ملکی اورغیرملکی قربانی

ظفر اللہ پرواز بونی
 
عید قربان کے اور قریب،دنیا کے ہر گوشے میں رہنے والے مسلمان خوشی کے انتظار میں پیرو جوان، کبیر و صغیر، امیر و غریب سب خوشیاں سمیٹنے میں مصروف ہیں۔ ساتھ ساتھ مصروف با صاحب ثروت افراد کی عید کی خریداریاں اور مویشی منڈیوں میں قربانی کےلیے جانوروں کی چھان بین  اور فٹ پاتوں ،جھومپڑیوں کے باسی بروز عید مفت میں بچوں کے ہمراہ گوشت کا مزہ اڑانے کی آرزو۔غرض ہر کسی کے دامن میں کچھ نہ کچھ خوشی کے خواب ضرور دکھائی دینگے۔اگر چہ کچھ کنجوس صاحب ثروت افراد کو پورا سال گوشت اسٹاک کرنے کے لیے بجلی کی کمی کا خوف دامن گیر ہےلیکن اس کے برعکس اکثر غرباء اس بنا پر بھی خوش ہیں کہ بوجہ کمی بجلی انہیں زیادہ گوشت مل سکتا ہے،
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوام اس بنا پر مشترکہ طور خوشیاں مناتے ہیں کہ رمضان عید کی طرح کوئی طبقہ صوبہ یا گروہ علاحدہ عید نہیں مناتا  بلکہ عید قربان مین فتنہ وشر سے بے نیاز ہو کر صرف ہلال کمیٹی پر اکتفا کرتے ہیں  اور مفتی منیب الرّحمنٰ سے لے کر مولانا پاپلزئی تک ایوان کے وزرا سے لے کر مسجد قاسم علی  خان کے مقتدیوں تک سب صرف ہلال کمیٹی کے اعلان پر محمود وایاز بن کر ایک ہی صف میں کھڑے عید پڑھتے ہیں ،خوشیاں بانٹتے ہیں اور قربانی کاٹتے ہیں ۔
اس دور پراشوب میں علمائے کرام خصوصاً دینی مدارس کے منتظم علماء کو فکردنیا سے بے نیازی کے سبب قربانی کے جانور کی خریداری میں دشواری کا سامنا ہو تو کوئی فکر کی بات نہیں ۔کیونکہ کئی سالوں سے کافی مقدار میں خریداری  قربانی جانور بیرونی امیر ملکوں میں اسلامی برادری سے کثیر رقم موصول ہوتی ہے۔اس کار خیر فکرِ آخرت لو منزل سمجھ کر ہاتھوں میں تسبیح کے دانے سجائے قربان گاہ سے جانور حاصل کرے تو ثواب سمیٹنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی اور دنیا و آخرت کی ایک ساتھ کامیابی حاصل ہوگی ۔دیار غیر کے دینی بھائیوں کے لیے قربانی کے جانور کی خریداری میں دنیا و آخرت سنور جانے کے ساتھ ساتھ ان دیسی جانوروں کے لیے بھی مقام عزت ہے کہ ان کا ایک عدد فوٹو ان دولت مند ممالک کے خاص مقام میں عرصے تک چسپان کیا جائے گا  اور یہ اعزاز پاکستانیوں کی جانوروں کی قربانی کو کہاں حاصل  ہوسکتا ہے ۔اگر چہ پرانے وقتوں کے علماء کسی جانور کی فوٹو گرافی کو گناہِ عظیم سمجھتے تھے لیکن بفضلِ خدا اس بارے میں دور تک کوئی فقہی اختلاف نظر نہیں آتا ہے اور فروغی اختلافات میں پرملا کمی کی بنا پر فسادات میں کمی کا قوی امکان واضح نظر آتا ہے۔
بچپن میں علمائے کرام  سے یہ بھی سنا تھا کہ روز قیامت میدانِ حشر کے مشکل وقت میں قربانی کا جانور قربانی دینے والے کے لیے پرسکون سواری کا کام دیتا ہے ،وہ بکرا یا بکری جو عمر عزیز کے صرف ایک بیار سے لطف اندوز ہو ا ہو ایک فرد کے لیے بخیرو خوبی ٹرانسپورٹ کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں ۔باکلک اسی طرح جس طرح سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا بنایا  ہوا میٹرو بس اسلام آباد اور پنڈی کے درمیان غریب غرباء کے لیے سستی اور آرام دہ سفر کی سہولتیں فراہم کرتی ہیں،البتہ فرق یوں ہوگا کہ میٹرو سستی بسوں کے خلاف غریب دشمن جماعتوں کی طرف سے اعتراضات سننے کو ملتے  ہیں اور بسا اوقات بنی گالہ سے موسیقی میں گالیاں سنائی دیتے ہیں  لیکن میدان ِ حشر میں کسی بھی کفتان کو انگلی اٹھانے کی ان سواریوں پر جرات نہیں ہوگی  وہ نہ صرف آرام سےمیدانِ حشر پار کریں گے  بلکہ پل صراط جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی نوک سے زیادہ تیز ہے موٹروے سے بھی آسان پار کریں گے۔
اس عید میں یہ سننے کے بعد راقم الحروف کو خوشی میسر آئی ہے کہ عیدقربان میں اس کے نزدیکی دارالعلوم  کے لیے پردیسی مسلمان بھائیوں کے نام قربانی کے لیے کثیر رقم موصول ہوئی ہے یہ مژدہ سننے کے بعد مزید تحقیق کی غرض سے راستے میں نکلا توا چانک گاڑی سے  وہی دارالعلوم کیا منتظم پوری آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوا ۔ جس کے ساتح کچھ کارندے بھی تھے ۔خوشی سے ہم سب سلام دعا بھی بھول گئے۔ اچانک مولانا صاحب کی عقابی نگاہیں کھیتوں میں باندھے ہوئے چند مویشیوں پر پڑی تو گاڑی سائیڈ کرکے ان کی جانب  چیتے کی سی پھرتی سے دوڑ لگا دی ۔اس منظر سے مجھے یقین ہوگیا کہ اس عید قربان میں ہم سب کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہونگی۔گھر واپسی میں مولانا صاحب کے انداز کو  خیال کرتے ہی اقبال سیالکوٹی کا یہ شعر بےساختہ زبان سے جاری ہوگیا
 
متاعِ دین و دانش لٹ گئی تقدیر والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ دلسوز ہے ساقی
 
چترال کے باشندے اپنی مخصوص روایات کے پیش نظر خیرات و قربانی وغیرہ وصول کرنے میں جھجک محسوس کرتے تھے لیکن پتہ یہ چلا کہ یہاں کے علما ء جو کراچی میں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوکر وہہاں دوسروں میں علم کی روشنی پھیلانے میں مصروف ہیں  دوسرے علاقوں کے شانہ بشانہ علم کی روشنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ حصولِ خیرات و قربانی لینے میں بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں  اور امید قوی ہے کہ آئیندہ چترال کی عوام بھی ان کے نقش قدم کو اپناتے ہوئے خیراتی اداروں میں جاکے ہاتھ پھیلانے میں عار محسوس نہیں کریں گے اور بوقتِ ضرورت ہاتھ چلانے مین بھی مجاہدانہ کردار ادا کریں گےاور ہماری صفوں سے نکل کر دوسری اقوام کی صفون مین جا شریک ہونگے۔
آخر میں حصولِ قربانی کے ا س کارِ خیر میں قوم وملت کے بہترین مفاد میں ان حضرات سے گزارش ہے جو بیرونی بھائیوں کی قربانی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں دورانِ قربانی اگر میری ان گزارشات پر عمل کیا  تو قوم و ملت کے بہترین مفاد میں ہوگا۔
دیار غیر میں جن مسلمانوں کے لیے قربانی کیا جائے  اس قربانی کی تصویر صاف طور پر واپس طلب کرتے ہیں ہیں اس لیے قصاب بھائیوں پر یہ لازم آتا ہے  کہ قربانی کرتے وقت جانوروں کی مسکراہٹ کے پوز میں تصویر حاصل کرے۔تاکہ بیرونی ملک چسپان کرتے وقت وہاں کے جانور بھی انہیں دیکھ کر رشک کریں اور ایک نہ ایک دن وہ بھی خندہ پیشانی سے قربانی کے لیے اپنا سر پیش کرسکیں ۔مزید اگر گلے میں رسی کو جدید ٹائی کی طرح باندھا جائے تو ہمارے جانور بھی بیرونی دنیا میں  مہذب معاشرے کا  جانور تصور کیے جائیں گے۔
قربانی کے ذمہ داروں پر لازم ہے کہ وہ قربانی کی مد میں حاصل شدہ رقم وغیرہ صیغہ راز میں رکھیں ،بلکہ جانور کو بھی یہ پتہ نہ ہو  کہ کس قیمت پر قربان کیا جارہا ہے ،کیونکہ کسی زمانے میں اولادِ آدم قربانی کا جھگڑا طول پکڑ کر نوبت قتل تک پہنچی تھی۔عین ممکن ہے کہ بشری تقاضے کی وجہ سے  کوئی جھگڑا فساد نہ پھوٹ پڑے۔
عام طور پر پہاڑی افراد چربی سے پرہیز نہیں کرت ۔ڈاکٹروں کی تاکید ہے کہ چربی کی بنا کولیسٹرول اور جسم میں اضافی چربی پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے استعمال سے خصوصاً مولانا صاحبان بے وقت موت کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ خدانخواستہ کوئی عالم اس شکنجے میں نہ آئے ۔اس لیے زائد چربی سے بچ کے رہنا ضروری ہے۔
ذمہ داروں پر لازم ہے کہ گوشت کی تقسیم اگر تھوڑی بہت بھی ہو تو سیاسی چراثیم سے پاک رکھیں اسے سیاست  میں استعمال  کرنا یا ذمہ دار کو الیکشن میں حصہ لینا فتنہ کا سبب  اور نقصِ امن کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ امید ہے تمام طبقہ مل کر ملک و ملت کے مفاد میں  ان گزارشات پر عمل کرے گا

One Reply to “ملکی اورغیرملکی قربانی”

  1. Deep analysis of prevailing social norms of the society, in beautiful mode of presentation. Zafar bhai Eid Mubarak.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *