دھڑکنوں کی زبان
محمد جاوید حیات
بس مجھے یہ مسیحا، ڈاکٹر فاروق احمد، بڑا ضدی لگا۔ میری سوچ معاشرے کے استاد، مسیحا اور پولیس کے بارے میں یوں ہے کہ وہ اپنے کردار سے پہچانے جائیں۔ شاگرد استاد سے متاثر ہوں، مریض ڈاکٹر کے حسنِ سلوک اور حوصلہ افزائی سے متاثر ہوں اور جرائم پیشہ پولیس کے مثالی سلوک سے راہِ راست پر آئیں۔
آج ایسا کچھ منظر تھا جب میں ایک کلینک میں باہر بیٹھا ہوا تھا۔ وہاں پر ایک مسیحا کا سلوک بولنے لگا۔ یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ شرافت ایک ایسا تریاق ہے جو غرور کے دائمی مرض کا دشمن ہے۔ غرور انسان کی قد و قامت گھٹا دیتا ہے۔
آج شندور میڈیکل سنٹر میں بیٹی کے دانت کے علاج کے سلسلے میں گیا ہوا تھا۔ مریض دانت کے ڈاکٹر کے آفس میں تھے اور میں باہر بیٹھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر فاروق کا دفتر بھی میرے سامنے تھا۔ جب اس کے دفتر کا دروازہ کھلا تو اس نے شاید مجھے باہر بیٹھے دیکھ لیا تھا۔ ایک مریض کے معائنے سے فارغ ہو کر ڈاکٹر فاروق باہر نکلا۔ میرے سامنے آ کر باادب کھڑا ہوا، میرے ہاتھ پر بوسہ دیا، اور سب سے بڑی بات یہ کہ کہا: تم میرے ابو کے ساتھ زندگی کے خوشگوار لمحات گزار چکے ہو۔
یہ کسی اولاد کا اعلیٰ ظرف اور معیار ہے کہ اسے اپنے والدین کے احترام کا اتنا پاس ہو۔ اللہ کے نبی ﷺ نے والدین کے تعلق داروں، رشتہ داروں اور دوستوں کو بڑی اہمیت دی ہے۔ والدین کے بعد ان کے دوستوں کا احترام بھی والدین کے احترام جیسا ہوتا ہے۔ خوش قسمت اولاد اس احترام کا پاس رکھتی ہے، ورنہ آج کے اس اولڈ ایج ہوم کے دور میں یہ منظر کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
ڈاکٹر فاروق احمد معروف معالج ہیں۔ ان کی مصروف زندگی ہے۔ ہمارے اس مادہ پرست کلچر میں دولت کی دوڑ ہے، اور اکثر انسانیت پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ مگر ڈاکٹر فاروق احمد ان کوتاہیوں سے مبرا محسوس ہوئے۔ ان کا احساس ایک زندہ دل انسان کا احساس ہے، جو اقبال کے “زندہ رود” کی طرح معاشرے میں رواں دواں ہے۔
ہر ڈاکٹر کو چاہیے کہ وہ لطیف احساسات کا شاہکار ہو۔ مریض کے درد کو سمجھے، محسوس کرے، اور اس کی نبض پر ایسا ہاتھ رکھے کہ مسیحائی روح تک اثر کرے۔ اچھا اخلاق، نرم لہجہ اور حوصلہ مریض کے آدھے درد کو کم کر دیتا ہے۔
ڈاکٹر فاروق احمد روایتی مسیحا نہیں، بلکہ خاکساری کی ایک مثال ہیں۔ ان کے دفتر کے باہر اپنی باری کے منتظر مریضوں کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ کون سا منظر ہے، یہ کون آیا ہے کہ آنکھیں چمک اٹھیں۔
مسیحا ضد نہیں کرتے، مگر ان کی یہ ضد تھی کہ ایک بزرگ، ایک والد کے دوست کو عزت دی جائے۔ یہ ضد پوری ہوئی۔
انہوں نے ہاتھ چوم کر عقیدت کا وہ اظہار کیا جو اپنے والد کے ساتھ وابستگی کی خوشبو لیے ہوئے تھا۔ آج بھی اس ہاتھ کی خوشبو دل میں بسی ہوئی ہے، اور دعاؤں کی صورت میں نکلتی ہے۔
میرے خیال میں کائنات کی سب سے بڑی ڈگری انسانیت کی ڈگری ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں غرور، تکبر اور فرعونیت کی گنجائش نہیں۔ یہاں محبت، عقیدت اور احترام کا راج ہوتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ڈاکٹر فاروق احمد محض ڈاکٹر نہیں رہتے، بلکہ ایک انسان بن جاتے ہیں—اشرف المخلوقات کی اصل پہچان کے ساتھ۔

