چترال میں خودکشیاں، سرکاری اور عوامی نمائیندے

سید اولاد الدین شاہ
یہ ہار بھی نصیب والوں کو ملتی ہیں۔ ورنہ ہم جیسے بے ربط اور کاہل لوگوں کو شادی کے دن بھی ڈہنگ کا ہار نصیب نہیں ہوتا۔ ایک دلہا میاں کی تصویر کو سوشل میڈیا میں دیکھ کر مبارک باد دی۔ لوگوں کا جم غفیر ایکُ مذہبی رہنما کی سربراہی میں دلہے کی استقبال کے لئے کھڑے تھے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا وہ صاحب کوئی دلہا نہیں بلکہ سرکاری آفیسر تھا۔ جس کی نئی پوسٹنگ ہوئی تھی۔ پھر کل ایک تصویر میں دو اسمبلی ممبران ایک پارٹی عہدیدار کے ساتھ ہار پہنے نظر آئے۔ چلو ہار پہن کر اور پہنا کر دونوں فریق اگر خوش ہیں ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔
بھائی انسان کے دنیا میں آنے کا ایک خاص مقصد ہے۔ اس مقصد کے پورا ہونے کے بعد اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے۔ اس طرح کچھ محرکات انسان کے لئے خوشی اور غم کا باعث بنتے ہیں۔ عام ذبان میں ان کو واقعات کہتے ہیں جو کامیابی، ناکامی یا حادثات کی شکل میں پیش آتے ہیں۔ مجھے ان لوگوں کے خوشی کے اسباب سمجھ میں نہیں آتے۔ کس بنیاد پر یہ لوگ سرکاری ملازمین یا الیکٹڈ ممبران کی خوشامد کرتے ہیں۔
اس مہینے ہمارے اپر چترال میں دو خودکشیاں ہوہئں سوشل میڈیا پر آگیا ہم سب نے مل کر معفرت کے لئے دُعا کی اور بھول گئے۔ ہم کتنوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اُن دونوں نے کن وجوہات کی بنا پر خودکشیاں کیں تاکہ خودکشی کی اصل محرکات اور اُن کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا پتہ چل سکے۔ جس کی وجہ سے یہ دونوں افراد نے خطرناک اقدام اُٹھانے پر مجبور ہوگئے۔
ہمارے معاشرے میں کیا خامیاں ہیں کہ بندہ ہمارے ساتھ زندگی گزارنے سے موت کو ترجیح دیتا ہے؟ کیا ان کے موت میں بیرونی عوامل کا کردار ہے، یا گھریلو مسائل؟ کیا قبل از وقت ان کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کی نشاندہی کرکے ان کی جان بچائی جا سکتی تھی؟ اور کیا آئندہ ہم لوگ ایسے اموات پر قابو پا سکیں گے؟
میری ناقص رائے میں جواب ہے نہیں۔ یہ ایک خالص سماجی مسلہ ہے، ہمارے معاشرے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہم سوئے ہوئے ہیں اور غیر ضروری معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ آج کل سنتھیا کا مسلہ چل رہاہے، ہمارے چترالی بھائی اور پارٹی ورکرز اس مسلے پر بڑے اچھے اور مہذب انداز میں گفتگو کر رہے ہیں جیسا کہ میرا مرشد حضرت علامہ خادم رضوی صاحب ایک دور میں حکومت وقت اور سرکاری عہدیداروں کی عزت افزائی کیا کرتا تھا۔
اور ہمارے ادارے بھی سوئے ہوئے ہیں۔ ہمارے ذمہ داران دلہا بنے پھر رہے ہیں۔ ان کے پاس ٹائم تھوڑی ہے ان فالتو کاموں میں اُلجھنے کا۔ جہاں مارکیٹینگ نہ ہو وہاں وقت ضائع نہیں کیا جاتا۔ کوئی ایک مر گیا کیا ہوا، کونسی آفت آگئی، دفنائیں گے، معفرت کے لیئے دعا کرکے بھول جائیں گے۔ ہم لوگ اجتماعی طور پر صدق دل سے ایسے دعا کرتے ہیں مرحومین کی جنت پکی سمجھو۔ احتیاطی تدابیر کی کیا ضرورت ویسے موت کا دن متعین ہے۔ بھائی خودکشی حرام بھی تو ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.