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر اسرار صاحب  باصلاحیت منتظم ہیں۔ ادارے کے اندر مثبت  نظم و ضبط سربراہ کے پازیٹو ڈسپلن پالیسی کی نشان دہی کرتا ہے جو ایک ادارے کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے سرکاری اداروں کے پاس حسب ضرورت بجٹ پرویژن نہیں ہوتا۔ محدود وسائل کا بہترین استعمال انتظامی آفیسر کی انتظامی قابلیت کا واضح ثبوت ہے ۔

یہ ہسپتال چترال کے دو ضلعوں کے مریضوں کی طبی ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہے۔ چترال کے دو اضلاع کی کم و بیش چھ لاکھ کی آبادی کے لیے یہ واحد ہسپتال ہے جہاں اس وقت جملہ ضروری ٹیسٹوں اور سرجری کی سہولیات دستیاب ہیں۔ قابل سپیشلسٹ ڈاکٹرز ہمہ وقت ڈیوٹی پر موجود رہتے ہیں۔ڈیالاسز یونٹ کے اندر بھی جھانکنے کا موقع ملا۔ تین مریضوں کی ڈیالاسز جاری تھی۔ ڈاکٹر اسلام الدین ڈیوٹی پر موجود تھے۔
ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر فیاض علی رومی کے ساتھ ہسپتال کے مسائل کے بارے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بھی مالی مشکلات کے مسلے کو سب سے بڑا مسلہ بتایا۔ انہوں نے کہا منظور شدہ بجٹ میں بھی تخفیف کی گئ ہے جو ہسپتال کی کارکردگی پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔ اس انکشاف پر ہمیں سرکاری کی مریض دشمن پالیسی پر افسوس ہوا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس دور افتادہ علاقے کے واحد بڑے ہسپتال کو بجٹ دیتے وقت تھوڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرے۔ ہسپتال کی ضروریات زیادہ ہیں جب کہ وسائل انتہائی محدود ہیں۔ مخیر حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق ہسپتال کو ڈونیشن کریں تاکہ وارڈوں کے سامنے وزیٹرز کے لیے بنچوں کا انتظام ہوسکے اور ہسپتال کی مزید آرائشی و زیبائش ممکن ہو سکے ۔ 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest