اجتماعی شادی

محبت کا سمندر

دھڑکنوں کی زبان

محمد جاوید حیات

ماں کسی بھی انسان کے لیے ایک سمندر ہے محبت کا ایک دریا۔۔ پیار کا ساگر۔ماں کی ممتا ایک انمول تحفہ ایک انعام اللہ کی طرف سے۔۔ خوش قسمت اولاد ماں کے سائے سے تا دیر محروم نہیں ہوتی جب ہوتی ہے تو محروم ازلی ہے خواہ اس کی کتنی زیادہ عمر کیوں نہ ہو کھوار ادب میں مشہور ہے کہ بچپن میں ماں سے محرومی قدرے بہتر ہے بڑی عمر سے۔۔بڑی عمر میں بچہ بہت بے سہارا لگتا ہے اورغضب کا اکیلا پن محسوس کرتا ہے۔

بشیر حسین آزاد لالہ ایک لحاظ سے بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کی والدین تا دیر ان کے ساتھ رہے انہوں نے ٹوٹ کر ان کی خدمت کی تابعدار اولاد ہونے کا حق ادا کیا۔ان کے والد محترم ان کی دکان میں آکر بیٹھتے اور ان کے کاروبار کی نگرانی کرتے ہم نے بشیر لالہ کو ان کے سامنے جھکتے دیکھا۔

قران نے کہا کہ اپنی رحمت کے پر ان کے سامنے بچھاوں بشیر لالہ اس آیت کی عملی تفسیر تھے۔۔اب کہ ان کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تو ایسے تابعدار اولاد کے لیے یہ بڑا سانحہ ہے یہ درد وہ لوگ محسوس کریں گے جو اپنے والدین سے محروم ہیں۔ بشیر لالہ ایک ہمہ جہت شخصیت رکھتے ہیں۔معروف صحافی ہیں، سماجی کارکن ہیں اچھے کاروباری ہیں لوگوں کی خاموش مددگار ہیں۔ ان کی سب سرگرمیوں کی منزل ان کے والدین تھے وہ اچھے والدین کی شناخت تھے اب بھی ان کی راہوں پہ چلیں گے لیکن اب بشیر لالہ کسی کا انتظار کریں گے۔۔ بیتابی سے اس کا انتظار کرنے والی کوئی نہ ہوگی۔ بشیر لالہ اب ایک مدھم چاند ہے جس کی چاندنی ادھی ہے۔بشیر لالہ اب ایک اداس صبح ہیں جس میں شادمانی کم ہے۔ بشیر لالہ ایک افسردہ شام ہے جس پر رات خاموشی سے اُترتی ہے۔بشیر لالہ اب خشک ہوتے چشمہ ہے جس پر سایہ کرنے والا گھنا درخت نہیں۔بشیر لالہ اب ایک گونگے بلبل ہیں جنہیں اپنی آواز سے نفرت سی ہو۔دنیا کی خوبصورتیاں رنگینیاں اور لذتیں جس ہستی سے وابستہ تھیں وہ اب نہیں۔۔اب بشیر لالہ عمر کے سانچے میں وقت بھرے گا۔ اپنی اولاد کے لیے زندہ رہے گا۔

پھول اب بھی کھلیں گے۔تتلیاں اب بھی آئیں گی۔خزان بہار اپنی باری پہ آئیں گی لوگ ان ایام کے اُلٹ پھیر کو زندگی کا نام دیں گے لیکن ایک خلش ایک کمی جو لالہ کو تڑپائے گی وہ ماں جی کی یاد ہوگی۔ اب لالہ محبت کے سمندر میں غوطہ نہیں لگا سکتا۔یہ زندگی قید بے مصرف لگے گی۔۔۔ اللہ لالہ کو متبادل خوشیاں عطا کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published.