javed2

غرور کا قبرستان

دھڑکنوں کی زبان

محمد جاوید حیات
دنیا غرور کا قبرستان ہے۔ یہاں پر ہر چیز کو زوال ہے۔ تکبر اللہ کی چادر ہے۔ جو بھی، جس نے بھی اسے چھیننے کی کوشش کی، رسوا ہوا۔ دنیا کی تاریخ اس پہ گواہ ہے۔ بہت پیچھے جائیں، نوح علیہ السلام کی قوم نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کو گھمنڈ تھا۔ اللہ نے طوفان کے ذریعے ان کا گھمنڈ خاک میں ملا دیا۔

ابراہیم علیہ السلام کے لیے مغرور بادشاہ نے آگ تیار کی۔ اس میں بظاہر بے بس بچے کو جھونک دیا۔ بچے کا کچھ نہ بگڑا، دوسری طرف کا غرور خاک میں مل گیا۔ لوط علیہ السلام کو اکیلا سمجھا گیا، مگر دوسری طرف کا غرور تہس نہس ہوگیا۔ فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم پر زمین تنگ کی گئی، مگر کفار کا غرور خاک میں مل گیا۔ قیصر و کسری اپنے غرور میں مست تھے، آخر کو کسری کا تاج فاروق اعظم رض کے پاؤں تلے تھا۔

کئی مغرور بادشاہ آئے، خاک کا رزق ہوئے۔ غرور کا یہ طوفان کبھی مشرق سے اٹھا، کبھی مغرب سے اٹھا، مگر حق، خاکساری، جان فشانی اور مظلومیت کے پہاڑ سے ٹھکرا کر پاش پاش ہوگیا۔
اسلام غرور کو رد کرنے آیا۔ امت کو اس سے منع کیا گیا۔ ان کو سکھایا اور بتایا گیا۔ اس کا سب سے بڑا سبق جنگ حنین تھا۔ کسی صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں احساس برتری کا خیال آیا کہ ہم تعداد میں زیادہ ہیں، دس ہزار سرفروشوں کی فوج ہے۔ اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کے باوجود یہ سبق سکھایا کہ اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین ہو، اپنے آپ سے نہیں۔ یہی غرور قوموں کے زوال کا سبب بنا۔

اسی غرور کی توڑ کے لیے قرآن نے مسلمانوں کو اپنے گھوڑوں کو موٹا کرنے، اپنے ہتھیار درست کرنے، اور اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی، تاکہ دشمن خوف زدہ ہو۔ اسی کا تجربہ امت مسلمہ نے بار بار کیا کہ ان کے اندرونی دشمن کے ہاتھوں ان کا دبدبہ خاک میں ملتا رہا۔ اس میں غرور کا برابر حصہ تھا۔

پہلی اور دوسری جنگ عظیم اسی گھمنڈ کی بنیاد پر لڑی گئیں۔ برصغیر پر انگریزوں کا قبضہ مسلمانوں کی شاہی فخر اور غفلت تھی۔ انگریز سرکار نے اپنے ذہین نمائندے برصغیر بھیجے کہ ان کا طرز حکومت اور کردار کا مطالعہ کریں۔ انہوں نے جا کر شاہی خاندان کی خرمستیاں، غرور اور غفلت کا ذکر کیا۔ انگریز سرکار نے سمجھا کہ ان کا زوال قریب ہے۔ انگریز کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان کا غرور خاک میں مل گیا۔
دو دنیائیں بن گئیں: امریکن بلاک اور رشین بلاک۔ دونوں غرور کے نشے میں مست ہوگئے۔ انھوں نے تاتاریوں اور منگولوں کے طوفان کی یادیں زندہ کیں۔ بھٹو نے مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم میں لانے کی کوشش کی، مگر سب اغیار کے طفیلی تھے۔ انھوں نے تیسری دنیا بنانے کی بھی جدوجہد شروع کی تھی، مگر منظر سے ہٹا دیا گیا۔ رشیا اسی غرور کی بنیاد پر گرم پانیوں کی طرف دوڑا، مگر افغانستان میں اپنے غرور کی قبر خود کھود دی۔ امریکہ کے گھمنڈ نے محسوس کیا کہ میرے غرور کا بت اکیلا رہ گیا۔ انھوں نے چیچنیا، بوسنیا، ویتنام، عراق، افغانستان میں اپنے غرور کی جنگ لڑی، رسوا ہوا۔
اب ایران پر جارحیت کا طوفان اسی گھمنڈ کا شاخسانہ ہے۔ ٹرمپ کہتا ہے، “میں کسی بھی ملک پر کسی بھی وقت چھڑائی کا حکم دوں گا۔” اسرائیل کو اٹیمی ہتھیار رکھنے کی اجازت ہے، خواہ وہ معصوم انسانوں کو بھون ڈالے، مگر ایران خطرہ ہے۔ ایران کو اجازت نہیں۔ ہمارے دشمن بہارت بھی کئی بار اسی غرور کی بنیاد پر ہمیں سبق سیکھانے کے لیے سرحدوں کی طرف دوڑا، مگر سبق سیکھ کر واپس ہوئے۔ دنیا کی ہر طاقت، ہر حکومت اور حکمران کو دنیا کی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے کہ غرور ہمیشہ دفن ہوتا رہا ہے۔
ہمارے فیلڈ مارشل کو بھی کبھی اپنی طاقت، اسباب، اسلحہ اور بہادر فوج پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کو یقین ہونا چاہیے کہ اگر وہ لڑ رہا ہے تو حق کی جنگ لڑ رہا ہے۔ کامیابی حق کے ساتھ ہے۔ مدد حق کے ساتھ ہے۔ حق کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہے۔ ہاتھ ہے اللہ کا، بندہ مومن کا ہاتھ۔
غالب و کار آفرین، کار کشا، کار ساز۔
انشاء اللہ امریکہ کا غرور ایران میں دفن ہو جائے گا۔ اسرائیل کا غرور غزہ میں دفن ہو جائے گا۔ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی۔ ہماری طاقت اللہ پر بھروسہ ہے۔ ہماری فوج کی سرفروشی میں وہ نشہ شامل ہے جو حق، سچ کا نشہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest