آمیرالمومینین حضرت علیؑ تاریخ کے آئینے میں

محمد آمین گرمچشمہ

آمیرالمومینین حضرت علیؑ بن آبی طالب بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبدالمناف 13 رجب 610ء کو خانہ کعبہ  میں پیدا ھوا اپؑ وہ بہلے بشر ھیں کہ بیت اللہ میں نہ اپ سے پہلے اور نہ اپ کے بعد اپ کے سوا کوئی اور بچہ پیدا ھوا ۔پیدائیش کے وقت ماں نے اپکا کا نام اسد رکھا اور روایت کے مطابق جناب نبیؐ نے اپ کا نام علی رکھا،اور اپ کا پہلہ دیدار چہرہ نور مسطفیٰ تھا۔اپ کا کنیت ابوالحسن اور القاب ابوتراب،مرتظیٰ اور حیدر کرارتھے ۔اپ جناب ابی طالب کی زیرنگرانی تین سال شیعب آبی طالب میں گذاراتھا کیونکہ کفار مکہ دین الہی کے معاملے میں جناب نبیؐ اور حضرت ابی طالب کے ساتھ مکمل سوشل بایئکاٹ کر لیے تھے۔

جناب آمیروا لمومینین کوسنی اسلام میں چھوتھا خلیفہ رشید کا رتبہ حاصل ھے اور شیعہ اسلام میں واقعہ غد یر خم  کے بعد سے پہلا امام مانا جاتا ہے۔ آپؐ کی فضلیت اور کمال کا اندازا دعوت العشیرہ سے لگایا جا سکتا ہے جب نبیؐ نے ابنے مخصوص اھل خانداں اور ابنے قبیلے کے (جن کی تعداد چالیس تھے) لوگوں کو ابتدائی دعوت اسلام میں جمع کرکے ان کے سامنے ایمان کو بیش کیا اھل کفر و سرکشی کے خلاف ان سے دعوت چاھی ان بر اس کے لیے اس دنیا بر قدرو منزلت اور شرف و ثواب و جنت کے ظامن ھوئے بس کسی نے اپؐ کے اواز بر لبیک نیہں کہا سوائے امیرالمومین کے کسی نے بھی حامی نیہں بھر لی ابؑ نے عرض کیا کہ میں اس آمر میں ابکی مدد کروں گا اور اپؐ کا بوجھ اٹھاوٰں گا ۔ رسول خدا خوش ہوکر کہا کہ اے علی تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی اور وزیر ھو۔

جب نبیؐ کو اللہ کی طرف سے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ملا تو آپؐ نے آمیرالمومینین  کو ہدایت کی کہ تم میرے بستر پر سو جاؤ اور جتنے لوگوں کے امانتین میرے پاس ہیں ان کو لوٹا کر مدینہ پہنچ انا۔علی کرم اللہ وجھہ نے بڑی دلیری سے اپؐ کے بستر مبارک پر بغیر کسی خوف کے سویا اور جب کفار مدینہ کے لوگ جو نبی ﷺ کو (نعوذ بالللہ) قتل کرنے کے ارادے سے رات بھر آپؐ کے گھر کا محاصرہ کر چکے تھے صبح حضرت علی کو آپ کے بستر پر دیکھ کر حیران رہ گئے آپ نے تمام آمانتین لوگوں کو لوٹا کر خیریت سے حضورﷺ کے پاس مدینہ پہنچ گیے۔جب آخوات مدینہ ھوا تو علی مرتظیٰ کو رسول (ص) نے اپنا بھائی بنایا۔

وہ تمام جہاد جس سے اسلام کے اصول ثابت ھوئے اور اس کے ثبوت سے ملت کے شرا ئع اور اور احکام مضبوط ہوئے تو اس میں بھی جناب آمیروالمومینین  علیہ السلام کو خصوصیت حاصل تھا چنانچہ چند غزوات کا تذکرہ ضروری بنتا ہے جس میں اپؑ نے نہایت بہادری سے دین اسلام کا دفاع کیا جس کی نظیر دینا کی تواریخ میں بہت کم ملتے ہیں۔

اسلام کا پہلہ جنگ کفار مکہ کے ساتھ 624ء میں واقع ہوا اور یہ دین اسلام کی بقاء کا معرکہ تھا ۔مسلمانوں کے پاس جنگی سازوسامان اور تعداد کفار کے مقابلے میں بہت کم تھے جیسا ارشاد باری تعالیٰ ہے

جیسا کہ تیرے رب تجھے حق کا ساتھ تیرے گھر (مدینہ) سے نکالا اور بے شک مو مینین کا ایک گروہ اس کو ناپسبد کرتا تھا اور وہ حق میں تجھ سے جھگڑا کرتا تھا بعد میں اسکے وہ واضع ھو چکا تھا گویا وہ موت کی طرف چلا جا رہے تھے اور وہ اس سے دیکھ رھے تھے (القرآن)

جنگ بدر میں جناب حیدر کرار نے بہادری کے وہ جوپر دیکھائے جن سے دینا دنگ رہ جاتی ھے اور آپ کے تلوار سے قریش کے 38 بڑے ناموار پہلواں جہنم رسید ھوئے۔پھر بدر کے بعد ھی جنگ احد ہوا اور اس میں بھی رسول (ص) کا بڑا علم جناب علی کا پاس تھا اور آپ اس میں بھی مخصوص تھا بہتریں آزمائش،صبر اور ثابت قد می کے ساتھ آپ جناب رسولؐ کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور رسول کے معاملے میں وہ اہتمام کیا کہ اسمان سے جبرائیل آمیں بھی آپ کی تعریف میں اواز بلند کی ترجعمہ ،، ذوالفقار کے علاوہ تلوار نیہں اور علی کے علاوہ جوانمرد نیہں،،

جنگ خیبر میں اپؑ کی بہادری اور جوانمردی کسی سے چھپے نیہں جب خیبر کا قلعہ فتح نیہں ہو رہاتھا تو نبی کریمؐ نے فرمایا کہ کل میں علم اس شخص کو دوں گا جس سے  اللہ اور اس کا نبی محبت کرتے ھیں اور وہ اللہ اور اس کے نبی سے محبت کرتا ھے صبح ہوتے ھی رسول اکرم ﷺ نے علم حضرت علی کو عطا کیا اور اپ اپنے معجزاتی طاقت سے قعلہ قموس کا دروازہ اکھاڑ کر رکھ دیا جس کو روایت کے مطابق ستر ادمی اٹھا سکتے تھے  ان کے علاوہ آمیرولمومنین نے جنگ خندق،جنگ حنین،جنگ بنی قریظہ،جنگ وادی رمل غزوہ بنی مصطلق،محاصرہ طائف میں بھی اپنے بہادری کے عظیم کرتب دیکھا دیئے ۔

جب جنگ تبوک میں حضور (ص) نے آمیروالمومنین کو مدینہ کی نگرانی کے خاطر مدینہ چھوڑا اور ساتھ ھی یہ فرمایا کہ اے علی مجھے تیرے ساتھ وھی نسبت ہے جو کہ حضرت موسیؑ کو ہارونؑ سے تھا لیکں میرے بعد کوئی نبی نیہں آئے گا۔

