کیا واقعی چترال ایک سیاحتی مقام ہے؟

انہی پتھروں پہ چل کہ اگر آسکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
نجانے شاعر نے یہ شعرکن حالات میں کہا ہوگا لیکن ہم بحثیت چترالی اس شعر کو اپنی حالات کی ترجمانی کے لئے پیش کرسکتے ہیں۔ یوں تو پاکستان سیاحتی مقامات سے مالا مال ہے لیکن اسکے باوجود ہمارے ملک میں  سیاحت ایک صنعت کیوں نہیں بن پاتا یہ جاننے کے لئے صرف ایک چھوٹے سے علاقے چترال کی حالت زار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
کسی بھی علاقے تک بآسانی پہنچنے کا ذریعہ، سڑکیں ہوتی  ہیں۔ چترال میں سڑکوں کی حالت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ دور دراز علاقوں کو چھوڑ کر جب آپ چترال بازار سے گورنر ہاؤس تک کا راستہ دیکھیں جو پیدل چلنے پر دس منٹ کا ہے یہ دس منٹ کا راستہ کھڈوں اور گڑ ھوں  پر مشتمل ہے جس میں کہیں کہیں چار پانچ انچ کی سڑک نما چیز بمشکل نظر آجاتی ہے۔ گڑھے اور کھڈے ایک طرف غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے یہ سڑک ناصرف دن بدن تنگ ہوتی جارہی ہے بلکہ اس تنگ و گداز راستے پر کوڑا کرکٹ کے ڈھیر بھی جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں۔  یہ وہ راستہ ہے جو نا صرف سرکاری افسروں کی گزرگاہ ہے بلکہ سیاحوں کے توجہ کا اہم مرکز برموغلشٹ کو بھی یہی  سڑک جاتی ہےالمیہ  یہ ہے کہ جب گورنر ہاؤس کو جانے والی سڑک کا یہ حال ہے تو باقی علاقے کا کیا حال ہوگا؟
سیلاب کے بعد سڑکوں کی مرمت کا شور ڈالنے والی عوام اور حکمران کھبی بائی پاس روڈ کے علاوہ اپنے اردگرد آنکھیں کھلی رکھ کر دیکھیں کہ سڑکوں کی مرمت کی ضرورت تو وہاں اور بھی زیادہ ہے جہاں پچھلے ستر سالوں میں بھی کھبی سیلابی ریلہ تک نہیں آیا مثلا گورنر ہاؤس روڈ، سرکاری اعر غیر سرکاری دفاتر کا مرکز زرگراندہ ،ہسپتال روڈ، ڈی سی ہاوس روڈ وغیرہ وغیرہ۔
  اور علاقوں کو جوڑتی ہوئی پلوں کو آپ نے کھبی دیکھا ہے ان پلوں کی تعمیر ثابت کرتی ہے کہ انتظامیہ سیاحت کو صنعت بنانے میں کس حد تک سنجیدہ ہے ۔
سڑکوں کے بعد سٹریٹ لائٹس آپکو ڈی سی پارک کے اندر اور بائی پاس روڈ کے علاوہ کہیں بھی نظر نہیں آئیں گے حالانکہ چترال دشوار گزار راستوں کا ایک جال  ہے اور مقامی لوگ خود اپنے مسائل سے آگاہی رکھتے ہوئے بھی  سٹریٹ لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے کہیں مشکلات کا شکار ہیں ۔تو باہر سے آنیوالے مسافر کو کیا کیا مسائل درپیش ہوسکتے ہیں ۔مگر یہ سوچتا کون ہے؟
تیسری چیز ہے صفائی۔ سیاحت کے فروغ کا بنیادی جز۔
چترال کے شور کرتے دریا ندی نالے اور جھرنے بہتے آبشار چترال کی حسن کا اہم ترین حصہ ہوا کرتے تھے کھبی۔ مگر اب چھوٹے سے چھوٹے ندی نالے یا بڑے دریا کے کنارے سوائے ایک تعفن زدہ گندگی کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ آپ کہیں  بھی دریا کے کنارے بیٹھ کر (ماضی کیطرح) خوشگوار سانس لیتے ہوئے چترال کے حسن کا لطف نہیں اٹھا سکتے بلکہ اگر مجبورا کھبی دریا کے قریب سے گزرنا پڑے تو آپکو اپنی سانس  روک کر منہ پر کپڑا رکھ کے گزرنا پڑتا ہے بمشکل کوئی مانے یا نہ مانے یہ دریاؤں کے گرد گندگی کے ڈھیر سیاحت کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اسکے علاوہ حکومتی انتظام کے مطابق ہوٹلز، واش رومز کی تعمیر تو آسان ہے لیکن کیا ان ہوٹلز یا واش رومز میں صفائی کا خیال رکھا جاتا ہے؟ سیاحوں کو چھوڑیں پورے چترال میں خاص کر غیر آباد راستوں میں کیا مسافروں کے لئے پینے کے پانی کا کوئی انتظام آپکو نظر آتا ہے؟ کہیں نہیں۔
