ایون میں گوردوغ کی نیلامی

سوہن ملتان کا ایک ہندو حلوائی تھا۔ ایک دن مٹھائی کے لیے منگوایا جانے والا دودھ پھٹ گیا اور بجائے دودھ کو ضائع کرنے کے سوہن نے تجرباتی طور پر دودھ کو کڑاہی میں ڈال کر آگ پر رکھ دیا۔ جوں جوں دودھ گاڑھا ہوتا گیا سوہن اس میں چمچ ہلاتا گیا۔ دودھ کو مزید گاڑھا کرنے کے لیے سوہن نے اس میں گندم کے آٹے کی کچھ مقدار اور دیگر اجزاء بھی شامل کر دی۔ جب سوہن نے اپنی نئی مٹھائی کو چکھا تواس منفرد مٹھائی کا ذائقہ اسے بہت لذیذ لگا۔ اس نے راہ چلتے لوگوں میں نئی مٹھائی بانٹنی شروع کر دی۔ سوہن نے اتفاقاً بن جانے والی یہ مٹھائی اس وقت باقاعدہ طور پر بنانا شروع کر دی جب لوگ آکر اس سے وہی حلوہ دوبارہ کھلانے کا تقاضا کرنے لگے۔ سوہن کا حلوہ چند دنوں میں شہر بھر میں مشہور ہو گیا اور پاکستان بھر میں یہ حلوہ مشہور ہے اور ایک قسم سے ملتان کی پہچان بنی ہوئی ہے۔
اب ہماری حالت دیکھو کہ صدیوں سے چترال میں بھی حلوہ یعنی شوشپ تیار کیا جا رہا ہے اورجس کی معیار اور لذت کو اگر دیکھا جائے تو سوہن حلوہ سے کئی گنا بہتر ہے مگر ہم نے آج تک اسے مارکیٹ میں نہ لا سکے اور کوشش کرکے ایک بندے نے چترال بازار میں چترالی حلوہ کے طور پر ایک چھوٹا سا اسٹال لگا کر بھیجنا شروع کیا تھا مگر ہماری کم ذہنیت کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ کیونکہ ہم حلال کاروبار کرنے والوں کو طعنہ دیا کرتے ہیں اور اسی ذہنیت کی وجہ سے ہماری روایتی سوغات نایاب سی ہو گئے ہیں۔ کیونکہ ہم میں سے جب کوئی ہمت کرکے اگر یہ کاروبار کرنا بھی چاہے تو ہم اسے کرنے نہیں دے رہے ہیں۔ ہم شوشپ بیزےماک، شُو بیزےماک، پوشپ بیزےماک ، پوست بیزےمال وغیرہ کا طعنہ دیتے ہیں مگر دوسری طرف ہم چرس یا شراب بیزےماک کو عزت اور قدر والے الفاظ سے یاد کرتے ہیں جیسے میاں، گرو، لالہ ، چوہدری وغیرہ۔
یہ بات اٹل ہے کہ جب تک ہم چترال کے روایتی مصنوعات کو مارکیٹ تک نہیں پہنچائیں گے تب تک معاشی ترقی ایک خواب رہے گی۔ اسی لئے ضروری ہے کہ ایسے کاروبار کی حوصلہ افزائی کی جائے جو مقامی سطح پر مقامی مصنوعات سے شروع کیا جا سکتا ہو۔ مگر افسوس یہ ہے کہ آج بھی وہ منفی ذہنیت والے لوگ چترال میں موجود ہیں جو چترال کی مخالفت کر رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے ایک خبر گردش کر رہی تھی کہ “ایونو برارگینی گوردوغو نیلامی کوری تانی” اور لکھنے والے نے اسے ایک دشنام کے طور پر استعمال کیا تھا اور ایک قسم کا طعنہ بن گیا تھا اور اگر دیکھا جائے تو یہی وہ منفی ذہنیت ہے جو لوگوں کو محنت سے دور رکھتی ہے ۔
خدا بس کریں لوگوں کو کام کرنے دیں۔ اگر اسی طرح حلال کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتے رہیں گے تو نوجوان خود بخود غلط راہ راستے پر چلنے پر مجبور ہونگے جو ہم سب کے لئے نقصان دہ ہو گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ امین۔

One Reply to “ایون میں گوردوغ کی نیلامی”

Leave a Reply

Your email address will not be published.