تان خشٹاران، تان زپان تان نیگور

4
دیوانوں کی باتیں
 شمس الحق قمرؔ
کتنی خطرناک بات ہے مرد کو مخاطب کرتے ہوئے کسی بچی نے اتنی بڑی بات کہنے کی جسارت کی ہے۔ ایک ایسی بات جو ہمارے معاشرے کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ یہ بات سب کو بری لگی ہوگی اسی لئے بہت سے مرد نوجوانوں نے اپنی مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس بچی کو ظنزو مزاح کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک اور بچی فیفی کے روایت شکن جملے کو بھی انہی خطوط پر اچھالا گیا تھا۔ ہمارے معاشرے کے مرد جوانوں نے “اپنے کھائے ہوئے برتن مانجھو اور اپنے پہنے ہوئے کپڑے خود دھو لو” کے پلے کارڈ پر جتنی گہر ی باتیں کی ہیں یقیاً داد کے مستحق ہیں۔ اُ ن کی تمام باتیں اُن کے “لکھا پڑھا” ہونے کی دلیل ہیں۔ جسکا ذہن کشادہ ہو اور جس پر دنیا کے علم کے تمام دروازے کھلے ہوں وہ انہی خطوط پر سوچتے ہیں۔ لیکن ان سے قطع نظر دنیا میں ایک ایسا بشر بھی گزرے ہیں جسکا اس دنیا میں کوئی ثانی نہیں، جس کے لئے یہ پوری کائینات بنائی گئی ہے اور آپ ﷺ کی شخصیت کے سامنے پوری کائینات ہیچ اور بے معنی ہے۔ آپﷺ کے سامنے ایک مرتبہ ایک شخص حاضر ہوئے جس نے جو کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے وہ میلے کچیلے تھے تو آپ ﷺ نے اُس شخص سے مخاطب ہو کر فرمایا “کیا یہ آدمی اپنے کپڑے دھونے کی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتا؟” یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب عرب قبائل عورت ذات کو اور اُس کے وجود کو اپنے ساتھ توہیں سمجھتے تھے اور نبی کریم ﷺ آہستہ آہستہ انہیں انسانیت کی تعلیم دے رے تھے 
ہم نبی کریم ﷺ کے اسی ارشاد سے اپنی بات شروع کرتے ہیں۔
چترال کی ایک بچی نے یوم خواتین کے موقعے پر جو کہاہے میری نظر میں انکا نعرہ “تان خشٹاران تان نیگور تان زپان تان نیگور“اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے البتہ مدعا کہنے یا پیش کرنے کے انداز میں تندی ضرورہے لیکن بات بالکل درست ہے۔ مزکورہ نعرے کی تشریح کرنے سے پہلے ہم اسلامی تعلیمات اور نبی پاک کی ذات اور معالات کو دیکھتے ہیں کہ رحمت اللعالمین کے زندگی گزارنے کے طور طریقے کیسے تھے اور کیا یہ نعرہ آپﷺ کی زندگی گزرنے کے طور طریقں سے متصادم ہے یا ہم آنکھیں موندھے جو بھی منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں۔ یعنی جو ہمیں درست معلوم ہو وہی درست ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ سے کسی نے دریافت کیا رسول اکرمؐ کی گھریلو زندگی کیسی تھی، آپؐ کے گھریلو معمولات کیا تھے؟ آپؓ نے جواب دیا آپؐ آدمیوں میں سے ایک آدمی تھے، آپؐ اپنے کپڑوں کی دیکھ بھال خود فرمالیتے، بکری کا دودھ خود دوہتے، اپنی ضرورتیں خود ہی پوری کرلیتے، اپنے کپڑوں کو خود ہی پیوند لگاتے، اپنے جوتے کی مرمت خود ہی کرلیتے، پانی کے ڈول کو ٹانکے لگاتے، بوجھ اٹھاتے، جانوروں کو چارہ ڈالتے، کوئی خادم ہوتا تو اس کے ساتھ مل کر کام کرتے۔ مثلاً اسے آٹا پسوا دیتے، اکیلے ہی محنت و مشقت کے کام کرلیتے، بازار جانے میں عار نہ تھا، سودا سلف خود ہی لاتے ۔ اور ضرورت کی چیزیں ایک کپڑے میں باندھ کر خود اٹھا لاتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ آپ اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کرلیاکرتے ،کسی پر بوجھ بننا پسند نہیں فرماتے،اورگھر میں داخل ہوتے تو پہلے سلام کرتے اور ایسا انداز ہوتا کہ سونے والے بیدار نہ ہوں اور جو بیدار ہوں سلام کی آواز سن لیں اگر گھر میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہوتا تو خود انجام دے لیتے۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ آپؐ گھر میں کیسے رہتے تھے؟ آپؓ نے فرمایا: سب سے زیادہ نرم دل، نرم خُو، ہمیشہ مسکرانے والے، خندہ جبیں اور نرم خوئی کی شان یہ تھی کہ کبھی کسی خادم کو جھڑکا نہیں، حق یہ کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی بھی اپنے اہل و عیال کے لیے شفیق نہ تھا۔
مجھے یہ نادر جملے ڈاکٹر علی محمد الصلابی کی لکھی ہوئی سیرت النبی ﷺ سے ملے تھے جو میں نے آپ کے گوش گزار کئے۔ اگر ہمارے نبیﷺ اپنے کپڑوں کی دیکھ بھل خود فرماتے تھے تو ہماری کیا حیثیت ہے کہ ہم اپنے آپ کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کریں کہ جہاں ماں سے تقاضا کریں کہ وہ ہمارے کپڑے دھوئے۔ ہرعورت ماں ہے اور ماں تو وہ ہے جس کے قدموں تلے جنت ہے۔ ہمارے یہاں وہ کونسا گھر ہے جہاں مرد حضرات کھانہ بناتے ہیں ؟ بھائیو! اتنی زحمت تو گوارا کرو یارو کہ ماں اگر کھانہ بنا کے آپ کو دیتی ہے تو آپ کم از کم اُس پلیٹ کو تو صاف کرلیا کرو۔ کپڑے تو اپنے جسم پر آپ ہی پہنتے ہو نا تو پھر اُس کو خود دھو کر زیب تن کرنے میں کیا قباحت ہے۔
نبی پاک ﷺ کا یہ فرمان “کیا یہ آدمی اپنے کپڑے دھونے کی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتا؟” آپ کی نظر اس ارشاد نبوی ﷺ میں کیا کہا گیا ہے؟ کیا اس سے یہ بات بالکل صاف نظر نہیں آتی کہ ہمیں اپنے کپڑوں کو خود دھونا چاہئے ورنہ کیا نبی کریم یہ نہیں فرما سکتے تھے کہ آپ کے گھر میں کوئی عورت نہیں کہ کہ آپ اتنے گندے کپڑے پہنے ہئوے ہو؟ کوئی بھی عورت آخر ایک ماں ہی ہے۔ نو مہینے تک پیٹ میں پال لینا جب تک بچہ رفع حاجت کے اصولوں کا محتاج ہو تب تک اپنے گود میں بٹھا کر اُسے سنبھالا دینا، اچھا کھانا بچے کو کھلاکر خود بھوکا سونا، لمبی راتوں کے پہر در پہر بچے کی ہر کروٹ پر اپنی نیندیں اُچاٹ کرنا یہاں تک کہ پوری زندگی اُسی کے لئے قربان کردینا، کیا یہ سب مذاق ہے کیا اس کا بہتر صلہ یہ ہے کہ ہم ہوش سنبھالنے کے بعد بھی ماں سے کہیں کہ ماں جی میرے کپڑے میلے ہوئے ہیں انہیں ذرا احتیاط سے دھونا۔
ہم شاید عورت کو صرف ایک روپ میں دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عورت انتہائی کمزور ذات ہے جو بھی کہو سہتی ہے اور خاموش رہتی ہے۔ یوم خواتین مناتے ہوئے ہماری ایک بچی کے ہاتھ میں ایک چارٹ پر لکھا ہوا ہے کہ “اپنے کپڑے خود دھولو اور اپنے برتن خود مانجھو” میری نظر میں یہ وہ بات ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے اور مجھے اُن لوگوں سے مشفقانہ اپیل ہے کہ سیرت نبی ﷺ وقت نکال کر پڑھا کریں۔ نبی سے بڑھ کر ہمارا راہنما اور راہبر کوئی نہیں اور یہ بھی دیکھیں کہ آپ ﷺ عورتوں کے ساتھ کس حسن سلوک سے پیش آیا کرتے تھے۔ مجھے معلوم ہے اس مضمون کو پڑھنے کے بعد آپ سیخ پا ضرور ہوں گے مگر میں اپنے بارے میں یہی کہکر آپ سے معزرت کروں گا کہ
؎ یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کولگتی ہے بات بکری ہے
4 Comments
  1. Shamsul Haq Qamar says

    You are right Beta. You have been my student , Barya, if I am not wrong .
    All unnecessary traditions should be stoped. I am happy to see you people are doing well . Stay blessed

  2. Shafqat says

    Excuse me gentleman, let me tell you one thing: you have NO RIGHT to misguide people by qouting one hadith. Pls STOP it. Islam is a complete code of life where the rights of women are fully protected and guaranteed.
    Is there anything which Islam permits which these gurls have started demanding as inscribed in the placrards? Have you read about the lives of the holy Prophet (PBUH)? Have you gone through the life Bibi Fatima? Do you know about the wives of sahaba?
    This is not the issue of the whole society if your husband is not doing your laundary. Deal with the issue at home and sort it out if you want to become his husband – may be you are not happy with the role of a good wife. Or the man who are so curious to become “zan mureed” do go for it but you have no right to spoil rest of the people in society.
    The women day event was something that even women born and brought up in west condemned. The way Pakistani women exposed themelves by displaying these dirty bannes was shameful.
    Who has given these women the right to act in such a bold manner. If they are brave enogh, tell them to go to court to fight for their rights. No one has the right to defame the whole society by acting like this. Tell the. to do whatever she wants in her individual capacity.

    1. Shamsul Haq Qamar says

      Stay blessed and cool shafqat. Thank you very much for reading and commenting on it.

  3. Bariya Shah says

    Thank you sir for writing this article in support of the cause and explaining it in the context of Islam, which I could not be able to do. Also, for not taking it for its face value, although I think there is nothing wrong in it that way either.
    This gives hope!

Leave A Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!