جب فتح مکہ اور اس کے بعد والی جنگوں کے بعد اسلام پھیل گیا اور اس کی سلطنت قوی اور طاقت ور ہوگی اس دوران نبیؐ کے پاس وفد انے لگے جن میں سے بعض مسلمان ھو جاتے تھے اور بعض آمان کے طالب ہوتے تھے تاکہ آپؐ کے رائے جو ان کے معتلق تھی اپنے قوم کے پاس واپس چلے جائیں اس دوران نجران کے عیسائیون کا ایک وفد (جن کی تعداد تیس  تھے) آبو حارثہ بن آسقف کی قیادت میں آپؐ کے پاس ائے وفد میں دوسروں لوگوں کے علاہ عاقب،سید اور عبدا لمسیع شامل تھے ۔وفد نے آپؐ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے سوال کیا اپ (ص) نے فرمایا کہ عیسیٰ اللہ کا بندہ اور رسول ہے مذید نصاری کے حضرت مسیح کے بارے تکرار پر قرآن مجید کا یہ ایات نازل ھوا:

،، پس جو تجھ سے اس کے بارے میں جھگڑا کریں بعد اس کے تیرے پاس علم اگیا ھے تو کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹون کو اور تم اپنے بیٹوں کو ہم اپنے عورتوں کو اور تم اپنے عورتوں کو، ہم اپنے نفسوں کو اورتم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور گؑڑ گڑا کر دعا کرتے ہیں پس جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو،،۔ (سورہ عمران 61)

حضورؐ نے اس ایات کی تلاوت نصاری کے سامنے کی اور انہیں مباہلہ کی دعوت دی اور فرمایا خدا نے مجھے خبر دی ہے مباہلہ ھوا تو باطل پرست پر فورا عذاب ھوگا اور اس طرح حق باطل سے جدا ھوجائے گا۔جب دوسرے دن نبی کرمؐ نے آمیرولمومنین جناب علی،جناب فاطمہ زہرہ ا، جناب حسن اور حسین (س) کو لیکر میدان مبا ہلہ کی طرف روانہ ھوگئے اور

جب نصاری کے وفد نے یہ منظر دیکھا تو آسقف نے اپنے لوگوں سے کہا کہ اگر یہ نورانی چہرے پہاڑ پر پڑے تو بھی ریزا ھو جائینگے ۔خدا کی قسم اگر مجھے قیصر کی قدرو منزلت کا احساس نہ ھوتا تو میں ایمان لے اتا۔لہذا عیسائی جزیہ دیکر لعنت سے بچ گئے۔

واقعہ اھل نجران باجودیکہ نبیؐ کی نبوت کی نشانی اور معجزہ ھے جو آپ کی نبوت پر دلالت کرتا ھے لیکں اس کے ساتھ ساتھ جناب آمیروا لمو مینین کی فضلیت کا بھی بیان لیے ہوئے ھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مباہلہ میں حکم لگا یا ھے کہ آمیروالمومینینؑ رسولؐ کے نفس ہیں۔

جب رسول خداؐ نے حکم الہی آخری حج اور ان آحکام کے ادا کرنے کرنے کا ارادا کیا جو حج میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر فرض کیا تھا اپؐ نے اس کا لوگوں میں اعلان کیا اور مدینہ اور اسکے اقراب سے بہت سے لوگ اپ کی دعوت پر حج بیت اللہ کے پہنچ گئے ۔اس دوران امیروالمومینین یمن میں نبیؐ کے ہدایت پر معدبیات کے خمص نکال رہا تھا حضور نے جناب آمیروالمومینین کو خط لکھا کہ یمن سے سیدھا حج کے لیے مکہ پہنچ جائین۔بحکم نبی جناب علی مکہ کے قریب رسول خدا سے ملا ۔جب نبیؐ نے اپنے مناسک حج پورے کیے اور حضرت علی کو اپنی قربانی میں شریک کیا تو مدینے کی طرف لوٹےاور مسلمان اپکے ساتھ تھےپھر جب مقام غدیرخم پہنچ گئے تو قرآن کا یہ آیت نازل ھوا

،،اے رسول پہنچادے جو تیرے رب کی طرف سے نازل ہوچاکا ہے اگر تو نے یہ کام نہ کیا تو نے فریضہ رسالت ادا ھی نیہں کیا اور اللہ تھجے لوگوں سے محفوض رکھے گا۔

