غذائی قلت کا خطرہ

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

تین ہفتوں کی بارشوں اور سیلا بوں کے دوران انسانی جانوں کے ضیاع، مال مویشیوں کی ہلا کت، مکانات، باغا ت اور موٹر گاڑیوں کے ساتھ لہلہا تے کھیتوں کی بربادی کےاعداد و شمار ہر روز اخبارات اور ٹی وی پر آرہے ہیں پاک فو ج کے شانہ بہ شانہ سول انتظا میہ اور سماجی تنظی میں لوگوں کی مدد کے لئے دن رات کا م کر رہی ہیں جو بیحد خوش آئیند ہے

اس صورت حال میں پہا ڑی علاقوں کے اندر غذائی قلت کا شدید خطرہ پیدا ہوا ہے اس کی طرف اب تک کسی نے تو جہ نہیں دی کیونکہ بے گھر لوگوں کا انتظام اور کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے غریبوں کو مدد بہم پہنچا نا سب کی اولین تر جیح ہے اس کے بعد دیگر امور کی باری آئیگی جن میں بنیا دی ڈھا نچے یعنی سڑ کوں، نہروں، پا نی کے نلکوں اور دوسری سکیموں کی بحا لی پر تو جہ دی جا ئے گی جو مسئلہ اس وقت نظروں سے اوجھل ہے وہ غذائی قلت کے خطرے کا ہے یہ خطرہ پہاڑی علا قوں میں 8ہزار فٹ سے زیا دہ بلندی پر ایک فصل دینے والی زمینات کا ہے جو کو ہستا ن، سوات، چترال، تیراہ ، پاڑہ چنار اور وزیرستان، سمیت صو بہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے کئی اضلاع میں واقع ہیں ان جگہوں پر ستمبر کے دوسرے ہفتے میں فصل کٹا ئی کے مرحلے میں تھے کہ بارشوں اور سیلا بوں کا آغاز ہوا، تین ہفتوں میں ساری فصل برباد ہوئی نہ انا ج ہاتھ آیا نہ بھو سہ اور چارہ ہاتھ آیا یہ انسا نی غذا کے بحران کے ساتھ ساتھ ما ل مویشیوں کے لئے بھی مشکل صورت حال ہے جس کا سامنا ہے

اگرچہ سردست نقصانات کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں تا ہم 2010کے اعداد و شمار کی رو سے 30لا کھ انسا نی آبادی کو 6مہینے کی خوراک مقا می فصلوں سے حا صل ہو تی تھی ان میں 10فیصد وہ کنبے بھی تھے جو اپنا انا ج چار سالوں تک ذخیرہ کر کے رکھتے تھے اور ضرورت پڑنے پر فروخت کر تے تھے ایک فصل والی زمینا ت سے ان پہاڑی علا قوں میں لا کھوں کی تعداد میں ما ل مویشی پا لے جا تے تھے جن کے لئے سال کے چھ مہینے کا بھو سہ اور چارہ خشک کر کے ذخیرہ کیا جا تا تھا اس سال یہ ممکن نہیں ہوا بارشوں اور سیلا بوں کے نقصانا ت کا جا ئزہ لینے والی ٹیموں کو اس مسئلے کی طرف خصوصی تو جہ دینے کی ضرورت ہو گی پہاڑی اضلا ع میں غذا ئی قلت کے خطرے کا اندازہ لگا نے کے لئے محکمہ زراعت کا ایک شعبہ شما ریات بھی ہے یہ شعبہ ہر سال فصلوں کی پیدا وار کا اندازہ لگا کر اعداد و شمار جا ری کرتا ہے، اگر گذشتہ دس سالوں کے اعداد و شمار کا جا ئزہ لیا جا ئے تو نقصانات کا درست تخمینہ لگا یا جا سکیگا

محکمہ زراعت کی اصطلاح میں پہا ڑی اضلا ع کی ایک فصل والی زمینات کے لئے ’’گذارہ‘‘ کا لفظ مستعمل ہے جو انگریزی کے ’’سب زیس ٹینس‘‘ کا متبا دل ہے ان علا قوں میں لو گوں کے پا س زمینات کے چھوٹے چھو ٹے ٹکڑے ہیں سال کی ایک ہی فصل ہو تی ہے جو مارچ اپریل میں کا شت کی جا تی ہے ستمبر میں فصل کی کٹا ئی ہو تی ہے اگر یہ فصل ہا تھ نہ آئی تو کنبے کے پا س کچھ بھی نہیں ہو تا اس مسئلے کا پیچیدہ اور نا زک پہلو یہ ہے کہ دیکھنے والوں کو جا نی نقصان، گھروں کی تبا ہی کھیتوں کے ملیا میٹ ہونے، سڑ کوں، پلوں، بجلی گھروں اور نہروں کی تبا ہی کی طرح نظر نہیں آتی لیکن مسئلے کی نو عیت نظر آنے والے نقصانات کے برابر تو جہ کا تقا ضا کر تی ہے غذا ئی قلت کے خطرے کو دنیا بھر میں بڑی اہمیت دی جا تی ہے خوراک کے تحفظ کو عا لمی سطح پر فوڈ سیکیورٹی کا نام دیا جاتا ہے اور تر قیا تی منصو بہ بندی میں فوڈ سیکیورٹی کی بڑی اہمیت ہے اس ضمن میں بوڑھوں، بچوں اور خواتین کی خوراک کا خا ص طور پر خیال رکھا جا تا ہے ، اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم عالمی ادارہ خوراک پوری دنیا میں اس بات کا خیال رکھتی ہے کہ آبادی کے کسی حصے کو قدرتی آفتوں کی وجہ سے غذائی قلت کا مسئلہ درپیش نہ ہو اس تناظر میں محکمہ زراعت اور محکمہ خوراک کو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر پہا ڑی اضلا ع کو ہستان، سوات، چترال، تیراہ، پاڑہ چنار، وزیرستان اور گلگت بلتستان میں غذائی قلت کے خطرے کا سدباب کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *