گل عدن چترال
یہ بات عجیب ہے مگر اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔چاہے معاملات کچھ بھی ہوں جب تک کوئی بڑا نقصان نہ ہو ہم “بات” کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ یا تو ہمیں نقصان اٹھانے اور پھر رونے دونے کی عادت پڑ چکی ہے یا پھر ہم بے حس اور پتھر دل ہوچکے ہیں۔
چترال کیا پوراملک اسوقت مسائل کا گڑھ بن چکا ہے لیکن کچھ مسئلے مسائل بہت معمولی نوعیت کے ہیں لیکن ذمہ داران کی نااہلی اور بے حسی کی وجہ سے وہ کھبی حل ہوتے نظر نہیں آتے۔ چترال میں جگہ جگہ آپکو خستہ حال پل نظر آئیں گے جو پل کم پل صراط زیادہ ہیں۔جن کی خستہ حالی کا یہ عالم ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔اسوقت میں آپکی توجہ ایک بلکہ دو ناکارہ پیدل پلوں کی طرف دلانا چاہتی ہوں جو روزانہ شہریوں کی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ پل کسی دور افتادہ گاوں میں نہیں بلکہ ایک تو زرگراندہ اور مینہ بازار کے مابین قائم پل اور دوسرا عین ڈی سی آفس روڈ پر واقع ہے نہ صرف ڈی سی آفس بلکہ اسی سڑک پر علاقے کا واحد ہسپتال اور دیگر سرکاری دفاتر ‘سکول اور سرکاری افسران کی رہائش گاہیں بھی اسی روڈ پر واقع ہیں اس لئے یہ پل روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد کے استعمال میں آتا ہے جن میں ہر عمر کے لوگ اور بالخصوص طلبہ بھی شامل ہیں لیکن بد قسمتی سے اس پل کی تعمیر کی نوعیت بوڑھے افراد ‘کمزور دل کے لوگ ‘بیمار اور بچوں کے لئے کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔ اس پل کی غیر محفوظ تعمیر اور عجیب و غریب ڈیزائن ایک ذہنی کوفت میں مبتلا کردیتا ہے۔بہت مجبوری میں یہاں سے گزرنے والے کو پل سے نہیں بلکہ ایک انتہائی خوف اور تناؤ سے گزرنا پڑتا ہے۔تشویش کی بات یہ ہے کہ ماضی میں بھی یہ پل غیر معیاری مواد کے استعمال اور غیر محفوظ تعمیر کی وجہ سے کہیں بار ٹوٹ چکا ہے مگر ہر بار پھر اسی ڈیزائن اور ناقص میٹیریل سے پل کی تعمیر کی جاتی رہی ہے جو انسانی جانوں کے ساتھ ایک کھلم کھلا مذاق ہے۔ایک طرف اس پل کی ناقص تعمیر تو دوسری طرف سونے پہ سہاگہ کے مصداق پل کے اردگرد صفائی کا فقدان کچڑے اور گندگی کا ڈھیر اور بدبو نے نا صرف عوام کی زندگی کو عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ بلکہ ماحولیاتی آلودگی بھی بڑھ رہی ہے جس سے صحت کے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
ذمہ دار اداروں اور متعلقہ انتظامیہ سے درخواست اور یہ مطالبہ ہے کہ کسی حادثے کا انتظار کئے بغیر پل کی ازسرنو تعمیر کی جائے ۔تعمیر میں معیاری اور مظبوط مواد کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔اور سب سے اہم چیز پل کی اس شاہکار ڈیزائن میں تبدیلی اور بہتری لا کر اسے بچوں خواتین اور بزرگوں اور مریضوں کے استعمال کے قابل بنانے کی سنجیدہ کوشش کی جائے ۔۔اور اردگرد کی صفائی کا اہتمام کیا جائے۔ براہ کرم اس پل کی تعمیر کو جلد از جلد یقینی بنائیں کیونکہ یہ مسئلہ صرف ایک عوامی شکایت نہیں ہے بلکہ شہریوں کے جان کی تحفظ کا معاملہ ہے۔

