داد بیداد
چند سال پہلے یہ بات ناممکن لگتی تھی کہ دنیا امریکہ کو چھوڑ کر آگے بڑھے گی۔ ایک سال پہلے امریکہ نے سلامتی کونسل میں غزہ کے فلسطینی مسلمانوں پر حملے بند کرنے کی قرارداد کو آٹھویں بار ویٹو کر دیا تو چینی نمائندے نے نہایت شائستہ اور جچے تُلے انداز میں کہا کہ “اب وقت آگیا ہے جب دنیا امریکہ کے بغیر آگے بڑھے گی”۔ یہ بات پوری دنیا نے سن لی، مگر کسی کو اس پر یقین نہیں آیا یہاں تک کہ 2026ء کا سال سر پر آیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ اب امریکہ کے بغیر آگے بڑھنا ہوگا۔
آپ اندازہ کریں کہ امریکہ کے خلاف جو آواز ایران، افغانستان، عراق، شام، فلسطین، لبنان، تیونس اور یمن سے اُٹھتی تھی، اب وہ آواز فرانس، جرمنی، برطانیہ، ڈنمارک، گرین لینڈ اور کینیڈا سے اُٹھ رہی ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ امریکہ 38 کھرب ڈالر کا مقروض ہے، جس میں سے 22 کھرب ڈالر جاپان کا قرض ہے، 10 کھرب ڈالر عوامی جمہوریہ چین کا قرض ہے، باقی 6 کھرب ڈالر افریقہ کے دولت مند ملکوں کا قرض ہے، اور یہ قرض امریکہ کی کل معیشت کا 83 فیصد ہے۔ اگر کسی دن امریکہ دیوالیہ ہوگیا تو ڈالر کا بیڑہ غرق ہو جائے گا، اقوام متحدہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر امریکہ کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی، سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت اور ویٹو پاور امریکہ سے واپس لے لی جائے گی۔ یوں دنیا امریکہ کے بغیر آگے بڑھے گی۔
چند ہی سالوں میں یہ کیسے ممکن ہوا؟ اس کے لئے فارسی کے بے بدل فلسفی، حکیم اور شاعر شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی متوفی 1291ء کی لکھی ہوئی حکایت پر غور کرنا ہوگا۔ حکایت یوں آئی ہے کہ ایک غنڈہ شریف لوگوں کو لات مار کر بھتہ وصول کرتا تھا۔ ایک دن اُس نے سعدی شیرازی کو لات مار کر بھتہ مانگنے لگا، بے چارے شاعر نے اُس کا شکریہ ادا کر کے دو چار اشرفیاں اُسے دینے کے بعد شہر کے بڑے رئیس کی طرف اشارہ کر کے کہا، “اُسے لات ماروگے تو بڑی دولت ملے گی”۔ غنڈے نے یہ بات پلے باندھ لی اور موقع پا کر رئیس کو لات مار دی، تو رئیس کے کارندوں نے مار مار کر اس کا کچومر نکال دیا۔ یہی حال امریکہ بہادر کا ہوا ہے۔
اُس نے افغانستان اور عراق سمجھ کر وینزویلا کے صدر پر ہاتھ اُٹھایا، گرین لینڈ کو دھمکی دے دی، ایران اور ڈنمارک کو آنکھ دکھائی۔ پھر یوں ہوا کہ وقت نے پلٹا کھایا، جنوبی امریکہ جاگ اٹھا، چین نے انگڑائی لی، روس اور جاپان نے سر اُٹھایا، کینیڈا کے وزیرِاعظم نے امریکی صدر کو للکارا، سونے کا نرخ بازار میں ڈالر سے دگنا ہوگیا، پوری دنیا میں امریکہ کے خلاف محاذ کھل گیا۔ مسلمانوں کے سوا سب کو یقین آگیا کہ امریکہ کے بغیر دنیا آگے بڑھنے والی ہے۔
مایوسی کے عالم میں امریکہ نے ابراہام کارڈ کا شوشہ چھوڑا جو ناکام ہوا۔ پھر امریکہ نے “فرینڈز آف پیس” کا جعلی منصوبہ پیش کیا، کسی معقول حکومت نے اس پر بھروسہ نہیں کیا۔ آخری حربہ یہ ہے کہ غزہ کی فلسطینی بستی پر امریکی قبضے کے لئے مسلمانوں کی فوج غزہ بھیجی جائے تاکہ یہودی سپاہی کی جگہ مسلمان سپاہی مسلمان فلسطینی سے لڑتے ہوئے مارا جائے۔ مگر چین، یورپ اور افریقہ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ حرف آخر یہ ہے کہ امریکہ کی موجودگی میں امن قائم نہیں ہو سکتا، اگر دنیا میں امن قائم کرنا کسی کا خواب ہے تو یہ خواب امریکہ کے بغیر ہی شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔ چینی قیادت کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ دنیا امریکہ کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہے۔