۔( سورہ االمائدا 57)

شیعہ روایات کے مطابق رسول ﷺ نے اس ایت کے نازل ھوتے ھی تمام لوگوں کو اسی میدان میں جمع کیا اور امیروالومینین حضرت علیؑ کا ھاتھ اٹھاکر فرمایا کہ جس کا میں مولا ھوں علی بھی اس کا مولا ھے اور پھریہ دعا کی کہ اے اللہ جو علی سے دوستی رکھے تو بھی اسے دوستی رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ مشہور دینی اسکالر مولانا طارق جمیل نے اپنی کتاب گلدستہ اہل بیت میں لکھا ھے اپؐ اپنے خطبہ میں فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو چیزین چھوڑ کر جارہا ھوں ایک کتاب اللہ اور دوسرے میرے اہل بیت اور ان سے تمسک رکھنا۔

پس اللہ رب العزت کی طرف سے اپ پر فریضہ کے ادا کرنے کی تاکید کی اور معاملات میں تاخیر کرنے سے ڈرایا اور لوگوں کی ازیت رسانی سے بچانے کی ضمانت دی گئی۔شیخ مفید رحمۃ الہہ اپنی کتاب تذکرۃ الاطہار میں لکتھا ھے اس ایت کے نزول سے رسول خداؐ نے غدیر خم کے مقام پر علی کی امامت کا اعلان کردیا ۔کیونکہ مولا کا مطلب آقا یا سردار ھوتا ھے۔

امیروا لومینین کے بہت سے فضائل ھین لیکن ایک دلچسب واقعہ پیش خدمت ھے کہ ابوالجیش ظفر بن محمد نے ابو بکر بن احمد بن ابو ثلج سے اس نے ابوالحسن برقی سے روایت کی ھے اس نے عبدالرحمن بن صالح ازدی اسنے سعید بن خثیمہ سے اس نے اسد بن عبہدہ سے اس نے غفیف بن قیس سے اور غفیف اپنے باپ کے حوالے سے بتایا کہ میں مکہ میں عبا س بن عبدالطلب کے پاس بیٹھا ھواتھا ابھی محدؐ اپنی نبوت لوگوں پر ظاہر نیہں کی تھیکہ ایک جوان ایا اس نے آسمان کی طرف دیکھا جبکہ سورج نصف النہار کے حلقے میں داخل ھوچکا تھا (زوال شروع ھواتھا) اس نے کعبہ کی طرف رخ کی اور نماز پڑنے لگا پھر ایک نو عمر لڑکا ایا وہ اس کے دائیں طرف کھڑا ھو گیا بعد میں ایک عورت اگئی جو دونوں کے پیچھے کھڑی ھوگئی ۔جوان نے رکوع کیا تو لڑکے اور عورت نے بھی رکوع کیےپھر جوان نے سر اٹھایا تو دونون نے بھی ایسے کیے پھر جوان سجدون میں چلا گیا تو وہ دونوں بھی سجدے میں چلے گئے ۔میں نے کہا کہ اے عباس میں عجیب معاملہ دیکھ رھا ھوں  حضرت عباسں نے کہا ھاں یہ ایک عظیم معاملہ ھے کیا تمہیں معلوم ھے یہ لوگ کون ھیں عباس نے کہا کہ یہ نوجوان میرابتھجا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ھے اور یہ نو عمر لڑکا علی بن ابی طالب میرا بتیھجا ھے جبکہ یہ عورت خدیجہ بنت خویلد ھے ۔میرے اس جوان بتیھجے نے مجھ سے کہا ھے کہ اس کے رب جو زمین اور اسمانون کا رب ھےاس سے دین کا حکم دیا ھے جس پر وہ ھے۔ اور خدا کی قسم پشت زمین پر ان تینوں کے علاوہ اس میں اور کوئی نیہں ھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.