Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

فلسطین جل رہا ہے

گل عدن چترال
غزہ میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں فلسطینوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ ہر رات دل دہلا دینے والی آوازیں، ہر صبح دل چیڑ دینے والے مناظر روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک ان بیس دنوں میں سات ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جس میں تین ہزار سے زائد بچے اور قریبا دو ہزار خواتین جبکہ چار سو کے لگ بھگ بوڑھے افراد کی تعداد بھی شامل ہیں۔ دو ہزار کے قریب زخمی ہیں جبکہ ان گنت لوگ لاپتہ ہیں۔
روزانہ کی بنیاد پر نجانے کتنی مسخ شدہ لاشیں بغیر شناخت کے دفنائی جارہی ہیں اور نجانے اس تعداد میں اور کتنا اضافہ ہو گا۔ کیونکہ اسرائیل کی بربریت اور جارحیت بڑھتی جارہی ہے فلسطین اسوقت جنگ کا میدان بن چکا ہے اور کوئی عالمی طاقت اسے نہیں روک پا رہا۔ کوئی انسانی حقوق کا ادارہ اس قتل عام کو روکنے کے لیے آگے نہیں بڑھ رہا۔ سپر پاور امریکہ جو خود کو دنیا کا مہذب ترین ملک منواتا رہا ہے۔ اس وحشیانہ  قتل عام میں اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ فلسطین مسلسل جل رہا ہے اور ہم دھواں اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ زندگی اتنی غیر متوقع ہوچکی ہے کہ مائیں اپنے بچوں کے بازوں پر ان کے نام لکھ رہی ہیں تاکہ حملے کی صورت میں اپنے بچوں کی شناخت کو ممکن بنا سکیں۔ پوری دنیا یہ تماشہ دیکھ رہی ہے کہ کسطرح ایک ناجائز اور خونی ریاست اسرائیل نے فلسطینوں پر زندگی اور زمین تنگ کردی ہے۔
ظلم کی یہ تاریک رات طویل سے طویل ہوتی جارہی ہے کیونکہ اسرائیل جانتا ہے کہ اب امت مسلمہ میں کوئی طارق بن زیاد ہے نہ صلاح الدین ایوبی نہ محمود غزنوی نہ محمد بن قاسم جو تلوار کی زور پر اس ظلم کو روک سکے۔ اسرائیلی جانتے ہیں کہ یہ صرف مسلمان کا خون ہے جسے وہ ستر سالوں سے پانی کی طرح بہا رہے ہیں اور عالم اسلام خاموش تماشائی بنا اف تک نہیں کر پارہا۔پچاس سے زائد اسلامی ریاستیں اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں ایک مسلمان قائد ایک مسلمان ملک ایک اسلامی تنظیم بھی ایسی نہیں جو ایک بار ایک عملی قدم اٹھائے اور بزور طاقت دنیا کو بتا سکے کہ مسلمان کا خون نا حق نہیں بہنے دیں گے۔
ایک مسلمان ملک بھی ایسا نہیں جو ظالم کے خلاف ڈٹ جائے۔ ایک طرف عالم اسلام کی خاموشی اسرائیل اور اسکے حمایتیوں کو تقویت بخش رہی ہے تو دوسری طرف فلسطینوں کا جذبہ ایمانی دشمنوں کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے۔ فلسطین کے مسلمان پچھلے ستر سالوں سے “مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی” اور “شیر کی ایک دن کی زندگی  گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے” کی زندہ مثال قائم کر رہے ہیں۔ فلسطین کا بچہ بچہ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے اس دنیا سے جا رہا ہے لیکن ان قیمتی جانوں کی ضائع ہونے پر سوائے افسوس کہ عالم اسلام کچھ نہیں کرسکتا۔ جسطرح ایٹمی طاقت رکھنے کے باوجود ہر بار ہر موقع پر پاکستان اپنی کمزور معیشت کو آر بنا کر فلسطین میں جنگ بندی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا بلکل اسی طرح  اقوام متحدہ کا وجود بھی اسلامی ریاستوں کے حق میں اتنی ہی ناکارہ ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کے سامنے اقوام متحدہ بھی مجبور اور بے بس نظر آتی ہے۔ ایسے میں ذلت و رسوائی کا حق دار ڈیڑھ ارب مسلمان ہی ہیں جو ساری ذمہ داری اپنے قائدین پر ڈال کر خود کو  بری الذمہ قرار دے رہے ہیں اور قائدین ایمان کے اس کمزور تر ین درجے میں ہیں جہاں برائی کو صرف دل میں برا جان کر صرف ایک مذمتی بیان دے کر اپنا حق ادا کر چکے ہیں۔ پاکستانی میڈیا اسوقت یا تو چوبیس گھنٹے کرکٹ میچ کو اسطرح  کوریج کر رہا ہے جیسے دنیا کا پہلا اور آخری میچ ہورہا ہو۔یا پھر یوتھیو اور پٹواریوں کی جنگ عظیم دکھانے میں مصروف عمل ہے اور ریاست مدینہ بنانے والے وہ مجاہدین  بھی جو خان کی ایک کال پر ملک میں فساد پھیلانے کے لئے ہر دم تیار رہتے ہیں’ اسوقت منظر سے غائب ہیں۔ وہ تمام بڑے نام، وہ بڑے بڑے چینلز وہ بڑی  بڑی شخصیات جن کے آواز اٹھانے سے ‘فرق ‘پڑ سکتا ہے وہ سب اسوقت
گونگے بہرے ڈنگروں کا کردار نبھا رہے ہیں انہیں خوف ہے کہ وہ بولیں گے اور انکا دانہ پانی بند ہوجائیگا۔
دنیا کی محبت نے انکے زبانوں پر قفل لگا دیے ہیں۔ لیکن جہاں اسلامی ریاستوں نے اس حد تک  بے حسی اور بے گانگی کا مظاہرہ کیا ہے وہیں ان بیس دنوں میں اسرائیلی جارحیت اور بربریت کے خلاف جو ایک مثبت ردعمل سامنے آیا ہے وہ دنیا بھر کے لوگ ہیں جو فلسطینوں کی نسل کشی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کے لوگ جس میں یہودی اور عیسائی بھی شامل ہیں’ فلسطینوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے، آئے روز جگہ جگہ احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ اب تک بغداد، فرینکفرٹ، بیروت ،سری لنکا، استنبول، عمان بیرلین، ٹورنٹو، پیرس، نیویارک، واشنگٹن،دوہا، سڈنی، بارسلونا، ٹوکیو، ممبئی، تہران، مانچسٹر غرض دنیا کے کونے کونے میں فلسطینوں کے حق کے لئے آواز بلند ہورہی ہے۔ اسرائیلیوں کے خلاف دہشت گردی کے نعرے لگائے جارہے ہیں وہ امریکہ جو اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا آج فلسطینوں کی قتل عام کی حمایت کرکے پوری دنیا میں خود بدترین دہشت گرد ثابت ہو چکا ہے۔ ان جنگی جرائم کی مرتکب اسرائیلی دنیا بھر سے جو نفرت سمیٹ رہے ہیں امریکہ بھی اس میں برابر کی حصہ دار ہے۔
فلسطینوں کی نسل کشی کے پیچھے اسرائیلیوں کا خوف چھپا ہے وہ جان چکے ہیں کہ ڈیڑھ ارب مسلمان ایک طرف اور فلسطین کے مسلمان ایک طرف۔اگر آج بھی صلاح الدین ایوبی  اٹھے گا تو وہ فلسطین کی سرزمین سے ہی اٹھے گا اور اسرائیلیوں کو فرعون کی طرح نشان عبرت بنا دے گا۔انشاءاللہ جو لوگ اسرائیلی پروڈکٹز کے بائیکاٹ مہم میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔اور جواز یہ پیش کر رہے ہیں کہ ہماری بائیکاٹ کرنے سے ان طاقتور ریاستوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو میں ان لوگوں سے صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ان ممالک کو کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں پڑتا مگر آپ کے ضمیر کو فرق پڑنا چاہیے۔بہت آسان ہے سب کچھ حکومت پر ڈال کر بری الذمہ ہونا اور خود کی باری میں ایک برگر کی قربانی ہم نہیں دے سکتے جو ایک غریب ٹھیلے والا بھی بناتا ہے لیکن ہم صرف پیکنگ کی فرق اور بڑے نام کی وجہ سے میکڈونلڈ کو فوقیت دیتے آئے ہیں۔
ایک خونی ریاست کو طاقتور بنانے میں جتنا ہاتھ بائیڈن کا ہے اتنا ہی ہمارا ہے۔ لیکن وہ تمام دو نمبری مسلمان جنہوں نے ساری زندگی رشتوں میں عبادات میں کاروبار زندگی میں دو نمبریاں کیں آج وہ بھی کہ رہے ہیں کہ اسرائیلی پروڈکٹ کا بائیکاٹ کرکے اپنے ملک کی دو نمبر چیزیں کیسے استعمال کریں۔یہ تحریر ان دو نمبری مسلمانوں کے لئے ہرگز نہیں ہے۔ اگر ایک فرد بھی مجھ  سے اتفاق رکھتا ہے تو میں اس تحریر کی توسط سے التجا کرتی ہوں کہ ان تمام پروڈکٹز کا بائیکاٹ کریں جو اسرائیل کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔صرف چند دنوں میں آپکو اندازہ ہوگا کہ ان چیزوں کے بغیر بھی ہماری زندگی اچھی گزر سکتی ہے۔لپٹن کے علاوہ بھی چائے مزہ دے سکتی ہے اور کالے بدبودار دار صابن اس مہنگے واشنگ پاوڈر سے کہیں گنا بہتر ہیں جو ایک خونی ریاست کی طاقت بن رہے ہیں۔
معصوم نوزائیدہ بچوں کے خون سے لت پت وجود ،انکی آنکھوں کا خوف و ہراس اور وحشت انکے لرزتے وجود میرے ضمیر پر ایک بوجھ بن چکے ہیں کہ انجانے میں ہم بھی کہیں نہ کہیں انکے مجرم ہیں۔ وہ آئس کریم ٹرک جو لاشوں سے بڑھ دیے گئے وہ باپ جو اپنے بچے کے جسم کے ٹکڑوں کو ایک شاپر میں ڈالتے ہوئے خوش ہوتا ہے کہ اسے کم از کم اسکے بچہ کے جسم کے کچھ ٹکڑے تو مل گئے ۔وہ مناظر جو ناقابل بیان اور ناقابل برداشت ہیں۔ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد اپنے کانوں سے وہ درد بھری آوازیں سننے کے بعد ہم اس قتل عام کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں؟ اگر ایک شخص بھی فلسطینوں کا درد محسوس کرتا ہے تو ہر طرف اتنی خاموشی کیوں ہے۔تلوار نہیں اٹھا سکتے قلم تو اٹھاو ہاتھ نہیں روک سکتے کم از کم آواز تو بنو یا واقعی جسکا درد اسی کا درد باقی سب تماشائی؟
You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!