تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال بونی کی حالت زار

 باقی مَاندہ ٹکڑے بتا رہے تھے کہ کسی زمانے میں یہاں دیوار ہوا کرتی تھی-آگے بڑھا تو شمال مشرقی دیوار بھی جگہہ جگہہ ٹوٹی ملی-پھر شمال مغرب کی جانب ڈاکٹروں کے رہائشی مکانات کا نظارہ کیا تو وہ بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے تھے-البتہ ہسپتال کی عمارت سلامت تھی-وہ الگ بات ہے کہ عرصےسےمرمت اس کی تقدیر میں نہیں لکھی تھی-ہسپتال کی عمارت کے اردگرد زمین پر بے ترتیب شجرکاری کی گئ تھی اور خود رو جھاڑیوں کا جنگل بھی اگ آیا تھا جس کی کٹائی اسوقت جاری تھی-

ان کو کاٹنے سے وقتی طور پر ایریا صاف ہوگا لیکن موسم بہار کے آغاز پر اس سے کئی گنا پھراگ آے گا-ان کی بیخکنی کے لیے لینڈ ڈویلپمنٹ کی مد میں کافی رقم کی ضرورت ہے تاکہ مشین کے ذریعے ان کو جڑوں سے اکھاڑا جاسکے- فنڈ شاید نہ ملے جس طرح پہلے ہی سےیہ ہسپتال نظر انداز رہا ہے- کہیں بھی پھول نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی- ایسالگا کہیہاں آکر صحت مند آدمی بھی بیمار پڑسکتا ہے کیونکہ صحت کوتقویت دینے والی کوئی شئے یہاں نہیں ہے-افسوسناک بات یہ ہے کہ گزشتہ 9سالوں سے ایم پی اے بھی بونی سے منتخب ہوتا رہا ہے اور جن کی مبارک نگاہوں کے سامنے ان کے ہسپتال کا یہ حشر ہے تو دور دراز کے کونے کھدروں میں قائم طبی اداروں کی حالت کا ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں-

میں نے ہسپتال کے ایم ایس سے ملاقات کی- اس نے حال ہی میں چارج سنبھالا ہے-ان کا کہنا تھا کہ ایم ایس کے پاس نہ فنڈ ہوتا ہے اور نہ مالی اور انتظامی اختیار ان کو حاصل ہے وہ سواے موجود عملہ کے کام کی نگرانی کے کچھ نہیں کرسکتا ہسپتال کی چاردیواری اورعمارت کو 2015کے زلزلے نے نقصان پہنچایا تھا-اس کے بعد اسکی مرمت کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی- اج حالت یہ ہے کہ رات کو سارے قصبے کے اوارہ کتے یہاں جمع ہوتے ہیں اور الودگی میں اضافہ کرتے رہتے ہیں-ہسپتال کے اندر عملہ سے لے کر مریضوں تک سب کے سب غیر محفوظ حالت میں ہیں-یہ ہم پر اللہ کا کرم ہے کہ چترال میں امن و امان ہے ورنہ اس قسم کے عوامی مقامات میں دہشت گردی کو روکنا ناممکن ہے- جہاں تک ہسپتال میں موجود عملے کا تعلق ہے وہ اور بھی مخدوش ہے-معلوم ہوا کہ ہسپتال میں کل اسامیوں اور حاضر سروس افراد کی تعداد کچھ اس طرح ہے- ڈاکٹرز کل سینکشینڈ پوسٹیں =10،حاضر سروس=6،خالی=4 لیڈی ڈاکٹرزکی کل پوسٹیں=3،حاضر سروس=1،خالی=2 ڈینٹیل سرجن=1،حاضر سروس=0،خالی=1 دسپنسرز کی کل ا آسامیان=8،حاضر سروس =4،خالی=4 کلاس فورکی آسامیاں=16،حاضرسروس=8،خالی=8 خاکروپ کی آسامیاں=3،موجود صرف ایک،خالی=2 جب کہ یہاں مالی اور واشر مین کی کوئی آسام نہیں ہے-

ان حالات کے ہوتے ہوے ہسپتال اور اس کے ایم ایس سے کس قسم کی کارکردگی کی امید رکھی جاسکتی ہے؟کسکے پاس ہےاسکا جواب ،ذرابتا تودیں-اس ہسپتال کی موجودہ حالت زار کی ذمےدار کس پر عائد ہوتی ہے؟اس سوال کا جواب سکرٹری ہیلتھ کے پی ہی دے سکتا ہے یا وزیر صحت بتا سکتا ہے-کیا تبدیلی اسی کا نام ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟-شیم! آج کی خبر کے مطابق پی ٹی آئی کے سربراہ اور وزیر اعلے کے پی نے تحصیل مستوج کو ضلع بنانے کا اعلان کردیا-اگر یہ اعلان فوری طور پر قابل عمل ہے تو آج یہ ہسپتال ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا درجہ پا چکا ہے- ہسپتال کی موجودہ حالت دیکھ کر کوئی امید نظر نہیں آرہی کہ ضلعی مرکزی ہسپتال بننے کے بعد اس میں کوئی کشش پیدا ہوگی- اس وقت ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے لیے رہایش گاہیں نہ دارد-بونی کا درجہ حرارت سردیوں میں منفی پندرہ سے نیچے نہیں اتا. ان حالات میں طبی عملہ کس طرح ڈیوٹی انجام دے پائے گا ؟اس لیےضلع کے اعلان پر بھی کوئی خو شی نہیں ہوئی کیونکہ جب پی ٹی آئی حکومت نے تحصیل کی حالت بدلنے میں ایک فیصد کام بھی نہ کیا ہو تو بغیر بجٹ کے ضلع بناکر کیا تیر مارے گی؟ بقول غالب

“دل کوخوش رکھنے کا غالب یہ خیال اچھا ہے“

2 Replies to “تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال بونی کی حالت زار”

  1. We are confused now.
    When we hear daily same lecture of Mr Imran Khan ten times from different corners of Pakistan, from Sialkot to Garamchashma which is many times re twitted by his party workers like Rafique Jakrani of Sindh to Abdul Lartif of chitral that construction of motorway,bridges,metro and orange train is wastage of national exchequer and a way of corruption.So we become satisfied when we see the broken roads and bridges of chitral that at least there is no corruption in our district so no infra structure development. And the money is being used for humans in the sector of education and health according to the great vision of Khan sb.
    Then we see pictures of a THq /future DHQ hospital of our up chitral, sent by not less than a reliable ex DEO/Principal presenting the scene of a health facility of a war turned country like Afghanistan or Syria.
    Then press conferences of KPK health minister Mr Shahram Tarakai echos in our ears about the successful health reforms in Health deptt leading to surprise of anchors from Punjab and health professionals from outside Pakistan coming back to KPK in search of jobs.
    Can any responsible person from PTI KPK or chitral will tell us where the national exchequer is being used neither in infra structure nor in health.
    Is that development is only in face book where from Mahatir Mohd of Malaysia to Tayab urudgon of Turkey are praising the leadership and planing of Mr Imrarn khan and now the young Saudi crown prince has asked for Arabic translation of Mr Khan’s planning and achievements.
    From the four and half years performance in KPK, PTI might win few seats from urban areas of Punjab and Sindh due to development in facebook but it looks not possible to win even that from KPK.

  2. The above mentioned are all 100 present
    true we need special effort for the
    Hospital which may be DHQ near future
    We thank our great teacher to write on
    This big issue of the region.thanks.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!