گرم چشمہ چترال کی سیاحت کا اہم ترین مرکز۔ باہر سے آنیوالا ہر سیاح سب سے پہلے گرم چشمہ کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں ۔گرم چشمہ جو قدرت کی طرف سے چترال اور پورے پاکستان کے لئے ایک عظیم تحفہ ہے لیکن چترال کی عوام اور انتظامیہ کو اسکی اہمیت کا زرا بھی ادراک نہیں۔ اگر ادراک ہے تو بتائیے۔ وہاں گرم چشموں کے استعمال اور صفائی کے کیا انتظامات ہیں؟ لوگ دور سے ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی دشواریاں سہ کر آتے ہیں تو سب سے پہلے گرم چشمہ کی سیر کو جاتے ہیں یا کہیں لوگ تو صرف اپنی علاج کی غرض سے آتے ہیں لیکن وہاں تعفن زدہ پانی اور غلاظت کا ڈھیرانکا منہ چڑھا رہی ہوتی ہے۔ کیا سیاحت ایسے ترقی کرے گی؟
چوتھی چیز جگہ جگہ طبی  مراکز کا قیام۔ اب طبی مراکز قائم کر بھی دئے جائیں تو وہاں سہولیات کیا ہونگی جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال مقامی لوگوں کو ایمرجنسی کی صورت میں طبی امداد دینے سے محروم ہے۔ روزانہ کتنے ہی لوگ ہسپتال انتظامیہ کے ناقص انتظامات کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہے اسکے باوجود ہم کہتے ہے کہ چترال ترقی کر رہا ہے۔ یہ کیسی ترقی ہے کہ ہمیں آج بھی علاج اور تعلیم کے لئے دوسرے شہر جانا پڑتا ہے؟
بات چاہے سڑکوں کی ہو، سٹریٹ لائٹس کی ہو ہسپتال کی ہو یا صفائی کی اس میں عوام اور انتظامیہ دونوں برابر قصور وار ہیں ۔کسی بھی علاقے کو سیاحتی مرکز بنانے کے لیے  ضروری ہے کہ پہلے وہ علاقہ وہاں کے مقامی لوگوں کے رہنے کے قابل بنا دیا جائے۔ شرم کا مقام ہے کہ چترال میں جب کسی کو تین چار سال کے لئےایم این اے یا ایم پی اے لگا دیا جاتا ہے تو اس مدت میں وہ سب سے پہلے اپنے گھر اور گھر کو جانے والی سڑک پکی کرتے ہیں اسی دوران انکی مدت ملازمت ختم ہو جاتی ہے اور علاقے کے مسائل جوں کے توں رہ جاتے ہیں۔ جب پورا علاقہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، ہسپتال سہولیات سے محروم، گلی کوچوں میں ناجائز تجاوزات پر مشتمل مکانات اور دکانیں جو کسی علاقے کی لاوارث ہونے کا  کھلم کھلا ثبوت پیش کرتے ہیں ایسے میں صرف ایک چمکتا دمکتا گھر اور اسکو جانے والی پکی
صاف ستھری اور کشادہ سڑک ایک سرکاری افسر کے منہ پر طمانچہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔
پھر یہی لوگ نجانے کس منہ سے سیاحت میں فروغ کی بات کرتے ہیں ۔اگر واقعی ہمارے نام نہاد عہدہ داروں کو سیاحت میں فروغ کے لئے کچھ کرنا ہے تو پہلے چترال کو اپنا گھر سمجھیں اور اسے سب سے پہلے  چترالیوں کی رہنے کے قابل بنانے کی کوشش کریں۔ جب گھر اپنے ہی مکینوں کے رہنے کے قابل
نہیں ہوگا تو مہمان کیونکر آئیں گے؟ 
گل عدن

Leave a Reply

Your email address will not be published.